احسن بھون کا کیپٹن صفدر کو 5 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس، جعلی ڈگری یا پلاٹ کا معاملہ، تنازع ہے کیا؟
منگل 29 ستمبر 2026 17:30
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
سینیئر وکیل اور سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن محمد احسن بُھون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔
یہ نوٹس کیپٹن صفدر کی جانب سے احسن بُھون ایڈووکیٹ کی قانون کی ڈگری کو جعلی قرار دینے سے متعلق اُن کے بیانات کے بعد بھیجا گیا ہے۔
احسن بھون کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کیپٹن (ر) صفدر سے 7 روز کے اندر غیر مشروط معافی مانگنے اور مبینہ الزام واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
معافی نہ مانگنے کی صورت میں ان کے خلاف سول اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کا کہا گیا ہے لیکن یہ تنازع شروع کہاں سے ہوا؟
اس پورے تنازعے کی جڑیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے آئندہ انتخابات سے جُڑی ہوئی ہیں جہاں امیدواروں کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا معاملہ حالیہ دنوں میں بحث کا موضوع ہے۔
ستمبر کے تیسرے ہفتے میں کیپٹن (ر) صفدر نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو میں بعض امیدواروں اور سینیئر وکلا کی ڈگریوں کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا۔
23 ستمبر کو سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے ایک امیدوار کی قانون کی ڈگری پر سوال اٹھایا اور اس کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔
اسی گفتگو میں کیپٹن (ر) صفدر نے احسن بھون سمیت بعض معروف وکلا کی ڈگریوں کی بھی جانچ پڑتال کی بات کی۔
احسن بھون اس معاملے میں اس لیے بھی اہم شخصیت ہیں کہ وہ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن رہ چکے ہیں، اس وقت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن ہیں اور ان کا تعلق انڈپینڈنٹ گروپ سے ہے جو سپریم کورٹ بار کے آئندہ انتخابات میں بھی سرگرم ہے۔
کیپٹن صفدر کا مؤقف کیا ہے؟
کیپٹن (ر) صفدر نے بعد میں ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ انہوں نے احسن بھون سے رابطہ کرکے ایک ایسے شخص کو ٹکٹ دینے پر سوال کیا تھا جس کی ڈگری پر ان کے مطابق جعلی شبہ تھا۔
انہوں نے احسن بھون کو جواب دینے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا کہا اور دعویٰ کیا کہ ان کی ڈگری سے متعلق معاملہ پہلے ہی عدالت میں زیرِ التوا ہے۔
کیپٹن (ر) صفدر نے مزید کہا کہ اگر احسن بھون اپنی ڈگریاں پیش کردیں اور وہ درست ثابت ہوں تو وہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔
اسی دوران انہوں نے ایڈووکیٹ احسن بھون کی تعلیم کے حوالے سے بہاولپور میں اُن کی مبینہ مائیگریشن اور داخلے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ انہوں نے اس معاملے سے متعلق دستاویزات جمع کر رکھی ہیں۔
احسن بھون کی طرف سے کیا جواب آیا؟
ایڈووکیٹ احسن بھون نے ان الزامات کو بے بنیاد اور ہتک آمیز قرار دیا اور قانونی کارروائی کا اعلان کیا۔ اب بھیجے گئے قانونی نوٹس میں ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے مارچ 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی تھی۔
نوٹس کے مطابق پنجاب بار کونسل کے ریکارڈ میں احسن بھون کا 1989 میں لوئر کورٹس کے ایڈووکیٹ اور 1992 میں ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر اندراج موجود ہے جبکہ وہ 19 جولائی 2003 کو سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر انرول ہوئے ہیں۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے 21 جنوری 2026 کو ان کی اسناد کی تصدیق کی تھی۔
احسن بھون کے قانونی نوٹس کے مطابق کیپٹن صفدر کی جانب سے ان کی ایل ایل بی ڈگری کو جعلی قرار دینے سے ان کی شہرت، پیشہ ورانہ حیثیت اور قانونی کیریئر کو نقصان پہنچا ہے۔
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محض کسی شخص کے بیان یا الزام کی بنیاد پر کسی ڈگری کی قانونی حیثیت طے نہیں کی جاسکتی اور اگر کیپٹن (ر) صفدر نے اپنا بیان واپس نہ لیا اور غیر مشروط معافی نہ مانگی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کیا کہا؟
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی اس تنازعے میں پیچھے نہیں رہے۔ 28 ستمبر کو گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیپٹن صفدر قابل احترام ہیں لیکن وہ وکیل یا بار کے رکن نہیں ہیں اس لیے انہیں بار کے انتخابات اور معاملات سے دُور رہنا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے احسن بھون کو وکلا برادری میں محترم شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے گروپ کو گذشتہ 10 برسوں میں صرف ایک یا دو بار انتخابی شکست ہوئی ہے اور وکلا برادری میں انہیں اعتماد حاصل ہے۔
انہوں نے انتخابات کے دوران احسن بھون کے بارے میں ہونے والی گفتگو کو ’سستا سٹنٹ‘ قرار دیا۔ ڈگری کے معاملے پر وزیر قانون نے کہا کہ 2020 کے بار انتخابات کے دوران احسن بھون نے خود بار کونسل کے ریگولیٹرز کی ڈگریوں اور کوائف کی تصدیق کا مؤقف اختیار کیا تھا۔
ان کے مطابق چونکہ وہ خود، احسن بھون اور امجد شاہ اس وقت امیدوار تھے اس لیے ان تینوں کی ڈگریوں کی تصدیق ہوئی تھی۔
وفاقی وزیر قانون نے کیپٹن صفدر اور امجد شاہ کے درمیان تنازعے کو ذاتی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مانسہرہ میں پلاٹ کے معاملے سے متعلق ہے اور اسے سیاست کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔
یاد رہے کہ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات قریب ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات 29 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔
انڈپینڈنٹ گروپ (عاصمہ جہانگیر گروپ) نے صدارت کے لیے سید امجد علی شاہ کو امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ حامد خان کی قیادت میں پروفیشنل گروپ نے اس عہدے کے لیے سردار امان خان کو امیدوار بنایا ہے۔
اسی دوران کیپٹن (ر) محمد صفدر نے اپنے گروپ ’قائداعظم محمد علی جناح گروپ‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے اور وکلا کو اس میں شمولیت کی دعوت بھی دی ہے۔