پاکستان کرکٹ میں سلیکشن کا ’بدلتا معیار‘، حسن نواز ایک بار پھر مرکزِ نگاہ
پاکستان کرکٹ میں سلیکشن کا ’بدلتا معیار‘، حسن نواز ایک بار پھر مرکزِ نگاہ
بدھ 7 اکتوبر 2026 6:07
حسن نواز کا قومی ٹیم کے ساتھ سفر دراصل پاکستان کی موجودہ سلیکشن پالیسی کی بہترین مثال ہے (فوٹو: کرک انفو)
پاکستان کرکٹ میں تبدیلیاں اتنی تیزی سے ہوتی ہیں کہ کسی کھلاڑی یا کپتان کے مستقبل کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہو گیا ہے۔ سری لنکا کے خلاف آئندہ سیریز کے لیے اعلان کردہ وائٹ بال سکواڈز نے ایک بار پھر یہی تاثر مضبوط کیا ہے۔
کرک انفو کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ سکواڈ کے کئی ارکان کو باہر کر دیا گیا، کپتانی میں ایک اور تبدیلی دیکھنے میں آئی، اور ان تمام فیصلوں کے درمیان حسن نواز کی واپسی نے توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔
حسن نواز کا قومی ٹیم کے ساتھ سفر دراصل پاکستان کی موجودہ سلیکشن پالیسی کی بہترین مثال ہے۔ 2025 کے آغاز میں پاکستان نے اپنی محدود اوورز کرکٹ میں جارحانہ تبدیلی لانے کی کوشش کی۔
اس مقصد کے لیے حسن نواز اور محمد حارث کو اوپننگ میں آزمایا گیا تاکہ پاور پلے اوورز سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ دونوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی پاور ہٹنگ سے متاثر کیا تھا، لیکن نیوزی لینڈ کے دورے میں یہ تجربہ کامیاب ثابت نہ ہو سکا۔
حسن نواز نے سیریز میں ایک شاندار سینچری ضرور سکور کی، لیکن پانچ میچوں کی سیریز میں ان کی کارکردگی غیر مستقل رہی۔ نتیجتاً وہ ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم نہ کر سکے۔ تاہم ان کے کیریئر کا اہم موڑ پاکستان سپر لیگ میں آیا جہاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے انہیں اوپنر کے بجائے مڈل آرڈر میں استعمال کیا۔
یہ فیصلہ ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ حسن نواز نے سیزن میں 399 رنز بنائے اور 162 سے زائد کے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی۔ خاص طور پر نمبر چار پر کھیلتے ہوئے وہ انتہائی خطرناک ثابت ہوئے۔ انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف دھواں دار سینچری اسکور کی اور مسلسل میچز میں جارحانہ بیٹنگ سے ثابت کیا کہ ان کی صلاحیت کا بہترین استعمال مڈل آرڈر میں ہو سکتا ہے۔
پاکستانی ٹیم کو گزشتہ کئی برسوں سے ایسے بیٹرز کی کمی کا سامنا ہے جو درمیانی اوورز میں تیزی سے رنز بنا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ حسن نواز جیسے کھلاڑی سلیکٹرز کے لیے پرکشش آپشن بن جاتے ہیں۔ ان کی بیٹنگ صرف طاقت پر منحصر نہیں بلکہ وہ سپن اور پیس دونوں کے خلاف مختلف شاٹس کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم نئی گیند کے خلاف ان کی کمزوری اب بھی ایک مسئلہ سمجھی جاتی ہے۔
ایشین گیمز میں انڈیا کے خلاف 96 رنز کی یادگار اننگز نے انہیں ایک بار پھر سلیکٹرز کی نظر میں لا کھڑا کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پی ایس ایل کی کامیابی کے بعد پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں بھی انہیں مڈل آرڈر میں آزمایا، جہاں انہوں نے 44، ناقابل شکست 51 اور 26 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیلیں۔ اس مرحلے پر ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ پاکستان کو بالآخر ایک ایسا پاور ہٹر مل گیا ہے جس کی ٹیم کو طویل عرصے سے تلاش تھی۔
لیکن پاکستانی سلیکشن کا مسئلہ یہی ہے کہ یہاں طویل المدتی منصوبہ بندی کم اور فوری ردعمل زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ حسن نواز کو محدود لسٹ اے تجربے کے باوجود ون ڈے کرکٹ میں موقع دیا گیا۔
ابتدا میں انہوں نے متاثر کیا لیکن چند ناکامیوں کے بعد ٹیم سے باہر ہو گئے۔ بعد میں انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے لیے بھیج دیا گیا، مگر چند دن بعد ایک اور کھلاڑی کے زخمی ہونے پر دوبارہ قومی سکواڈ میں بلا لیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔
اب ایشین گیمز میں انڈیا کے خلاف 96 رنز کی یادگار اننگز اور بنگلہ دیش کے خلاف عمدہ کارکردگی نے انہیں ایک بار پھر سلیکٹرز کی نظر میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ٹی20 اور ون ڈے دونوں سکواڈز میں شامل کیا گیا ہے۔
فی الحال حسن نواز کے پاس اپنی جگہ مستقل بنانے کا سنہری موقع ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم اصل سوال اب بھی موجود ہے۔ کیا حسن نواز واقعی پاکستان کے مستقبل کا حصہ ہیں یا یہ صرف ایک اور عارضی فیصلہ ہے؟ پاکستان کرکٹ کی حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ کھلاڑیوں کو جلد مواقع دیے جاتے ہیں اور اتنی ہی جلد نظر انداز بھی کر دیا جاتا ہے۔
فی الحال حسن نواز کے پاس اپنی جگہ مستقل بنانے کا سنہری موقع ہے۔ لیکن ان کی واپسی سے بھی بڑا مسئلہ پاکستان کی سلیکشن پالیسی ہے، جو اب بھی مستقل مزاجی کے بجائے آزمائش اور تجربات پر انحصار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جب تک یہ رویہ تبدیل نہیں ہوتا، حسن نواز جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کا مستقبل غیر یقینی ہی رہے گا۔