Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا زیادہ پھل کھانا بھی وزن میں اضافے کی وجہ بن سکتا ہے، ماہرین کیا کہتے ہیں؟

وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے پھلوں کا مناسب مقدار میں استعمال ضروری ہے (فوٹو: گڈ آر ایکس)
کوئی بھی شخص جب وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ شروع کرتا ہے تو عموماً اپنی خوراک میں پھلوں کی مقدار خودبخود بڑھا دیتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ زیادہ پھل کھانا وزن کم کرنے کا یقینی طریقہ ہے۔ اگرچہ پھل وٹامنز، معدنیات اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں لیکن اب یہ سوال بھی زیرِ بحث آرہا ہے کہ کیا پھلوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے یا زیادہ پھل کھانے سے وزن بڑھ سکتا ہے؟
این ڈی ٹی وی کے مطابق پھل اپنی غذائیت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مفید خیال کیے جاتے ہیں۔ اِن میں کیلوریز نسبتاً کم اور ضروری غذائی اجزا زیادہ ہوتے ہیں چنانچہ وزن کم کرنے والی ڈائٹ میں انہیں خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
بہت سے افراد زیادہ کیلوریز والے سنیکس کے بجائے پھل کھا کر اپنی میٹھا کھانے کی خواہش بھی پوری کر لیتے ہیں اور اضافی کیلوریز سے بھی بچ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چپس کا ایک پیکٹ کھانے کے بجائے سیب یا کیلا کھانے سے مجموعی طور پر کیلوریز کی مقدار کم ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر ایک شخص اپنی پوری خوراک پر نظر رکھ رہا ہو۔ تاہم، پھلوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال تکنیکی طور پر وزن میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
فرید آباد کے فورٹس ایسکارٹس ہسپتال کی چیف ڈائیٹیشن کرن دلال وضاحت کرتی ہیں کہ ’پھل وزن کم کرنے والی صحت مند ڈائٹ کا اہم حصہ ہیں کیونکہ اِن سے وٹامنز، معدنیات، اینٹی آکسیڈنٹس اور غذائی فائبر حاصل ہوتا ہے۔ پھل عمومی طور پر غذائی اجزا سے بھرپور تو ہوتے ہی ہیں بلکہ ان میں کیلوریز بھی نسبتاً کم ہوتی ہیں۔‘
تاہم کسی بھی کیلوریز والی غذا کی طرح پھلوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی وزن بڑھنے کا باعث بن سکتا ہے۔ پھلوں میں قدرتی شکر موجود ہوتی ہے اور بڑی مقدار میں پھل اور خاص طور پر زیادہ کیلوریز والے پھل جیسے آم، کیلے، انگور اور چیکو وغیرہ کھانے سے مجموعی کیلوریز کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔
وزن کم کرنے والی ڈائٹ میں پھل کیسے شامل کریں؟
کرن دلال کے مطابق وزن کم کرنے کی کوشش کے دوران زیادہ کیلوریز والی میٹھی اشیا اور پراسیسڈ سنیکس کی جگہ ثابت پھل استعمال کرنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، تاہم دن بھر مسلسل پھل کھاتے رہنا یا صرف اس لیے بڑی مقدار میں پھل کھانا کہ انہیں صحت بخش سمجھا جاتا ہے، وزن کم کرنے کی کوشش میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ثابت پھلوں میں فائبر موجود ہوتا ہے جو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلاتا ہے (فوٹو: این ڈی ٹی وی)

کرن دلال کا مشورہ ہے کہ زیادہ تر بالغ افراد کے لیے روزانہ دو سے تین ثابت پھل ایک عملی ہدف ہو سکتا ہے لیکن یہ مقدار ہر فرد کی کیلوریز کی ضرورت، جسمانی سرگرمی اور مجموعی خوراک کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ وہ موسمی پھلوں کی مختلف اقسام استعمال کرنے، جوس کی بجائے ثابت پھل کو ترجیح دینے اور وزن کو دیرپا طور پر قابو میں رکھنے کے لیے مناسب مقدار کھانے کا مشورہ دیتی ہیں۔
وزن کم کرنے کے دوران پھل استعمال کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
مقدار کا خیال رکھیں: کسی بھی دوسری غذا کی طرح پھل کھاتے وقت بھی پھل کی مقدار یعنی سرونگ کے سائز پر توجہ دیں۔ کوشش کریں کہ آپ کی پلیٹ میں مختلف غذائیں متوازن مقدار میں شامل ہوں۔
جوس کی بجائے ثابت پھل کھائیں: ثابت پھلوں میں فائبر موجود ہوتا ہے جو ہاضمے کے عمل کو سست کرتا اور زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلاتا ہے۔
زیادہ فائبر اور پانی والے پھلوں کو ترجیح دیں: ایسے پھل نسبتاً کم کیلوریز کے ساتھ زیادہ مقدار میں کھائے جا سکتے ہیں اور پیٹ بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔
پروٹین یا صحت مند چکنائی کے ساتھ کھائیں: پھل کے ساتھ پروٹین یا صحت مند چکنائی کا کوئی ذریعہ شامل کرنے سے پیٹ بھرنے کا احساس بڑھ سکتا ہے اور خون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پھل وزن کم کرنے والی صحت مند ڈائٹ کا اہم حصہ ہیں (فوٹو: گڈ آر ایکس)

بے دھیانی میں پھل نہ کھاتے رہیں: صرف اس خیال سے کہ پھل صحت بخش ہیں، انہیں مسلسل کھانے کی بجائے اس بات کا شعوری فیصلہ کریں کہ کب اور کتنی مقدار میں پھل کھانا ہے۔
پھل صحت کے لیے بلاشبہ فائدہ مند ہیں لیکن خاص طور پر وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے انہیں مناسب مقدار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ صرف پھلوں کو توانائی کا ذریعہ بنا لینا اور دیگر غذاؤں کو نظرانداز کرنا بھی غذائی اجزا کے عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے۔

شیئر: