Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گانوں سے تشدد پھیلانے کا الزام، پنجابی گلوکاروں پر مقدمہ

گلوکاروں کے خلاف ایف آئی آر تعزیرات ہند کے دفعہ 294، 504 اور 149 کے تحت درج کی گئی ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)
انڈین پنجاب کی پولیس نے دو پنجابی گلوکاروں پر اپنے ایک گانے میں تشدد اور گن کلچر کو پراموٹ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
انڈین ٹیلی ویژن چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق سبھدیپ سدھو المعروف سدھو موسے والا اور منکرت اولکھ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک حالیہ گانے میں تشدد اور بندوق کلچر کو فروع دیا ہے۔
 
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس بریندر بھرگاؤ کے مطابق ایف آئی آر تعزیرات ہند کے دفعہ 294، 504 اور 149 کے تحت درج کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ گانے کو پنجاب کے منسا ضلع کے موسیٰ گاؤں میں موسے والا کے گھر ریکارڈ کیا گیا۔
ان کے مطابق اس گانے کی ایک ویڈیوں کلپ سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی جس میں تشدد اور گن کلچر کو فروع دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ موسے والا کے گانے ’پکھیا پکھیا پکھیا، گن وچ پنج گولیاں‘ میں واضح طور پر تشدد اور گن کلچر کو پروموٹ کیا گیا ہے۔
جمعے کو انڈین پنجاب کے وزیر اعلیٰ ارمندر سنگھ نے پنجابی گانوں میں تشدد اور گن کلچر کے فروع پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

پولیس کے مطابق موس والا کے گانے ’پکھیا پکھیا پکھیا، گن وچ پنج گولیاں‘ میں واضح طور پر تشدد کو پروموٹ کیا گیا ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

وزیر اعلیٰ نے اس عزم ظاہر کیا تھا کہ ان کی حکومت ایسے سنگرز، جو نوجوانوں کو تشدد اور غنڈہ گردی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں، سے کوئی رعایت نہیں برتے گی۔
خیال رہے پنجاب اور ہریانہ کی ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی ایسا گانا جس میں شراب، منشیات اور تشدد کی ترویج یا حوصلہ افزائی کی گئی ہوں اسے براہ راست شو میں بھی نشر نہ کیا جائیں۔

شیئر: