جاتی امرا میں اطمینان اور افسردگی ایک ساتھ

نواز شریف کی روانگی سے قبل ہی ان کے کارکنان پہنچ گئے تھے۔ (فوٹو:اے ایف پی)
یقیناً پاکستان کی آج کی سب سے بڑی خبر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی علاج کے لیے لندن روانگی ہی ہے۔
اس روانگی کی کوریج کے لیے صبح سات بجے سابق وزیر اعظم کی رہائش گاہ جاتی امرا پہنچا تو میرا خیال تھا میں یہاں پہلے پہنچنے والے افراد میں شامل ہوں لیکن یہ خوش فہمی جلد ہی دور ہو گئی جب جاتی امرا کے باہر قطار میں لگی میڈیا کی گاڑیوں کو دیکھا جن میں زیادہ تر صحافی رات کی ڈیوٹی والے تھے مطلب میڈیا کی گاڑیاں صبح تین بجے ہی لگ چکی تھیں۔
مسلم لیگ ن کے کوئی ڈیڑھ درجن کارکن ابھی پہنچے تھے جن کی تعداد بعد میں تین سے چار سو ہو گئی۔ یہ روایتی لیگی کارکن اونچی آواز میں پارٹی ترانوں کی دھن پر کبھی کبھار اجتماعی نعروں کا سیشن کرتے اور کبھی خاموش ہو جاتے۔ لیگی کارکنوں کے نعرے روایتی تھے اور میاں صاحب کی صحت کے حوالے سے بالکل بھی میل نہیں کھا رہے تھے یہی وجہ تھی کارکن شش و پنج میں تھے کہ وہ کس قسم کے نعرے لگائیں۔

 سرخ ٹوپیوں والے کمانڈوز جہاز کے ارد گرد مستعد کھڑے نظر آ رہے تھے

میاں صاحب کی انسانی بنیادوں پر جیل سے رہائی پر خوش ہوں یا ان انتہائی علیل ہونے پر افسردہ۔ اس بات کا پتا اس وقت چلتا جب جوشیلے نعرے لگاتے ایک کارکن سے پوچھا کہ وہ قیادت کے منع کرنے کے باوجود یہاں کیوں آیا ہے تو اس کا جوش ماند پڑھ گیا اور وہ سابق وزیر اعظم کے لیے دعائیہ کلمات سے آگے نہ بڑھ سکا۔    

جاتی امرا کے گیٹ پر چھائی افسردگی

شاید لفظ افسردگی بار بار لکھنا آپ کو تھوڑا عجیب بھی لگے لیکن اگر آپ نے رائیونڈ کے علاقے میں نہر کنارے جاتی امرا کا آہنی دروازہ دیکھا تو ہمیشہ بند ہی دیکھا ہو گا۔
جب یہ وزیر اعظم ہاؤس تھا تب تو ایک طرف کی سڑک ہی بند تھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی خاص توجہ سے سڑک تو کھول دی گئی لیکن جاتی امرا کا آہنی گیٹ صرف اندر باہر جانے والی گاڑیوں کی نقل حمل کے لیے ہی کھلتا تھا۔
گیٹ پر سکیورٹی چیک پوسٹ اور ’اپنی شناخت ظاہر کریں‘ کا بورڈ آویزاں ہے۔ آج یہ گیٹ صبح سے ہی کھلا تھا اور سب کی نظریں تا حد نگاہ اندر جاتی سڑک پر مرکوز تھیں۔ ایک پولیس اہلکار اور ساتھ جاتی امرا کی اپنی سیکیورٹی کے چار اہلکار بھی نیم دراز بیٹھے ہوئے تھے لیگی کارکن گیٹ کے اوپر جا کر تصویریں اور سیلفیاں لے رہے تھے اور کوئی ان کو ٹوک بھی نہیں رہا تھا۔

مسلم لیگ کے رہنما نواز شریف کو رخصت کرنے کے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تھے۔

آٹھ بجے مریم اورنگ زیب کی جانب سے صحافیوں کو پریس ریلیز موصول ہوئی کہ نواز شریف دس بجے لندن روانہ ہوں گے ائیر ایمبولینس میں آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر قائم کیا گیا جبکہ روانگی سے قبل ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا جا رہا ہے جبکہ صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف اور نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ساتھ ہی سفر کریں گے انہوں نے قوم سے دعاؤں کی اپیل بھی کی۔

نواز شریف کی روانگی

ساڑھے آٹھ بجے لاہور ائیر پورٹ سے خبر موصول ہوئی کہ قطر ائیر ویز کی ائیر بس A 319 لینڈ کر چکی ہے۔ اس ائیر بس کو ائیر ایمبولینس میں تبدیل کیا گیا تھا۔
ساڑھے آٹھ بجے ہی شہباز شریف اور دیگر لیگی قیادت جن میں احسن اقبال، پرویز رشید، خرم دستگیر وغیرہ ماڈل ٹاؤن سے ائیر پورٹ پہنچے۔ پونے نو بجے پولیس کا دو گاڑیوں پر ایک سکواڈ جاتی امرا پہنچا۔ سوا نو بجے ایک طرف سے شور اٹھا کہ وہ آ گئے اور تمام لیگی کارکنوں نے رہائش گاہ کی طرف جاتی سڑک پر دوڑ لگا دی اور دور سے آتے کانوائے گیٹ کے اندر جا کے گھیر لیا۔

نواز شریف کی روانگی کے وقت لیگی کارکن ان کی گاڑی کے ارگرد جمع ہوگئے تھے۔ (فوٹو:اے ایف پی)

یہ کانوائے رنگ روڈ کی طرف نکلا تو لگ بھگ پینتیس سے چالیس گاڑیاں ساتھ تھیں اور ہر اشارے پر ٹریفک اہلکاروں نے ٹریفک روک کر کانوائے گزارا۔ رنگ روڈ پر بھی ٹول ٹیکس کے پھاٹک اٹھا دیے گئے۔ رنگ روڈ پر آئے پیدل کراس کرنے والے پلوں پر لوگ رک کر کانوائے کی ویڈیوز بنا رہے تھے اور ہاتھ ہلا رہے تھے شاید اس کی وجہ مقامی میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ کوریج تھی کیونکہ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ لوگوں کو پہلے سے ہی پتا تھا کہ اس کانوائے میں کون جا رہا ہے۔ رنگ روڈ سے اترتے ہی عسکری ٹین کالونی کے سگنل بھی عام ٹریفک کے لیے بند تھے لیکن سڑک چھوٹی ہونے کی وجہ سے قافلے کی رفتار سست ہو گئی۔
ایک بزرگ سڑک کنارے اپنی گاڑی کھڑی کر کے اپنے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عجلت میں لکھا تھا ’الوداع نواز شریف۔‘

نواز شریف کی روانگی کے وقت ائیر پورٹ پر بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے (فوٹو:روئٹرز)

قافلے میں سے صرف انہی گاڑیوں کو حج ٹرمینل سے اندر جانے کی اجازت ملی جن کے اجازت نامے جاری ہوئے تھے۔ پونے گیارہ بجے کے قریب طیارے کی روانگی کی اطلاع ملی اور ساتھ ہی کچھ تصاویر اور ویڈیوز بھی جن میں اے ایس ایف کے سرخ ٹوپیوں والے کمانڈوز جہاز کے ارد گرد مستعد کھڑے نظر آ رہے تھے۔ یہ بالکل اسی طرح کا منظر تھا جب 13جولائی 2018 کو اسی جگہ پر لندن سے واپسی پر اترے تو سرخ ٹوپیوں والے کمانڈوز نے انہیں جہاز کے اندر سے ہی اپنی حراست میں لے لیا تھا۔ ملتے جلتے منظر میں ہی آج سابق وزیر اعظم کے طیارے نے لندن کی طرف ساڑھے دس بجے اڑان بھری۔ 

شیئر: