Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض میں سٹیم سیل تھیرپی کانفرنس: ماہرین خلیاتی اور جینیاتی علاج پر تبادلۂ خیال کریں گے

الفیصل یونیورسٹی نے ستمبر 2025 میں ریاض میں پہلی بین الاقوامی سٹیم سیل تھیرپی کانفرنس کی میزبانی کی تھی (فوٹو: ایس پی اے)
محققین اور طبی ماہرین 23 اور 24 اکتوبر کو ریاض کی الفیصل یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی دوسری سٹیم سیل تھیرپی کانفرنس میں جائزہ لیں گے کہ خلیاتی اور جینیاتی علاج کو کس طرح طبی علاج میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ’سٹیم سیل تھیرپی: اے پیراڈائم شفٹ اِن ٹریٹمنٹ اینڈ اِٹس رول اِن ریجنریٹیو میڈیسن‘ کے عنوان سے ہونے والی اس کانفرنس میں محققین، ڈاکٹرز، ماہرین اور انوویٹرز شرکت کریں گے۔
سائنسی پروگرام میں سٹیم سیل بائیولوجی، جسم میں دوبارہ نشوونما کے طریقۂ کار، خلیاتی علاج اور کلینیکل ٹرائلز شامل ہوں گے جن میں علاج کی حفاظت اور مؤثریت کے معیارات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
سیشنز میں جین تھیرپی، سیل انجینیئرنگ اور جین میں تبدیلی کی جدید ٹیکنالوجیز، جن میں ’کلسٹرڈ ریگولرلی انٹر سپیسڈ شارٹ پیلن ڈرومک ریپیٹس‘ بھی شامل ہے، کا جائزہ لیا جائے گا۔
لائف سٹائل کے مطابق علاج اور جینومکس بھی کانفرنس کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔ ماہرین اس بات پر گفتگو کریں گے کہ جینیاتی معلومات کی مدد سے مریضوں کا انتخاب اور ان کے لیے مناسب علاج کیسے تجویز کیا جا سکتا ہے۔
شرکا خلیاتی اور جینیاتی معلومات کا تجزیہ کرنے اور تحقیق و ترقی میں مدد کے لیے مصنوعی ذہانت اور بائیو انفارمیٹکس کے کردار کا بھی جائزہ لیں گے۔
کانفرنس میں سائنسی دریافتوں کو عملی علاج میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر بات ہوگی۔ اس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، دانشورانہ ملکیت کا تحفظ، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی تیاری اور بڑے پیمانے پر پیداوار بڑھانے کے امور شامل ہیں۔
الفیصل یونیورسٹی نے گزشتہ سال ستمبر میں ریاض میں پہلی بین الاقوامی سٹیم سیل تھیرپی کانفرنس کی میزبانی کی تھی۔
اس کانفرنس کی سائنٹفک کمیٹی کی سربراہی کنگ عبداللہ انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ سینٹر کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر پروفیسر احمد العسکری نے کی تھی۔
کمیٹی میں الفیصل یونیورسٹی کے شعبۂ طب کے ڈین اور نیشنل سٹیم سیل کمیٹی کے سربراہ پروفیسر خالد مناع القطان بھی شامل تھے۔
کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی عرب میں خلیاتی علاج کی مقامی تیاری میں پیشرفت ہو رہی ہے۔
جون 2024 میں کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر مملکت کا پہلا ہسپتال بن گیا جس نے مقامی طور پر علاج کے لیے ’ٹی سیلز‘ تیار کیے۔
اس پیش رفت سے ’کار ٹی‘ علاج کا خرچہ تقریباً 80 فیصد کم ہو گیا جو 13 لاکھ سعودی ریال سے کم ہو کر تقریباً دو لاکھ 50 ہزار سعودی ریال رہ گیا۔

شیئر: