مرد تب بدصُورت ہوتا ہے جب۔۔

حالات حاضرہ کتنے ہی رش بھرے کیوں نہ ہوں، معاشرتی موضوعات ٹائم لائنز پر اپنی جگہ بنا ہی لیتے ہیں (فوٹو: ان سپلیش)
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر موجود صارفین حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ زندگی سے جڑے دیگر ہلکے پھلکے موضوعات کو بھی اپنی گفتگو کے دائرے سے باہر نہیں نکلنے دیتے۔
پاکستانی سوشل میڈیا یوزرز نے اس مرتبہ کچھ ایسا ہی معاملہ مردوں کی بدصورتی یا مردوں کی اہمیت کم ہونے کے سوال سے روا رکھا۔ اس سوال اور جوابات پر مبنی گفتگو نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ حالات حاضرہ کتنے ہی رش بھرے کیوں نہ ہوں، سماجی و معاشرتی موضوعات ٹائم لائنز پر اپنی جگہ بنا ہی لیتے ہیں۔
مائکرو بلاگنگ کے مشہور پلیٹ فارم ٹوئٹر پر سعد مقصود نامی ایک صارف نے سوال کیا کہ ’مرد تب بدصورت ہوتا ہے جب اس کی جیب خالی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟ یہ ٹویٹ سماجی رویوں کے مشاہدات اور معاشرتی زندگی سے متعلق تجربات پر دلچسپ گفتگو کی بنیاد بن گئی۔ ٹوئٹر صارفین نے دل کھول کو موضوع کی حمایت، مخالفت اور دیگر پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
گفتگو میں شریک رہنے والوں نے ہاں یا نہ پر مبنی جواب پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے مشاہدات کو بھی بحث کا حصہ بنایا۔ پاکستانی بلاگر اور فوٹوگرافر جویریہ صدیق نے لکھا کہ ’ہر گز نہیں، مرد تب بدصورت ہوتا ہے جب وہ عورت پر ظلم کرے‘۔

بہت سے صارفین نے بداخلاقی، بدزبانی اور عزت نہ دینے کو بدصورتی کا باعث قرار دیا۔ شازمہ نوشین نے ظلم کو مرد کی بدصورتی کی وجہ کہا۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ایسے فرد کے پاس خزانے ہی کیوں نہ ہوں وہ بدصورت رہے گا۔

مرد کی بدصورتی کے لیے جیب کے خالی ہونے کو جواز نہ ماننے والوں کی خاصی تعداد بھی گفتگو کا حصہ رہی۔ صالحہ سراج نامی صارف نے لکھا ’ضروری نہیں، یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے‘۔

حریم فارض نامی صارف نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے بدصورتی کے اس معیار سے اختلاف کو شرافت کی نشانی قرار دے ڈالا۔ اپنی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’شریف لوگ نہ مردوں کو نہ عورتوں کو اس تناظر میں تولتے ہیں‘۔

سوشل ٹرینڈز ہوں یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی عمومی گفتگو، ہر دو کا عمومی مشاہدہ بتاتا ہے کہ سماجی رابطوں کے صارفین جس بھی موضوع کو گفتگو کے لیے منتخب کریں، اس کے سارے نہ سہی، بیشتر رنگوں کا ذکر کرنا نہیں بھولتے۔
حالیہ گفتگو میں زاویہ نظر کے رنگ بکھرے تو جیب خالی ہونے کو مرد کی بدصورتی ماننے والے بھی خاموش نہ رہے۔ انجینئر شہزاد گجر نامی صارف نے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے لکھا ’بہت سے لوگ نیکی اور سیرت ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں جو کہ اچھی بات ہے لیکن شاید وہ یہ باتیں کرتے وقت اپنے اردگرد کے ماحول اور معاشرے کو نظرانداز کردیتے ہیں‘۔

مشاہدے کی بنیاد پر رائے قائم کرنے والوں کے ساتھ اپنے تجربے کو گفتگو کا حصہ بنانے والے بھی چپ نہیں رہے۔ محمد ریحان نامی صارف نے سوال سے سو فیصد اتفاق ظاہر کیا، ساتھ ہی اس اتفاق کے پس پردہ ثبوت کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں بھری ہوئی جیب اور خالی جیب دونوں کا تجربہ ہے۔

  • واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: