ہندوؤں کی مقدس ترین مذہبی داستانوں میں سے ایک رامائن پر بننے والی بالی وڈ فلم آج ریلیز ہو رہی ہے، جس سے یہ قدیم کہانی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، یہ واقعہ انڈیا کی ثقافت، قومی شناخت اور سیاست پر گہرے اثرات رکھتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ممتاز اداکار رنبیر کپور کی فلم ’رامائن: رائز آف اے لیجنڈ‘ دیوالی کے تہوار سے دو روز قبل پیش جا رہی ہے۔
یہ دو حصوں پر مشتمل سیریز کی پہلی فلم ہے اور اس کو انتہائی مہنگی ترین فلم قرار دیا جا رہا ہے جس پر 42 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں اس حساب سے یہ انڈین سینیما کی مہنگی ترین فلم بن گئی ہے۔
انڈیا میڈیا کے مطابق فلم کا پریمیئر پچھلے ہفتے لاس اینجلس میں ہوا تھا جبکہ اس فلم قریباً 40 زبانوں میں ڈب بھی کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
انڈین شہریوں کو سہولیات چاہئیں یا مہا بھارت اور رامائن؟Node ID: 468011
اس کے ہدایت کار نتیش تیواری کا کہنا ہے کہ مختلف زبانوں میں ڈبنگ کے دوران کرداروں کے ہونٹوں کی حرکت کو مکالموں کے ساتھ ملانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا گیا۔
بڑے پیمانے، شاندار مناظر اور دیومالائی کرداروں کی وجہ سے فلم ’رامائن‘ کا موازنہ کرسٹوفر نولان کی فلم ’دی اوڈیسی‘ سے کیا جا رہا ہے، جو یونانی شاعر ہومر کی مشہور داستان پر بنائی گئی فلم ہے اور دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئی۔
رپورٹ میں اس سوال کا جواب بھی دیا گیا ہے کہ آخر رامائن داستان انڈین معاشرے اور سیاست میں اتنی اہمیت کیوں رکھتی ہے۔

رامائن کی کہانی کیا ہے؟
قدیم شاعر والمیکی سے منسوب رامائن سنسکرت زبان میں لکھی گئی ایک مشہور مذہبی داستان ہے۔ اس میں شہزادے رام کی کہانی بیان کی گئی ہے جنہیں 14 سال کے لیے جلاوطن کر دیا جاتا ہے۔
جلاوطنی کے دوران رام اپنی بیوی سیتا کو بچانے کے لیے سفر پر نکلتے ہیں، جنہیں راکشسوں کے بادشاہ راون اغوا کر لیتا ہے۔
اس سفر میں رام کے بھائی لکشمن اور بندر دیوتا ہنومان بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔
یہ داستان کئی صدیوں سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک میں متعدد زبانوں اور روایات کے ذریعے بیان کی جاتی رہی ہے۔
ہندو مذہب کے ماننے والے رام کو دیوتا وشنو کا اوتار سمجھتے ہیں۔
پرانی داستان اور سیاسی تنازع
ان دنوں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک ہندو قوم پرست تحریک چل رہی ہے اور ہندوؤں کے مطابق یہ رام کی جائے پیدائش ہے۔

تاہم مندر کی مجوزہ مقام پر 16 ویں صدی میں مغل بادشاہ بابر کی تعمیر کردہ ایک مسجد موجود تھی۔ جس کے بارے میں ہندو قوم پرستوں کا دعویٰ تھا کہ یہ مسجد رام کی جائے پیدائش پر تعمیر کی گئی تھی۔
یہ تنازع 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی کے آغاز میں شدت اختیار کر گیا، جس سے ہندو قوم پرستی کو انڈین سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں مدد ملی۔
1992 میں ایک ہجوم نے مسجد کو گرا دیا تھا جس کے بعد ملک میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں قریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
2019 میں انڈین سپریم کورٹ نے متنازع جگہ پر ہندو مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ دیا، جس کے چند برس بعد 2024 میں وزیراعظم نریندر مودی نے وہاں ایک بڑے مندر کا افتتاح کیا۔
ٹیلی ویژن پر مقبولیت
رامائن پر بننے والے کئی ٹی وی پروگراموں میں 80 کی دہائی کے اواخر میں سرکاری ٹی وی چینل دور درشن پر نشر چلنے والے ایک ڈرامے بہت مقبولیت حاصل کی
اس دور میں رام کی تصویری جھلکیاں کم دیکھنے کو ملتی تھیں، لیکن اس ڈرامے کو دیکھنے کے لیے ہر ہفتے لاکھوں انڈین شہری ٹی وی کے سامنے بیٹھتے تھے اور ان میں سے زیادہ تر اس کو مذہبی عقیدت کے ساتھ دیکھتے تھے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقبول ڈرامے نے اس وقت ابھرنے والی ہندو قوم پرست تحریک کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایودھیا میں رام مندر کی تحریک کی حمایت کی تھی۔ 1984 کے انتخابات میں پارٹی نے پارلیمنٹ کی صرف دو نشستیں حاصل کی تھیں۔
تاہم رام مندر کا تنازع قومی مسئلہ بننے کے بعد 1991 میں اس کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 120 ہو گئی۔
انڈیا سے باہر بھی مقبولیت
رامائن داستان صرف انڈیا تک محدود نہیں رہی بلکہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک تک پھیلی۔ اس کو تامل، بنگالی، تھائی، خمیر اور انڈونیشیائی سمیت کئی زبانوں میں پیش کیا گیا۔
تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں رامائن کے کردار اور کہانیاں روایتی رقص، تھیٹر اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے پیش کی جاتی ہیں۔
یہ داستان ہندوؤں کے مذہبی تہواروں میں بھی اہم مقام رکھتی ہے، خاص طور پر دُسہرہ اور دیوالی کے مواقع پر۔
دُوسہرہ کا تہوار راون پر رام کی فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے جبکہ دیوالی کو عام طور پر 14 سالہ جلاوطنی کے بعد رام کی ایودھیا واپسی سے جوڑا جاتا ہے۔












