Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سب سے زیادہ ’نمبر ون‘ فلمیں، 61 ویں سالگرہ منانے والے شاہ رخ خان، بالی وڈ کے ’کنگ خان‘ کیسے بنے؟

شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان تقریباً ایک ہی دور میں فلمی دنیا میں داخل ہوئے (فوٹو: گو انڈیا)
1990  کی دہائی میں جب یہ سوال اٹھا کہ امیتابھ بچن کے بعد بالی ووڈ کا سب سے بڑا ستارہ کون ہوگا تو تین خان سامنے آئے۔ شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان تقریباً ایک ہی دور میں فلمی دنیا میں داخل ہوئے اور جلد ہی انڈسٹری کے سب سے بڑے نام بن گئے۔
کئی برسوں تک ان تینوں کا نام ایک ساتھ لیا جاتا رہا، لیکن وقت کے ساتھ شاہ رخ خان نے ایک منفرد مقام بنا لیا اور ’کنگ خان‘ کہلائے۔
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق تقریباً چار دہائیوں پر محیط کیریئر میں شاہ رخ خان انڈین سینما کی تاریخ کے کامیاب ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی فلموں نے عالمی سطح پر تقریباً 8000 کروڑ روپے کا باکس آفس بزنس کیا ہے، جبکہ بیرون ملک مارکیٹ میں بھی ان کا ریکارڈ غیر معمولی رہا ہے۔
شاہ رخ خان نے 1992 میں فلمی دنیا میں قدم رکھا، جب سلمان اور عامر پہلے ہی اپنی شناخت بنا چکے تھے۔ ابتدا میں شاہ رخ نے ’دیوانہ‘ اور ’کنگ انکل‘ جیسی ملٹی سٹار فلمیں کیں جبکہ ’ڈر‘ اور ’انجام‘ میں منفی کردار بھی ادا کیے۔ اس کے باوجود وہ جلد ہی اپنے ہم عصروں کے برابر آ گئے۔
2000  سے 2007 کے درمیان شاہ رخ خان نے اپنے کیریئر کا سنہری دور دیکھا۔ ’محبتیں‘، ’کبھی خوشی کبھی غم‘، ’دیوداس‘، ’کل ہو ناں ہو‘، ’ویر زارا‘ اور ’اوم شانتی اوم‘ جیسی کامیاب فلموں نے انہیں انڈسٹری کا سب سے بڑا ستارہ بنا دیا۔ اس عرصے میں ان کی فلموں نے 1326 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کیا، جو سلمان اور عامر کی مجموعی کمائی سے بھی زیادہ تھا۔
2008  کے بعد منظرنامہ پھر بدل گیا۔ عامر خان کی ’گجنی‘ نے 100 کروڑ کلب کا آغاز کیا جبکہ سلمان خان ’وانٹڈ‘ اور ’دبنگ‘ کے ذریعے ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ اگلے چند برسوں میں تینوں خان تقریباً برابر دکھائی دیے۔ شاہ رخ نے ’چنئی ایکسپریس‘ اور ’ہیپی نیو ایئر‘ جیسی بڑی کامیابیاں دیں، جبکہ سلمان اور عامر کی فلموں نے ثقافتی سطح پر گہرا اثر چھوڑا۔
2015  کے بعد شاہ رخ خان کے کیریئر کا نسبتاً مشکل مرحلہ آیا۔ ’دل والے‘ اور ’رئیس‘ جیسی فلموں نے کامیابی حاصل کی، لیکن وہ اپنے پرانے معیار تک نہ پہنچ سکیں۔ اسی دوران عامر ’دنگل‘ اور سلمان ’سلطان‘ اور ’بجرنگی بھائی جان‘ کے ذریعے باکس آفس پر راج کرتے رہے۔

شاہ رخ خان کے اصل مقام کا اندازہ صرف کمائی سے نہیں لگایا جا سکتا (فوٹو: اے ایف پی)

کورونا وبا کے بعد حالات ایک بار پھر بدلے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے بڑھتے اثر نے سینما انڈسٹری کو نئے چیلنجز دیے۔ سلمان اور عامر کی حالیہ فلمیں توقعات پر پوری نہ اتر سکیں، جبکہ شاہ رخ خان نے مختصر وقفے کے بعد 2023 میں شاندار واپسی کی اور متعدد ریکارڈز توڑ ڈالے۔
2020  کے بعد صرف تین فلموں میں کام کرنے کے باوجود شاہ رخ خان 2671 کروڑ روپے کے بزنس کے ساتھ انڈیا کے دوسرے سب سے زیادہ کمائی کرنے والے اداکار بن گئے۔ اسی عرصے میں سلمان خان کی فلموں نے تقریباً 902 کروڑ اور عامر خان کی فلموں نے 359 کروڑ روپے کمائے۔
شاہ رخ خان کے اصل مقام کا اندازہ صرف کمائی سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اپنے کیریئر میں بطور مرکزی اداکار 64 فلموں میں کام کرتے ہوئے انہوں نے 10 بلاک بسٹر اور 30 ہٹ یا سپرہٹ فلمیں دیں۔ ان کی کامیابی کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہے، جو بڑے اداکاروں میں صرف دلیپ کمار کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
شاہ رخ خان کی ایک اور نمایاں کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے 10 مرتبہ سال کی سب سے زیادہ کامیاب فلم دی۔ یہ ریکارڈ کسی بھی دوسرے انڈین اداکار سے زیادہ ہے۔ دلیپ کمار آٹھ، امیتابھ بچن اور عامر خان سات سات جبکہ راج کپور چھ مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر سکے۔

61  سال کی عمر میں بھی شاہ رخ خان کے سست ہونے کے کوئی آثار نہیں دکھا رہے (فوٹو: اے ایف پی)

وہ واحد انڈین اداکار ہیں جنہوں نے چار مختلف دہائیوں میں سال کی نمبر ون فلم دی۔ 1990 کی دہائی میں دو، 2000 کی دہائی میں چھ، 2010 کی دہائی میں ’مائی نیم از خان‘ اور 2020 کی دہائی میں ’جوان‘ اس کی مثالیں ہیں۔
بیرون ملک مقبولیت کے معاملے میں بھی شاہ رخ خان سب سے آگے ہیں۔ چین میں عامر خان کی کامیابیوں کے باوجود شاہ رخ کی فلموں نے عالمی مارکیٹ میں اندازاً 40 سے 50 کروڑ ڈالر کا کاروبار کیا، جو کسی بھی انڈین اداکار کے لیے ایک منفرد ریکارڈ ہے۔
61  سال کی عمر میں بھی شاہ رخ خان کے سست ہونے کے کوئی آثار نہیں دکھا رہے۔ رجنی کانت اور مموٹی جیسے اداکاروں کی مثال سامنے ہے جو ستر برس کی عمر کے بعد بھی فلمی دنیا پر راج کر رہے ہیں، اور اگر شاہ رخ نے بھی یہی راستہ اختیار کیا تو ان کے ریکارڈ مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

 

شیئر: