حمیٰ الثقافیہ کے چٹانوں پر قدیم نقوش اور تحریریں ماضی کی تہذیبوں کی یادگار
نجران ریجن میں واقع حمی کلچرل ایریا حمی الثقافیہ اپنی منفرد چٹانی ساختوں، وسیع صحرا اور قدیم نقوش کے باعث نمایاں مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہاں کے قدرتی مناظر اور قدیم تہذیب کے آثار ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو سیاحوں کو فطرت کے حسن پر غور کرنے اور جزیرۃ العرب کی انسانی تاریخ سے روشناس کراتے ہیں۔
حمی الثقافیہ میں پائی جانے والی چٹانیں مختلف شکلوں میں دکھائی دیتی ہیں جن میں بلند پتھریلے حصے، قدرتی محرابیں اور غار نما گڑھے شامل ہیں۔ چٹانوں کی یہ شکلیں صدیوں سے موسمی اثرات اور ہوا کے کٹاؤ سے سامنے آئی ہیں۔
ان چٹانوں کے قدرتی رنگ جو بھورے، نارنجی اور سنہرے سے لے کر مٹیالے سرخ رنگ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ سورج کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کے قریب یہ رنگ مزید نمایاں ہو جاتے ہیں جو ایک منفرد منظر ہے۔

ماہر آثار قدیمہ اور ٹوئر آرگنائزر محمد آل مستنیر کے مطابق ان چٹانوں کی اہمیت صرف ان کی قدرتی خوبصورتی اور ارضیاتی خصوصیات تک محدود نہیں بلکہ ان پر موجود نقوش اور تحریریں اس علاقے میں عہدِ رفتہ کی وہ یادگاریں ہیں جو یہاں انسانی موجودگی کا واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں۔
یہ آثار ان معاشروں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں جو اس علاقے میں آباد رہے یا یہاں سے گزرے جس سے ان کے طرزِ زندگی، نقل و حرکت کے انداز، مال مویشی پالنے کے طریقوں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔

فوٹوگرافرعبداللہ مشبب کا کہنا ہے چٹانوں کی منفرد شکلیں، دلکش رنگ اور وسیع صحرائی مناظر اس مقام کی سیاحتی کشش میں اضافہ کرتے ہیں۔
حمی الثقافیہ ایک قدرتی اور تاریخی سنگ میل کے طور پر نمایاں ہے اور نجران کے ثقافتی ورثے کی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔
