پاکستانی پناہ گزین کسمپرسی کا شکار

تھائی لینڈ کے دارلحکومت بنکاک کا تجارتی مرکز ’پتونم‘ جنوبی ایشیائی باشندوں کا گڑھ ہے۔
اس کے ’اندرا سکوائر‘ میں نہ صرف انڈین، بنگالی، برمی، پاکستانی اور سری لنکن شہریوں کے کاروبار اور دکانیں ہیں بلکہ یہاں ہر طرف کام کرنے والے بھی ’دیسی‘ ہی ہیں۔
بالخصوص انڈین اور پاکستانی ریسٹورنٹس کے باہر کھڑے نوجوان جو ہر ہم وطن کو دور سے ہی پہچان لیتے ہیں اور آوازیں لگانا شروع کر دیتے ہیں ’آئیں بھائی جان کھانا کھا لیں، خالص ہندوستانی اور پاکستانی کھانا، حلال!‘
لیکن انہی نوجوانوں میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ڈرے ڈرے اور پریشان پریشان پھرتے ہیں۔
ان میں سے بیشتر وہ ہیں جو غیر قانونی طور پر تھائی لینڈ گئے اور اب وہاں مشکلات کا شکار ہیں۔
بالخصوص مذہبی بنیادوں پر وہاں پناہ حاصل کرنے اور اقوام متحدہ سے مہاجر کا درجہ لے کر کسی ترقی یافتہ ملک کا رخ کرنے کے خواہشمند پاکستانی جو گذشتہ چند برسوں میں ہزاروں کی تعداد میں تھائی لینڈ پہنچے، انتہائی کسمپرسی کا شکار ہیں۔
تھائی لینڈ کے مقامی قوانین میں پناہ گزینوں یا مہاجرین کو رہائشی درجہ دینے کی گنجائش نہیں ہے جس کی وجہ سے ویزے کے بغیر رہنے والے تمام غیر ملکیوں کو غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے اور ان کی گرفتاریوں کے لیے آئے روز چھاپے مارے جاتے رہتے ہیں۔
پاکستان سے مذہبی یا سیاسی بنیادوں پر پناہ حاصل کر کے کسی ترقی یافتہ ملک میں منتقل ہونے کے لیے جانیوالے کچھ افراد کو تو شروع شروع میں کامیابی ملی لیکن اب وہاں اس غرض سے مقیم افراد انتہائی زبوں حالی کا شکار ہیں۔

تھائی لینڈ کے مقامی قوانین میں پناہ گزینوں یا مہاجرین کو رہائشی درجہ دینے کی گنجائش نہیں ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

غیر قانونی ہونے کے باعث ان کو کام بھی نہیں ملتا اور اگر کہیں چھوٹی موٹی مزدوری ملتی بھی ہے تو وہ چھپ چھپ کر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
وہ اتنے خوفزدہ ہیں کہ کسی سے ملنے اور اپنی پریشانی بیان کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں اور اپنی رہائش کا مقام تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
بنکاک میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق وہاں حالات کی سنگینی کے باعث بہت سے لوگ واپس پاکستان آ گئے ہیں لیکن کئی لوگوں نے اپنی آمد خفیہ رکھی ہوئی ہے۔
پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ چند سال پہلے تک تھائی لینڈ میں مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر پناہ کے لیے گئے ہوئے پاکستانیوں کی تعداد 10ہزار کے قریب تھی، جن میں سے بیشتر کے کیسیز جھوٹے تھے۔
جھوٹی درخواستیں مسترد ہونے اور تھائی لینڈ میں قیام میں مشکلات کے باعث غیرقانونی مقیم پاکستانیوں کی اکثریت واپس آ گئی اور اب تقریباً ایک ہزار کے قریب پاکستانی غیر قانونی طور پر وہاں موجود ہیں جن میں سے بیشتر جیل میں ہیں۔

تھائی لینڈ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی اتنے خوفزدہ ہیں کہ کسی سے ملنے سے بھی ہچکچاتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

پناہ کے لیے جھوٹی درخواستیں دینے کی وجہ سے اب اقوام متحدہ بھی تمام کیسیز کی سخت چھان بین کرتا ہے جس کی وجہ سے ان کو نمٹانے میں بہت وقت لگتا ہے۔
ماضی میں پاکستان میں اقلیتوں کی ایک نمایاں شخصیت کے ساتھ کام کرنے والے اسی طرح کے ایک پناہ گزین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا  کہ وہ اور ان جیسے دوسرے کئی غیر قانونی پاکستانی کسی کو اپنے بارے میں اس لیے نہیں بتاتے کہ اس سے نہ صرف تھائی لینڈ کے حکام کو ان کے محل وقوع کے بارے میں اندازہ ہو جاتا ہے، بلکہ پاکستان میں موجود ان کے رشتہ داروں کو بھی حکومتی اداروں کی جانب سے تفتیش کا سامنا ہوتا ہے۔   
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ تھائی لینڈ کے حکام نے لاسال، بنگ نا، برنگ اور سمرونگ کے علاقوں میں چھاپے مار کر تین سو کے قریب پاکستانی پناہ گزینوں کو گرفتار کر لیا تھا، جب کہ تقریباً تین سو دوسرے پناہ گزین گرفتاریوں سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔

پناہ کے لیے جھوٹی درخواستوں کی وجہ سے اب اقوام متحدہ بھی تمام کیسیز کی سخت چھان بین کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پناہ گزین اپنے بارے میں معلومات کسی غیر متعلقہ فرد کے سامنے افشا نہیں کرے گا کیونکہ اس سے اس کے پکڑے جانے یا کیس خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔
ایک پاکستانی مسیح، جو توہین مذہب کے الزام کے بعد بنکاک میں مقیم ہے، نے کہا کہ کسی بھی شخص سے اپنے بارے میں گفتگو کرنے یا اپنی شناخت ظاہر کرنے سے نہ صرف اس کو پناہ کے حصول میں مشکلات آئیں گی بلکہ پاکستان میں موجود اس کے رشتہ دار بھی عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گے۔
ایک احمدی خاتون جو اپنے شوہر کے ساتھ بنکاک میں اقوام متحدہ سے  پناہ ملنے کی منتظر ہیں، نے بتایا کہ ان کے علاقے میں پوری کی پوری عمارتیں پاکستانی پناہ گزینوں سے بھری پڑی ہیں تاہم وہ ہر وقت خوف و ہراس کا شکار رہتے ہیں اور سامنے آنے سے ڈرتے ہیں۔

ک اور پناہ گزین نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد حالات اتنے خراب ہو جاتے ہیں کہ پاکستان واپس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ فوٹو: اے ایف پی

ایک اور پناہ گزین نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد حالات اتنے خراب ہو جاتے ہیں کہ پاکستان واپس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔
’دو ہی طریقے ہیں یا تو ہم یہاں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہیں اور چھپ چھپ کر چھوٹے موٹے کام کریں یا پھر گرفتار ہو کر پاکستان ڈی پورٹ ہو جائیں، دونوں صورتوں میں شرمندگی، ہزیمت اور ناکامی ہے۔‘
پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے پاکستانیوں کو نہ صرف تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں بلکہ انہیں واپس جانے کے لیے رضامند کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور انہی کوششوں کی بدولت غیر قانونی رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان واپس چلی گئی ہے۔

شیئر: