Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی دستاویزی تھرلر ’ہینگنگ بائے اے وائر‘ انٹرنیشنل فیچر فلم کیٹیگری کے لیے منتخب

پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے فلم کو انٹرنیشنل فیچر فلم کیٹیگری میں ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
پاکستان نے ہدایت کار محمد علی نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائے اے وائر‘ کو 99ویں اکیڈمی ایوارڈز میں انٹرنیشنل فیچر فلم کیٹیگری کے لیے ملک کی نمائندگی کرنے والی فلم کے طور پر منتخب کرلیا ہے۔
امریکی جریدے ’ورائٹی‘ کے مطابق پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے فلم کو انٹرنیشنل فیچر فلم کیٹیگری میں ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا ہے جو اس کیٹیگری میں کسی دستاویزی تھرلر کے انتخاب کا پہلا موقع ہے۔
 کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن ثنا زہرا جعفری نے اس انتخاب کا اعلان کیا اور اسے پاکستانی دستاویزی فلم سازی کے لیے ’تاریخی سنگ میل‘ قرار دیا۔
’ہینگنگ بائے اے وائر‘ کی ہدایت کاری محمد علی نقوی نے کی ہے جبکہ فلم کی تحریر اور پروڈکشن بھی محمد علی نقوی اور بلال سمی نے کی ہے۔
فلم اگست 2023 میں پاکستان کے شمالی علاقے بٹگرام میں پیش آنے والے چیئر لفٹ حادثے کی کہانی بیان کرتی ہے، جس میں تار ٹوٹنے کے بعد 8 مسافر قریباً 900 فٹ گہری کھائی کے اوپر معلق ہوگئے تھے۔
 ان مسافروں میں 6 سکول جانے والے بچے بھی شامل تھے۔
اس واقعے کے بعد شروع ہونے والے ریسکیو آپریشن کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں براہِ راست دیکھا گیا تھا۔
فلم میں عینی شاہدین کی ویڈیوز، حادثے میں بچ جانے والے افراد کے بیانات اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے افراد کے ساتھ کیے گئے مناظر کی عکس بندی کو شامل کرکے واقعے کی کہانی پیش کی گئی ہے۔

’ہینگنگ بائے اے وائر‘ کا پریمیئر 2026 کے سن ڈانس فلم فیسٹیول میں ورلڈ سنیما ڈاکیومنٹری مقابلے میں ہوا۔(فوٹو:اے پی)

’ہینگنگ بائے اے وائر‘ کا پریمیئر 2026 کے سن ڈانس فلم فیسٹیول میں ورلڈ سنیما ڈاکیومنٹری مقابلے میں ہوا، جس کے بعد اسے ٹرائی بیکا فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا گیا۔
فلم کو ایور ونڈر سٹوڈیو، یونیورسل پکچرز کنٹینٹ گروپ، مائنڈ ہاؤس پروڈکشنز اور 64ویں سٹریٹ میڈیا نے پروڈیوس کیا ہے۔
برطانیہ میں فلم کی تھیٹرز میں نمائش کے حقوق ڈاگ ووف کے پاس ہیں جبکہ امریکا میں تھیٹرز میں ریلیز کی ذمہ داری ابراموراما کے پاس ہے۔ فلم 28 اکتوبر کو پیراماؤنٹ پلس پر بھی ریلیز کی جائے گی۔
اس انتخاب کے بعد بٹگرام ریسکیو آپریشن کی کہانی 99ویں اکیڈمی ایوارڈز کی انٹرنیشنل فیچر فلم کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندہ فلم کے طور پر شامل ہوگئی ہے۔
پاکستان 1959 سے اب تک اس کیٹیگری میں 13 فلمیں بھیج چکا ہے، تاہم کسی فلم کو آسکر کے لیے نامزدگی نہیں مل سکی۔ 
2022 میں صائم صادق کی فلم ’جوائے لینڈ‘ واحد پاکستانی فلم تھی جو اس کیٹیگری کی شارٹ لسٹ تک پہنچی تھی۔
 

شیئر: