کیا پاکستان قدرتی آفات کے لیے تیار ہے؟

آج کا انسان قدرتی آفات کے سامنے اتنا بے بس کیوں ہے؟ فائل فوٹو: اے ایف پی
قدرتی آفات غریب اور امیر کے مابین فرق کیے بغیر آتی ہیں لیکن طوفانوں، سیلابوں اور زلزلوں سے سب سے زیادہ متاثر غریب ممالک کے عوام ہی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، پشاور اور آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے سے لگ بھگ 30 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو گئے۔ زلزلے کی شدت پانچ اشاریہ آٹھ اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تک تھی۔ زلزلے کا مرکز جہلم سے 23 کلومیٹر شمال میں تھا اور یہ زلزلہ 55 سیکنڈ جاری رہا۔ 
پاکستان کی تاریخ کا ناقابل فراموش زلزلہ 8 اکتوبر 2005 کو آیا جس میں ایک لاکھ سے زائد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے اور لاکھوں افراد کو بے گھر ہونے کا عذاب بھی سہنا پڑا۔ بین الاقوامی امدادی تنظیم آکسفیم کے مطابق 2008 اور 2016 کے درمیانی عرصے میں ہر سال اوسطاً 14 ملین انسان انہی غیر معمولی موسمی حالات اور قدرتی آفات کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس کے مقابلے میں امیر ممالک میں یہی اوسط سالانہ تعداد ایک ملین کے قریب رہی۔ 
آج دنیا آندھیوں کی زد میں ہے، بادو باراں کے نرغے میں ہے، گرجتے بادل کوندتی بجلیاں، سیلابوں کے ریلے، زلزلوں کے جھٹکے، جنگل کی آگ، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے جانے کتنے سامان ہیں ہماری تباہی کے جن کو ہم قدرتی آفات کا نام دیتے ہیں۔ 
ہم سات ارب سے بھی زیادہ لوگ جو اس کرہ عرض پر زندگی کی مستعار سانسیں جی رہے ہیں جب ان قدرتی آفات میں سے ایک آدھ آفت میں  گھر جاتے ہیں تو ہمیں اللہ یاد آ جاتا ہے۔ ہم ریڈیو، ٹی وی یا اخبار کے ذریعے اس طوفان بلا خیز کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی خبروں سے آگاہی حاصل کرنے کی کوششوں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ پھر جیسے جیسے تباہ کن طوفان کی خبریں پرانی ہونے لگتی ہیں ہم خود طوفان بلا خیز بن کر لوٹ کھسوٹ، دھوکہ، جھوٹ، کساد بازاری، ذخیرہ اندوزی، رشوت، سفارش، ناانصافی، بغض، عناد، دشمنی، نفرت کا بازار گرم کرنے ایک بار پھر اس زندگی کی جانب لوٹ آتے ہیں جسے زندگی نہیں کہنا چاہیے۔ 

گذشتہ چار برسوں میں ہر سال اوسطاً 14 ملین انسان قدرتی آفات کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

مذہب اور سائنس دونوں کے گہرے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بلاشبہ یہ انسان کی اپنی سرگرمیاں ہیں جو کرہ ارض کے قدرتی سسٹم کو تباہ کر کے طوفانوں، زلزلوں، ٹورناڈوز، خشک سالی اور بے تحاشہ سیلابوں کو از خود دعوت دے رہی ہے۔ 
آج دنیا کا کوئی خطہ ان سے محفوظ نہیں رہا۔ کہیں زلزلے کے چند جھٹکے لمحوں میں شہر کے شہر ملیا میٹ کر دیتے ہیں، تو کہیں طوفان پوری بستیاں اجاڑتے گزر جاتے ہیں۔ کہیں سورج سوا نیزے پر آ کر دماغوں کے اندر خون تک کھولائے دے رہا ہے، تو کہیں سیلاب بربادی کی نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے اتنے سنگِ میل عبور کر لینے اور ورچوئل رئیلیٹی کی طرز پر شہر کے شہر بسانے جیسے منصوبوں پر مصروفِ عمل ہونے کے باوجود آخر آج کا انسان قدرتی آفات کے سامنے اتنا بے بس کیوں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے طرز زندگی کو زیادہ پر آسائش، آرام دہ اور سہل بنانے کے چکر میں ہم اس قدرتی نظام کو تباہ کرتے جا رہے ہیں جو ڈیزاسٹر کے لیئے ایک قدرتی ڈھال کا کام دیتا تھا۔ 

زندہ قومیں حادثات اور ناخوشگوار واقعات سے سبق حاصل کر کے مستقبل کی پیش بندی کرتی ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ورلڈ رِسک انڈیکس کے مرتبین کہتے ہیں کہ “ کسی قدرتی آفت کے خطرے اور اُس کی شدت سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کسی معاشرے کو کس حد تک کسی آفت سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یورپی ملک ہالینڈ کے کئی حصے سطح سمندر سے نیچے ہیں اور یوں اس ملک کو  قدرتی آفت کے خطرے کا خاص طور پر سامنا ہے۔ حفاظتی بند نہ ہوتے تو ہالینڈ کے یہ علاقے کب کے سمندری پانی کی زد میں آ چکے ہوتے۔ تاہم اپنے مستحکم ارادوں اور اچھے سماجی اور اقتصادی حالات کی وجہ سے ہالینڈ کا نام ورلڈ رِسک انڈیکس میں زیادہ خطرے کے شکار ممالک میں شامل نہیں ہے۔ 
ہمارا ملک ارضیاتی اعتبار سے نہایت حساس خطے میں واقع ہے، چنانچہ ان خطرات کا ادراک کرتے ہوئے ہمیں حفاظتی اقدامات کی ہمہ وقت ضرورت ہے۔ زلزلوں کے حوالے سے حساس مقامات کے لیے تعمیرات کے مخصوص قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک کا بڑا حصہ اس ارضیاتی دائرے میں آتا ہے جہاں شدید زلزلوں کے خطرات درپیش ہیں مگر ہم زلزلوں کے لیے خصوصی بلڈنگ کوڈ کا کتنا خیال رکھتے ہیں یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ 
بلڈنگ کوڈ پر عمل کرنے سے زلزلوں کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے اس جانب بھی حکومت کو خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ زندہ قومیں حادثات اور ناخوشگوار واقعات سے سبق حاصل کر کے مستقبل کی پیش بندی کرتی ہیں، بعداز آفات کے بجائے قبل از آفات کی حکمت عملی پر توانائی صرف کرتے ہیں۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: