Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پانچ سال گزر گئے، اورنج ٹرین نہ چل سکی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں ریپرڈ ٹرانسپورٹ کا اورنج لائن ٹرین منصوبہ شروع ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ ٹرین اکتوبر کے تیسرے ہفتے چلا دی جائے گی۔
سابق دور حکومت میں اورنج لائن کا منصوبہ پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون سے شروع ہوا اور اس کو پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ مانا گیا۔ تاہم پشاور میٹرو کی طرح یہ بھی اپنے مقرر کردہ وقت کے اندر مکمل نہیں ہو سکا۔ ستمبر 2020 میں اس منصوبے کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اورنج لائن ٹرین کے منصوبے کا پہلا معاہدہ پاک چائنہ سمجھوتا مئی 2014 میں ہوا۔ جبکہ چین کے ایگزیم بنک نے دسمبر 2015 میں اس ٹرین کے لیے 1.99 ارب ڈالر کا قرض منظور کیا۔ تاہم تعمیراتی کام کا آغاز ستمبر 2015 میں شروع ہو چکا تھا اور تین پاکستانی کمپنیوں کو تعمیراتی کام کا ٹھیکہ دیا گیا۔
اس وقت کے وزیر اعلی شہباز شریف نے ٹرین منصوبے کو 27 مہینوں میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم کئی پیچیدگیوں کی وجہ سے مقررہ وقت میں یہ منصوبہ پایا تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے جی ایم آپریشن محمد عزیر شاہ کے مطابق، 'ابھی اورنج لائن کا کنٹرول اتھارٹی کے حوالے نہیں کیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ 15 ستمبر کے ٹرین اتھارٹی کے حوالے کر دی جائے گی جس کے بعد اس کو عوام کے لیے کھولنے کی تیاریاں شروع کر دی جائیں گی۔'

 شہباز شریف نے اس منصوبے کو 27 مہینوں میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا (فوٹو اے ایف پی)

محمد عزیر کے مطابق ٹرین ابھی تک ٹیسٹنگ فیز میں ہے اور چین کی کمپنی اس کے ٹیسٹ رن کر رہی ہے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ 25 اکتوبر کو ٹرین عوام کے لیے کھول دی جائے گی۔
تاریخ پر تاریخ
اورنج لائن ٹرین کو شروع دن سے ہی اس وقت کی اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا ۔ البتہ تنقید کے باوجود ٹرین سسٹم کی تعمیر کا کام جاری رہا۔ تاہم اورنج ٹرین کو دھچکہ اس وقت لگا جب لاہور ہائی کورٹ نے جنوری 2016 میں اس کے بعض حصوں کی تعمیر روک دی۔ یہ اور عدالتی حکم امتناعی قریب 22 مہینے چلا جس کے دوران تعمیراتی کام ان حصوں میں نہیں ہو سکا جن پر حکم امتناعی تھا۔
دسمبر 2017 میں ملک کی سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ ختم کرتے ہوئے مشروط طور پر ٹرین سے متعلقہ تعمیرات کی اجازت دے دی۔ ٹرین کے ٹیسٹ رن کا سب سے پہلا اعلان سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے الیکشن پہلے کر دیا ۔ بلکہ اس ٹیسٹ رن کے افتتاح ہر انہوں نے ٹرین میں سفر بھی کیا۔
2018 کے انتخابات کے سے پہلے اور بعد میں تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہو گیا۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو ٹرین کا بقیہ ماندہ کام جلد از جلد کرنے کا حکم دیا۔ حکومت کی جانب سے چھ مرتبہ ٹرین کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن عدالت میں جمع کروائی تاہم کسی ایک بھی ڈیڈ لائن پر عمل نہیں ہو سکا۔

حکومت اپنا ہدف حاصل نہ کر سکی اور اب نئی تاریخ 25 اکتوبر دی گئی ہے (فوٹو اے ایف پی)

عدالت میں جمع کروائی جانے والی آخری ڈیڈ لائن مئی 2020 تھی تاہم کورونا کی وجہ سے حکومت اپنا ہدف حاصل نہ کر سکی۔ اب نئی تاریخ 25 اکتوبر دی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ٹرین کا 97 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اب صرف بعض جگہوں پر اختتامی کام جاری ہے۔

شیئر: