سعودی عرب کے دفاع میں حوثیوں کے خلاف ’ہر ممکن ذرائع‘ استعمال کیے جائیں گے: پاکستان
حال ہی میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے حوثیوں سے دفاع کے لیے ’ہر دستیاب ذرائع‘ استعمال کیے جائیں گے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق منگل کو روم کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان نے یمن میں ایرانی عناصر کے خلاف فضائی حملوں میں حصہ لیا تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے اتنا کہا کہ ’جب میں کہتا ہوں کہ ہم سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس جو بھی ذرائع ہیں وہ سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گے۔‘
ان کے مطابق ’سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گی۔‘
فوجی سربراہان کی حالیہ ملاقات
یہ بیان سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے فوجی سربراہان کی حالیہ ملاقات کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں حوثیوں کے حملوں کے جواب میں ہونے والے اقدامات کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے سات اگست کو مشترکہ مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک اس کو ایک صرف دفاعی معاہدہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کسی خاص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
حوثیوں نے حال ہی میں اہم بندرگاہی شہر مخا اور بحیرہ احمر کے کئی جزائر پر قبضہ کیا ہے جس سے ان کی آبنائے باب المندب تک رسائی برھ گئی ہے، جو ایک ایسی آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تجارت کا قریباً 12 فیصد گزرتا ہے۔
حوثیوں نے عراق میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں اور سعودی عرب کے تیل کے جہازوں کو اس آبی راستے سے گزرنے سے روکنے کی کوشش بھی کی ہے۔
خواجہ آصف نے حوثیوں کو جارح قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے پاکستان کا عزم واضح ہے۔
’یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔‘