ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سنیچر کی سہ پہر ہونے والے نئے حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ آپریشنل سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردی گئیں۔
سعودی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بیان میں کہا کہ مملکت میں سول ایوی ایشن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نئے حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ درست تعداد کا فی الحال تعین کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایئرپورٹ پر آپریشنل سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں تاکہ مکمل نقصان کا جائزہ اور تنصیات کی سیفٹی کی تصدیق کی جا سکے۔
ایس پی اے کے مطابق اتھارٹی نے کہا کہ متعلقہ حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد مزید اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔
قبل ازیں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے سنیچر کو مسافروں کو روانگی سے قبل اپنی ایئر لائن سے رابطے کی ہدایت کی تھی ۔
ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں مسافروں سے کہا گیا کہ ’وہ ایئرپورٹ آنے سے قبل اپنی ایئرلانن سے براہ راست رابطہ کرکے پرواز کے سٹیٹس کی تصدیق کریں۔‘
یہ ہدایت اس وقت دی گئی ہے جب جمعرات کو ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں ایک پائلٹ سمیت تین افراد جان سے گئے۔
اس سے قبل کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک سوڈانی شہری کی موت واقع ہوئی جبکہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے جانے والے حملے میں دو خواتین جان سے گئیں۔
حوثیوں کے ان حملوں کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے ایران کے حمایت یافتہ اس گروپ پر سول انفرا سٹرکچر پر حملے بند کرنے پر زور دیا گیا۔جمعے کو یمن میں قانونی حکومت کی خودمختاری کی حمایت کرنے والے اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ اس نے حوثی ملیشیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کی ہیں۔ ان حملوں میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں 136 فوجی اہداف تباہ کرد یے گئے۔