فلم میکرز کی جگہ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے پر سعودی ہدایت کار علی الکلثمی کی تنبیہ
فلم میکرز کی جگہ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے پر سعودی ہدایت کار علی الکلثمی کی تنبیہ
منگل 13 اکتوبر 2026 12:52
علی الکلثمی کئی نئی فلموں پر کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک شناخت کے موضوع پر ہوگی (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی فلم ساز علی الکلثمی نے خبردار کیا ہے کہ سنیما میں انسانی صلاحیتوں کی جگہ مصنوعی ذہانت کا استعمال انڈسٹری کو نقصان پہنچائے گا، انہوں نے تخلیقی نوکریوں کو بچانے کے لیے قوانین بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
الشرق الاوسط سے بات کرتے ہوئے ہدایت کار اور لکھاری نے کہا کہ ٹیکنالوجی کنٹینٹ بنانے کا طریقہ بدل رہی ہے لیکن اس چیز کو نہیں بدل رہی جو اسے کامیاب بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ٹیکنالوجی بدلتی ہے اور آپ کو وقت کے ساتھ چلنا پڑتا ہے لیکن بنیادی باتیں وہی رہتی ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’خیال کہانی اور ناظرین کے ساتھ تعلق ہی اس فن کی اصل روح ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تخلیق کے لیے کوئی بنا بنایا فارمولا یا جادوئی طریقہ نہیں ہوتا اور زیادہ کیمرے یا بہتر لائٹنگ اور مائیکروفون کسی کام کو تخلیقی نہیں بناتے۔
اس کے بجائے تخلیق برسوں کی سوچ بچار تحقیق اور تحریر سے آتی ہے اور نظریات شکل اختیار کرنے سے پہلے تلاش اور تجربے کے ایک پیچیدہ عمل سے گزرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کنٹینٹ میں تخلیق کا کوئی فارمولا نہیں ہے۔ یہ شدید سوچ بچار برسوں تک چلنے والے سیشنز اور مہینوں پر پھیلی تحریر ہے۔ لکھنا ایسا ہے جیسے مسلسل تلاش کرتے ہوئے بارودی سرنگوں والے راستے پر چلنا۔‘
کوئی شارٹ کٹ نہیں
علی الکلثمی نے کہا کہ لکھاری اکثر خود کو ناواقف راستوں پر پاتے ہیں جہاں مسلسل تحقیق ایسا مواد سامنے لا سکتی ہے جو سکرپٹ کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے باوجود یہ کام اکثر رک جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بعض اوقات لکھتے ہوئے میرے سامنے بند گلی آ جاتی ہے اور اب بھی ایسا ہوتا ہے کیونکہ میں لکھنے یا شوٹنگ میں جلدی کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔‘
’ہمارا مقصد یہ ہے کہ کام ناظرین تک پہنچے اور ایک حقیقی اثر چھوڑے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہی کامیابی ہے۔‘
علی الکلثمی کے نزدیک ناظرین اس کام سے جڑتے ہیں جو ایماندارانہ ہو اور اپنے مقامی ماحول سے جڑا ہو (فوٹو: عرب نیوز)
علی الکلثمی نے ایسی کہانیاں سنانے کی اہمیت پر زور دیا جو سعودی معاشرے اور اس کی حقیقتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی فلم سازوں کو بین الاقوامی ناظرین کے پیچھے بھاگنے کے بجائے پہلے اپنے معاشرے کی عکاسی کرنے والی کہانیاں بیان کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’سب سے اہم بات یہاں کے لوگوں یعنی اپنے سعودی بھائیوں کو کہانی سنانا ہے۔ اگر کہانی ان کے دل کو چھوتی ہے اور ان تک پہنچتی ہے تو ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔‘
’جب کوئی کام اپنے ملک میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ مملکت سے باہر کے ناظرین کو بھی متوجہ کرے گا کیونکہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ سعودی کیسے رہتے اور بات کرتے ہیں اور ان کے اقدار کیا ہیں۔‘
علی الکلثمی کے نزدیک ناظرین اس کام سے جڑتے ہیں جو ایماندارانہ ہو اور اپنے مقامی ماحول سے جڑا ہو۔
’لوگ آپ سے تب جڑتے ہیں جب وہ کوئی ایسی سچی چیز دیکھتے ہیں جو بالکل مقامی جگہ سے نکلتی ہے اور اس طرح کوئی کام بیرون ملک پہنچتا ہے۔‘
یہ ایک ذریعہ ہے، حل نہیں
علی الکلثمی نے کہا کہ یہ شعبہ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے اس کے بارے میں کوئی بھی مقررہ رائے قائم نہیں رہ سکتی۔
’مصنوعی ذہانت اور اس کی ٹیکنالوجیز ہر سیکنڈ میں بدل رہی ہیں۔ آج آپ اس کے بارے میں جو بھی خیال بناتے ہیں وہ کل بدل جائے گا۔ میرے لیے یہ ایک ذریعہ ہے مقصد نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ انسانی صلاحیتوں کی جگہ مصنوعی ذہانت کے آنے کا ڈر کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے موجودہ تشویش کا موازنہ پرانی ٹیکنالوجیز کی آمد کے وقت ہونے والی تشویش سے کیا۔
’انٹرنیٹ ریڈیو اور موبائل فون کی طرح یہ بھی ایک نئی ٹیکنالوجی کی ترقی ہے۔ جو لوگ اس کے ساتھ کام کرنا اور اسے انسانی جذبے کی خدمت کے لیے استعمال کرنا سمجھتے ہیں وہ قائم رہیں گے۔ راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور اس سے سیدھا ڈرنا اس کا حل نہیں ہوگا۔‘
علی الکلثمی نے کہا کہ وہ شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے خیالات کو پرکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
تاہم انہوں نے فلم اور فنون میں مصنوعی ذہانت کو بھرپور انداز میں استعمال کرنے سے خبردار کیا اور اس شعبے اور اس کے ورک فورس کے تحفظ کے لیے ایک قانونی فریم ورک کا مطالبہ کیا۔
ریگولیشن اور پروٹیکشن
انہوں نے کمرشل مقصد کے لیے بنائی جانے والی ایسی فلموں میں مصنوعی ذہانت کا حد سے زیادہ استعمال کرنے سے منع کیا جن کا مقصد صرف لوگوں کی جگہ لینا اور اخراجات کم کرنا ہو اور کہا کہ اس سے اس شعبے میں کام کرنے والوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اسے منظم کرنے کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔ یہ یورپ اور امریکہ میں پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ عرب دنیا اور سعودی عرب میں بھی آ رہی ہے۔ مقصد ثقافتی شعبے اور تخلیقی معیشت کی حفاظت کرنا اور ان کی بہتر ترقی میں مدد کرنا ہے۔‘
علی الکلثمی نے کہا کہ وہ شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے خیالات کو پرکھنے اور بصری تصورات کو سمجھنے کے لیے خود بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں کام شروع کرنے سے پہلے ابتدائی تجربات کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرتا ہوں۔ میں اپنے ذہن کے خیالات کو دیکھ سکتا ہوں اور ان کا جائزہ لے سکتا ہوں اور شوٹنگ شروع کرنے سے پہلے ان تکنیکی مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہوں جن کا مجھے سامنا ہو سکتا ہے۔‘
آگے اُن کا کیا ارادہ ہے؟
علی الکلثمی کئی نئی فلموں پر کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک ایسی فلم کی تیاری شامل ہے جو شناخت کے موضوع پر ہوگی۔ انہوں نے اس کا نام بتانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ بدل سکتا ہے جبکہ انہوں نے اس کی ریلیز کی کوئی تاریخ بھی نہیں بتائی۔