Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب اور جی سی سی رہنماؤں کی سعودی ایئرپورٹس پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت

اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حملوں کا جواب دیا جائے گا (فوٹو: ایس پی اے)
عرب ممالک اور علاقائی تنظیموں نے سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جن میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
عرب نیوز کے مطابق علاقائی تنظیموں نے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
ان حملوں میں یمن کی سرحد سے ملحقہ صوبے عسیر میں ابھا انٹرنینشل ایئرپورٹ اور ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق ابھا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں دو خواتین جان سے گئیں جن میں سے ایک مراکش جبکہ دوسری الجزائر کی رہائشی تھیں جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ کنگ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک سوڈانی شہری ہلاک ہوا اور آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان حملوں کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی ہے۔

بحرین اور اردن کی مذمت

بحرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور مسافروں و کارکنوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ایک مجرمانہ اقدام اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بحرینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق سعودی عرب کی سلامتی بحرین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی سلامتی کا بھی اہم حصہ ہے۔
اردن نے ان حملوں کو سعودی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کی سلامتی و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان فواد المجالی نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردن اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

جی سی سی کی جانب سے حوثیوں کے حملوں کو ’دہشت گردی کی کارروائیاں‘ قرار دیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

شام اور مصر کا اظہار یکجہتی

شام اور مصر نے بھی حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
شامی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دمشق سعودی عرب کی سلامتی، علاقائی سالمیت اور شہری تنصیبات کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں مملکت کے ساتھ ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے۔
بیان کے مطابق ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور شہریوں و شہری مقامات کے تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے حملوں سے شہری ہوابازی کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
اسی طرح مصر کی وزارت خارجہ نے حوثیوں کے حملے فوری طور پر روکے جانے اور خطے کی سلامتی و استحکام کے تحفظ کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مصری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق سعودی سرزمین پر حملوں میں اضافہ اور مملکت کی سلامتی کو لاحق خطرات پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا (فوٹو: ایس پی اے)

خلیجی تعاون کونسل کی بھی مذمت
خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی جانب سے بھی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے ان کو ’دہشت گردانہ حملے‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ان کے مطابق ’جی سی سی ممالک سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کو لاحق خطرات کے خلاف مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
دہشت گردی کی کارروائی ہے: مسلم ورلڈ لیگ
مسلم ورلڈ لیگ نے بھی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔
تنظٰم کے جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری جنرل اور چیئرمین شیخ محمد بن عبدالکریم نے حملوں کو دہشت گردی کی کارروائیاں قرار دیا ہے جو مذہبی اقدار، بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
عرب وزرائے داخلہ کا اظہار افسوس
عرب وزرائے داخلہ کونسل کے جنرل سیکریٹریٹ نے بھی حوثیوں کی جانب سے بار بار ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب میں شہریوں اور شہری املاک کو نشانہ بنائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

شیئر: