قیدیوں کے حالات کی بہتری کے لیے کمیشن

خصوصی کمیشن جیلوں میں قیدیوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے تجاویز بھی دے گا، فوٹو: سوشل میڈیا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار اور ان کے حقوق یقینی بنانے کے لیے خصوصی کمیشن قائم کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اس کمیشن کی سربراہ ہوں گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری حکم نامے میں کمیشن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری صحت اور سابق ڈی جی ایف آئی  اے طارق کھوسہ کو کمیشن کے ارکان نامزد کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کمیشن کو سات روز کے اندر پہلا اجلاس بلانے کی بھی ہدایت کی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ تحریری حکم نامہ اڈیالہ جیل کے قیدی خادم حسین کی درخواست پر جاری کیا ہے۔
عدالت نے کمیشن کے قواعد و ضوابط بھی طے کر دیے ہیں۔ کمیشن جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کی تحقیقات کرے گا اور انصاف تک رسائی کے وسائل سے محروم قیدیوں کا پتا لگائے گا۔
کمیشن بیمار قیدیوں سے متعلق جیل قوانین پر عمل درآمد اور حکومت اور انتظامی اداروں کی ناکامی کی بھی تحقیقات کرے گا۔
اس کے علاوہ کمیشن جیلوں میں قیدیوں کی حالت بہتری بنانے کے لیے تجاویز بھی دے گا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں وزارت صحت کو چاروں صوبوں میں قیدیوں کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈز بھی قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکم نامے کے مطابق ’جیلوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو دیکھتے ہوئے کمیشن بنایا جاتا ہے۔‘
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سزا ملنے کا مقصد کسی شخص کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا نہیں ہوتا، سزا کا مقصد صرف آزادانہ نقل و حرکت کو محدود کرنا ہوتا ہے۔ سزا ملنے پر بھی کسی قیدی کو جینے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جیل میں کسی بھی قیدی کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے۔‘
چیف جسٹس نے قیدی خادم حسین کے متعلقہ درخواست پر آئندہ سماعت میں سیکرٹری صحت سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

خصوصی کمیشن کے قیام کا حکم نامہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا، فوٹو: سوشل میڈیا

سیکرٹری صحت سے کہا گیا ہے کہ وہ چیف سیکرٹری پنجاب سے فوری رابطہ کریں اور درخواست گزار خادم حسین کا فوری معائنہ کرائیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’قیدیوں کی صحت اور بنیادی حقوق کا معاملہ عدالت میں آنا حکومت کی ناکامی ہے۔ معاملہ عدالت میں آجائے تو حکومت کو مطمئن کرنا ہو گا کہ وہ کیسے ناکام نہیں ہوئی۔‘
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’بے یار و مددگار قیدیوں سے متعلق اقدامات وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جیل قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کے تباہ کن نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت قیدیوں سے متعلق صوبائی حکومتوں سے باز پرس کر سکتی ہے۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر:

متعلقہ خبریں