حوثیوں کا عدن ایئرپورٹ پر حملہ، بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی
حوثیوں کا عدن ایئرپورٹ پر حملہ، بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی
بدھ 7 اکتوبر 2026 21:39
حوثی باغیوں نے اس وقت عدن ایئرپورٹ پر حملہ کیا جب یمنیہ ایئرویز کی ایک پرواز کی لینڈنگ میں صرف چند منٹ ہی باقی تھے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بدھ کے روز یمن کے جنوبی شہر عدن میں واقع بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ عدن ملک کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا دارالحکومت ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا جب مغربی یمن کے کئی محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے۔
یہ کئی برس بعد عدن ہوائی اڈے پر ہونے والا پہلا حملہ ہے۔ عدن کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق حوثیوں نے ہوائی اڈے پر دو بیلسٹک میزائل اور کئی ڈرون داغے۔ یہ میزائل اُس وقت رن وے کے قریب گرے جب یمنیہ ایئرویز کی ایک پرواز کی لینڈنگ میں صرف چند منٹ ہی باقی تھے۔
وزارت نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے سے ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والی پروازوں میں سوار بیسیوں مسافروں کے علاوہ ہوائی اڈے کے عملے اور ٹرمینل میں جدہ جانے والی پرواز کی روانگی کے منتظر مسافروں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔
وزارت کے مطابق یمنی حکام نے قاہرہ سے عدن آنے والی یمنیہ ایئرویز کی پروازوں کا رُخ جدہ کی جانب موڑ دیا، جبکہ دو طیاروں کو بھی ہوائی اڈے سے نکال کر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، کیوں کہ خدشہ تھا کہ حوثی ڈرونز انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس دوران حوثی ڈرونز شہر کی فضا میں منڈلاتے رہے۔
یمنی حکام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شہری تنصیبات کو تنازع سے دور رکھا جائے تاکہ وہ ملک بھر کے لوگوں کی خدمت جاری رکھ سکیں، جن میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے شہری بھی شامل ہیں۔
عدن کے ہوائی اڈے پر حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا جب آبنائے باب المندب کے قریب، تعز شہر کے مضافات اور تعز کے مغربی شورش زدہ اضلاع میں یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے۔
حکومت نواز فورس جائنٹس بریگیڈز نے کہا کہ ذوباب ضلع کے ہوائی اڈے پر تعینات فورسز نے بھی حوثیوں کا ایک حملہ ناکام بنایا، جس کے نتیجے میں حملہ آور پسپا ہونے اور دو فوجی گاڑیاں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
حکومت کی جانب سے پیر کے روز حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ’فجرالیمن‘ کے نام سے جوابی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد جائنٹس بریگیڈز نے باب المندب کے یمنی سرزمین کے قریبی ترین زوباب ضلع کو موخا شہر سے ملانے والی مرکزی شاہراہ محفوظ بنا لی ہے۔ یہ کئی ماہ تک ملک کے مغربی ساحل پر مسلسل ناکامیوں کے بعد حکومتی فورسز کی پہلی بڑی فوجی کامیابی ہے۔
تازہ ترین کشیدگی شروع ہونے کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر دو لاکھ ایک ہزار 217 ہو گئی ہے (فوٹو: یو این ایچ سی آر)
حوثیوں کی جانب سے شاہراہ دوبارہ کھولنے، زوباب کے ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے یا وہاں موجود اپنی فورسز کے گرد ہوا محاصرہ توڑنے کی متعدد کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کی جانب سے فراہم کی جانے والی بڑے پیمانے پر فضائی معاونت نے بھی حوثیوں کی اِن کوششوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے بدھ کے روز بتایا کہ تازہ ترین کشیدگی شروع ہونے کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر دو لاکھ ایک ہزار 217 ہو گئی ہے۔ ستمبر کے آخر میں یہ تعداد تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار اور ستمبر کے وسط میں 76 ہزار تھی۔