Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجران میں مٹی کے روایتی مکانات اور محلات، فنِ تعمیر کی ثقافتی شناخت

معماروں نے سادہ سی مٹی کو ثقافتی شناخت میں تبدیل کردیا ( فوٹو: ایس پی اے)
نجران ریجن میں مٹی اور گارے سے بنے قدیم مکانات اور محلات تعمیرانی مہارت کے شاہکار ہیں جہنوں نے سادہ سی مٹی کو ثقافتی شناخت میں تبدیل کر دیا۔
ایس پی اے کے مطابق یہ عمارتیں محض رہائشی مقام ہی نہیں رہیں بلکہ وقت کے ساتھ فن پاروں کی شکل اختیار کر گئیں ہیں۔ دیواروں، دروازوں اور کھڑکیوں پر بنے منفرد جومیٹریکل ڈیزائن، آرائشی پٹیاں اور مخصوص تکون نما نقش و نگار مٹی کی دیواروں کی یکسانیت کو ختم کرکے انہیں گہرائی اور بصری حسن عطا کرتے ہیں۔
روایتی تعمیرات کے ایک ماہر ناصر مبارک نے بتایا کہ آرائش کا مقصد صرف خوبصورتی ہی نہیں تھا بلکہ ان میں عملی پہلو شامل تھے۔ نجرانی معمار مٹی کو بھوسے یا زیادہ مضبوط اور باریک مادے کے ساتھ ملا کر پائیدار تعمیراتی مواد تیار کرتے تھے تاکہ اندرونی خوبصورتی نمایاں ہونے کے ساتھ عمارت کو بارش سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔
عمارتوں میں نجرانی نقوش میں گرم اور دلکش رنگوں کا استعمال نمایاں ہے جن میں سرخ، سبز، زرد اور سیاہ رنگ شامل ہیں۔ یہ رنگ بڑی حد تک اردگرد کے قدرتی ماحول سے حاصل کیے جاتے تھے۔
مثال کے طور پر برسیم کو ابال کر اس سے سبز رنگ تیار کیا جاتا ہے جبکہ سرخ رنگ کے لیے انار اور آئرن آکسائیڈ سے بھرپور بعض چٹانوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور سیاہ رنگ بعض مخصوص پودوں سے حاصل ہوتا تھا۔

اس کے علاوہ قدیم تجارتی راستوں کے ذریعے بھی عمارتوں میں استعمال کیے جانے والے نایاب اور منفرد رنگ پہنچتے تھے۔
روایات کے مطابق نجران کی خواتین خاص طور پر لڑکیاں گھر کے اندرونی حصے کو رنگ برنگے نقش و نگار سے سجاتی تھییں جو نہ صرف ان کی مہارت کا ثبوت تھا بلکہ گھروں کی خوشحالی کی بھی عکاسی کرتا تھا۔

نجران ریجن میں پائے جانے والے قدیم مٹی سے بنے مکانات میں موجود یہ نقوش اور تصاویر محض آرائش ہی نہیں بلکہ تاریخی اور فنی دستاویزات بھی ہیں۔ مقامی مٹی، قدرتی رنگوں اور تخلیقی صلاحیتوں سے وجود میں آنے والی یہ آرائشیں نجرانی شہریوں کی تعمیراتی ذہانت کی بھی عکاس ہیں۔
آج یہ قدیم مکانات اور محلات سیاحتی مقامات کی صورت اختیار کررہے ہیں اور صدیوں پرانی میراث کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جہاں فنِ تعمیر، فطرت اور انسانی تخلیق نے مل کر عام سی مٹی کو لازوال شاہکاروں میں بدل دیا ہے۔

 

شیئر: