Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حکومت کا پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 27 مئی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جائے گا۔
مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا جمعرات کی رات کو پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔‘
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 179 روپے، 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 174 روپے 15 پیسے ہوجائے گی۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 155 روپے 56 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 148 روپے 31 پیسے فی لیٹر ہوجائے گی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت اب بھی ڈیزل پر فی لیٹر پر 56 روپے سبسڈی دے رہی ہے۔ ’عمران خان کی حکومت معاشی بارودی سرنگیں بچھا کرگئی ہے۔‘
’آج بھی 30 روپے فی لیٹر قیمت بڑھانے کے بعد ڈیزل پر حکومت 56 روپے 71 پیسے اور پیٹرول پر 37 روپے 84 پیسے سبسڈی دے رہی ہے۔‘
مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ ’آئی ایم ایف سے بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے بغیر اس کا قرض نہیں مل سکتا۔‘
ان کے مطابق روپیہ مسلسل گر رہا تھا اور پیٹرول کی قیمت نہ بڑھاتے تو مزید گر جاتا۔ ’سابق حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث آج ملک کو مہنگائی کا سامنا ہے۔‘
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’یہ ریاست کے لیے صحیح فیصلہ ہے۔ اس سے سیاسی نقصان ہوتا ہے تو ہوجائے۔‘
’سیاست بچا کر ریاست کو ڈبونا حکمت کا فیصلہ نہیں ہے، ہماری سیاست ڈوبتی ہے اور ریاست بچ جاتی ہے تو یہ ملک کے لیے بہتر ہے.‘

مفتاح اسماعیل کے مطابق ’اب بھی حکومت ڈیزل پر 56 روپے 71 پیسے اور پیٹرول پر 37 روپے 84 پیسے سبسڈی دے رہی ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ ’آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا کہا تھا۔‘
’تاہم میں آئی ایم ایف کو قصوروار نہیں کہوں گا۔ مجھے دنیا کا کوئی ایسا ملک دکھائیں جو ایک لیٹر پیٹرول پر 86 روپے سبسڈی دیتا ہو۔‘
’پیٹرول پر سبسڈی کا امیر اور غریب طبقہ دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جس قیمت پر ہم پیٹرول خرید رہے ہیں اس سے بھی کم قیمت پر ہم عوام کو پیٹرول اور ڈیزل دے رہے ہیں۔‘
مشیر خزانہ کے مطابق ’غریب عوام سے پیسہ لے کر سبسڈی بڑی گاڑی والوں کو ملتی ہے​۔ غریب لوگوں سے پیسہ لے کر امیر لوگوں کی جیب میں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے۔‘

شیئر: