Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی آئینی منظوری‘، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج

11 اکتوبر کو صدرِ مملکت نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے تھے (فوٹو: اے پی پی)
صدرآصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج طلب کر لیے ہیں۔
ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج شام چھ بج کر 15 منٹ پر پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیے ہیں۔
دونوں ایوانوں سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حکومتی فیصلوں کی آئینی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت 11 اکتوبر کو صدرِ مملکت نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے تھے۔
سنیچر کو خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔ آئینی تقاضوں کے مطابق، اگر صدرِ مملکت اپنی صوابدید پر ایمرجنسی کا اعلان کریں تو اس کی توثیق کے لیے اعلان کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا لازمی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایسی صورت میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کے لیے 10 روز کے اندر ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دینا ضروری ہے۔ آئینی تقاضوں کے مطابق اس اعلان کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پیش کیا جانا چاہیے جس کے لیے 30 روز کے اندر اجلاس بلانا ضروری ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی کے دوران وفاقی حکومت بنیادی حقوق معطل کر سکتی ہے اور صوبائی حکومتوں کو احکامات جاری کر سکتی ہے اور صوبائی اداروں اور معاملات کے حوالے سے آئینی دفعات کی کارروائی کو بھی معطل کر سکتی ہے تاہم ایسے احکامات کی پارلیمنٹ سے منظوری لینا ضروری ہے۔
آئین کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے لگائی جا سکتی جبکہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد دو مرتبہ دو ماہ کی توسیع بھی لی جا سکتی ہے یعنی وفاق کسی صوبے میں کُل چھ ماہ کے لیے انتظامی کنٹرول اپنے پاس لے سکتا ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں 30 دن میں صدر مملکت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کریں گے جس میں ایمرجنسی کی توثیق سادہ اکثریت سے حاصل کرنا لازم ہو گی۔

شیئر: