Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امیتابھ بچن کی 84 ویں سالگرہ پر خراج تحسین کے ساتھ ٹرولنگ بھی، معاملہ کیا ہے؟

امیتابھ بچن آج 84 ویں سالگرہ منا رہے ہیں (فوٹو: انڈین میڈیا)
انڈیا کی وزارت اطلاعات و نشریات نے بالی وڈ کے ’شہنشاہ‘ امیتابھ بچن کے لیے ان کی 84ویں سالگرہ پر ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
’میلینیم کے عظیم فن کار جن کی نسلوں سے آواز جانی پہچانی ہے، ان کے کردار ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی شخصیت اپنے اندر ایک جہان کو سموئے ہوئے ہے۔ پردۂ سیمیں سے کروڑوں دلوں تک، امیتابھ بچن کا سفر محض شہرت کی داستان نہیں، بلکہ ایک ایسے جذبے کی کہانی ہے جس نے نسلوں کے درمیان سرحدیں عبور کی ہیں۔ دہائیاں گزر گئیں، نسلیں بدل گئیں، مگر ان کے فن کا جادو آج بھی برقرار ہے۔‘
انہیں اس پوسٹ میں ’انڈین سنیما کی روح کا لازمی حصہ‘ قرار دیا گیا لیکن بہت سے صارفین نے سوشل میڈیا پر ان کی ایک پرانی پوسٹ ڈال کر انہیں ان کی موجودہ خاموشی پر ٹرول بھی کیا۔
11 اکتوبر 2026 کو امیتابھ بچن نے اپنی زندگی کے 84 برس مکمل کر لیے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط فلمی سفر، سب سے نمایاں گرجدار دار آواز، منفرد اندازِ اداکاری اور بے شمار یادگار کرداروں کے ساتھ امیتابھ آج بھی انڈین سنیما کی ان شخصیات میں شامل ہیں جن کی مقبولیت عمر کی حدوں سے آگے نکل چکی ہے۔ ان کی سالگرہ پر مداحوں کی بڑی تعداد ممبئی میں ان کی رہائش گاہ ’جلسہ‘ کے باہر جمع ہوئی جبکہ فلمی دنیا کی ممتاز شخصیات نے بھی اپنے اپنے انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
ایک طرف امیتابھ کے فن، ان کی شخصیت اور فلمی خدمات کی ستائش ہورہی ہے تو دوسری جانب ان کی ایک پرانی سوشل میڈیا پوسٹ کو دوبارہ سامنے لاکر موجودہ احتجاجی تحریکوں پر ان کی خاموشی کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ یوں 84ویں سالگرہ صرف ایک عظیم اداکار کی کامیابیوں کا جشن نہیں، بلکہ شہرت، سماجی ذمہ داری اور عوامی شخصیات کے کردار پر بحث کا موقع بھی بن گئی۔

امتیاز علی: ’امیتابھ بچن کا کوئی ثانی نہیں‘

معروف فلم ساز امتیاز علی نے امیتابھ بچن کی سالگرہ پر ان کی شخصیت اور فن کے بارے میں غیر معمولی عقیدت کا اظہار کیا۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امیتابھ جیسا کوئی دوسرا نہیں اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ امتیاز کے مطابق وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ان کی پیدائش اس ہندوستان میں ہوئی جس کے فلمی عہد پر امیتابھ بچن کی شخصیت کی گہری چھاپ رہی ہے۔
امتیاز علی نے یہ بھی بتایا کہ جب انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تو انہیں لگتا تھا کہ امیتابھ بچن کے ساتھ کام کرنے کا موقع شاید کبھی نہیں ملے گا۔ ان کا قد، مقام اور فن انہیں اس قدر بڑا محسوس ہوتا تھا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کبھی وہ ان کی ہدایت کاری کر سکیں گے لیکن ایک اشتہاری فلم میں امیتابھ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو ان کا خیال بدل گیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ ’کسی دن اس عظیم اداکار کے ساتھ ایک مکمل فلم بھی بنائیں گے۔‘

اداکار کمل ہاسن نے امیتابھ بچن کو خراج تحسین پیش کیا (فوٹو: سنیما ایکسپریس)

امتیاز علی کے یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امیتابھ کی مقبولیت محض مداحوں تک محدود نہیں؛ وہ خود فلم سازوں اور اداکاروں کے لیے بھی ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کمل ہاسن کا دلچسپ خراجِ تحسین
جنوبی ہند کے معروف اداکار اور فلم ساز کمل ہاسن نے امیتابھ بچن کو سالگرہ کی مبارک باد دیتے ہوئے ان کی اداکاری کے ان پہلوؤں کا ذکر کیا جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان کا پیغام محض رسمی مبارک باد نہیں تھا بلکہ امیتابھ کے فن کی باریکیوں کو سراہنے کی ایک خوب صورت کوشش بھی تھا۔
کمل ہاسن نے لکھا کہ ’امیتابھ نے اپنی گونج دار آواز کو ایک علامت، وقفے کو ڈرامائی اثر اور محض بھنویں اٹھانے کو کہانی میں ایک نیا موڑ بنا دیا۔‘
انہوں نے ریئلٹی شو ’کون بنے گا کروڑ پتی میں‘ امیتابھ کے مشہور ابتدائیہ جملے ’دیویو اور سجّنو‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے بھی کسی بلاک بسٹر فلم کے آغاز جیسا بنا سکتے ہیں۔ پیغام کے اختتام پر انہوں نے انہیں ’اینگری ینگ مین‘ کہہ کر مخاطب کیا
دونوں اداکاروں کا تعلق بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 1985 کی فلم ’گرفتار‘ میں کمل ہاسن اور امیتابھ بچن ایک ساتھ نظر آئے تھے۔ اب دونوں کی جوڑی کالکی 2898 اے ڈی کے اگلے حصے میں دوبارہ دیکھنے کی امید ہے۔ یوں کمل ہاسن کا پیغام دو بڑے فن کاروں کے درمیان دیرینہ احترام اور پیشہ ورانہ تعلق کی یاد بھی دلاتا ہے۔
تلگو سنیما کے سپر سٹار چرنجیوی نے بھی امیتابھ کو اپنا ’گرو جی‘ قرار دیتے ہوئے ان کی فن سے محبت، انکساری اور اپنے کام سے وابستگی کو قابلِ تقلید بتایا۔ ان کے مطابق امیتابھ سے ہر ملاقات کچھ نیا سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اینگری ینگ مین سے ٹیلی ویژن کے محبوب میزبان تک
امیتابھ بچن کی مقبولیت کا راز صرف ان کی فلموں کی کامیابی نہیں بلکہ بدلتے وقت کے ساتھ خود کو نئے سانچوں میں ڈھالنے کی صلاحیت بھی ہے۔ ستر اور اسی کی دہائی میں ’زنجیر‘، ’دیوار‘، ’شعلے‘، ’ڈان‘ اور ’قلی‘ جیسی فلموں نے انہیں ایک ایسے اداکار کے طور پر قائم کیا جو غصے، بغاوت، محرومی اور ناانصافی کے خلاف اٹھنے والی آواز کی علامت بن گیا۔ ان کا ’اینگری ینگ مین‘ کا روپ اس دور کے نوجوانوں کے احساسات کی ترجمانی کرتا تھا۔
بعد کے برسوں میں کبھی جذباتی باپ، کبھی سنجیدہ کردار نگار اور کبھی مزاحیہ اداکار کی حیثیت سے انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ جب ان کا فلمی کیریئر مشکلات سے دوچار ہوا تو انہوں نے ٹیلی ویژن کا رخ کیا۔ ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ نے انہیں ایک نئی نسل سے متعارف کرایا۔ ان کے سوال کرنے کا انداز، شرکا سے گفتگو اور عام لوگوں کی کہانیاں سننے کا سلیقہ اس پروگرام کی شناخت بن گیا۔ اکتوبر 2026 میں بھی وہ اس شو کے اٹھارہویں سیزن کی میزبانی کر رہے ہیں۔
ان کی زندگی کا سفر یہ بھی بتاتا ہے کہ کامیابی محض بلندیوں تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ انسان بدلتے حالات میں اپنی جگہ دوبارہ بنانا جانتا ہو۔

پرانی پوسٹ، نیا تنازع

امیتابھ بچن کی 84ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے خلاف ہونے والی تنقید کا تعلق ان کی اداکاری سے نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی معاملات پر ان کے طرزِ عمل سے تھا۔
جولائی 2026 میں کانگریس کے سینیئر رہنما ششی تھرور نے امیتابھ کی 2012 کی ایک پرانی سوشل میڈیا پوسٹ دوبارہ شیئر کی۔ یہ پوسٹ دہلی میں دسمبر 2012 کے ’نر بھیا اجتماعی عصمت دری‘ کے واقعے کے بعد ہونے والے احتجاج کے پس منظر میں تھی۔ اس وقت ملک بھر میں خواتین کے تحفظ، انصاف اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات پر زبردست عوامی تحریک چلی تھی۔
ششی تھرور نے امیتابھ کی پرانی پوسٹ کو دوبارہ سامنے لاکر سوال اٹھایا کہ جب آج جنتر منتر پر احتجاج ہو رہے ہیں تو ماضی میں مظاہروں کے حق میں آواز بلند کرنے والی شخصیات اب خاموش کیوں ہیں؟
اس کے بعد سوشل میڈیا پر امیتابھ کے کردار اور ان کی خاموشی پر بحث شروع ہوگئی۔ بعض صارفین نے ان پر دوہرے معیار کا الزام لگایا جبکہ کچھ لوگوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہر معاملے پر کسی فن کار سے عوامی بیان کی توقع کرنا درست نہیں۔

کاکروچ تحریک نے دہلی میں الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج مہم شروع کر رکھی ہے (فوٹو: دی ہندو)

بہرحال گذشتہ روز 10 اکتوبر کو ہونے والے مظاہرے کے بعد بھی ان کی پرانی پوسٹ ایک بار پھر وائرل ہوئی۔

شہرت کے ساتھ ذمہ داری کا سوال

امیتابھ بچن ان فن کاروں میں سے ہیں جن کی ایک سطر، ایک تصویر یا ایک سوشل میڈیا پوسٹ بھی غیر معمولی توجہ حاصل کرتی ہے۔ اس کی وجہ ان کا طویل فلمی سفر اور عوام کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہے۔ یہی مقبولیت ان کے الفاظ اور خاموشی دونوں کو معنی دیتی ہے۔
ایک طرف ان کے کروڑوں مداح انہیں ہندوستانی سنیما کا ناقابلِ فراموش سرمایہ سمجھتے ہیں تو دوسری طرف بعض لوگ چاہتے ہیں کہ وہ عوامی مسائل پر بھی اسی وضاحت سے اپنا موقف بیان کریں جس وضاحت سے ان کے فلمی کردار سامنے آتے ہیں۔ یہ بحث صرف امیتابھ تک محدود نہیں بلکہ ہر اس شخصیت کے سامنے آتی ہے جس کی آواز معاشرے میں غیر معمولی اثر رکھتی ہے۔

شیئر: