Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کو اکتوبر تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے

پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی مدد پر نظر رکھنے والے ادارے (ایف اے ٹی ایف) کا ہائبرڈ اجلاس اگلے ہفتے جرمنی میں منعقد ہو رہا ہے جس میں پاکستان کو بہتر فیڈ بیک کی امید ہے تاہم ملک کا نام گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اکتوبر تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وفد کی اہم رکن اور ڈی جی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) لبنیٰ فاروق نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابھی تک پاکستان کے مذاکرات بہت اچھے جا رہے ہیں تاہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس سال کے آغاز میں پاکستان کے اقدامات کو سراہا گیا تھا اور صرف آخری نکتے اور اس سے متعلقہ سات معاملات پر مزید کام کرنے کا کہا گیا تھا۔
لبنیٰ فاروق نے بتایا کہ ’ہم نے ان تمام بقیہ معاملات پر بھی مطلوبہ پیش رفت حاصل کر لی ہے اور اب اچھے نتائج کی امید ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہو بھی گیا تو اس کے کچھ مراحل ہوتے ہیں۔
ایف ایم یو کی ڈائریکٹر جنرل کے مطابق پہلے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ فلاں ملک نے اپنا پلان مکمل کر لیا ہے۔ ’اس کے بعد اس ملک کا آن سائٹ وزٹ بھی کیا جاتا ہے تاکہ ساری پیش رفت کو دیکھ بھی لیا جائے۔ اس وزٹ کے بعد اس ملک کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جاتا ہے۔‘
ایف اے ٹی ایف میں پاکستانی مذاکرات سے منسلک ایک اور اہلکار کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ اس سال ہی ایف اے ٹی ایف کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا اور اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف ورکنگ گروپ میٹنگ کے بعد پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ’عام طور پر انڈیا پاکستان کی ایف اے ٹی ایف اجلاس میں شدید مخالفت کرتا ہے جس کے بعد اس کا نام لسٹ سے نکلنے میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں مگر حالیہ مذاکرات میں انڈیا کی مخالفت میں کمی واقع ہوئی ہے۔‘

ایف اے ٹی ایف کا آئندہ اجلاس جرمن دارالحکومت برلن میں 12 جون سے 17 جون تک جاری رہے گا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات اس لیے روشن ہیں کیونکہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تقریباً تمام اہداف پورے کر دیے ہیں۔
تاہم لبنیٰ فاروق کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اتنا نازک ہے کہ حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کئی عوامل ہوتے ہیں جو آخری وقت بھی فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا آئندہ اجلاس جرمن دارالحکومت برلن میں 12 جون سے 17 جون تک جاری رہے گا۔ اجلاس کے آخری روز 17 جون کو مختلف ممالک کے گرے لسٹ یا بلیک لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے گذشتہ ماہ یورپ کے اہم ممالک کا دورہ کیا تھا اور یورپ کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کے سٹیٹس کے حوالے سے پاکستانی موقف کی حمایت  کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
 جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک  نے بھی پاکستان کا حال ہی میں دورہ کیا تھا جبکہ ایف اے ٹی ایف کی صدارت بھی اس وقت جرمنی کے پاس ہے اور اجلاس برلن میں ہو رہا ہے۔
اس سال مارچ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے ۔
ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے میں خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں اور افراد کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ جون 2021 کے بعد سے  پاکستان نے دہشتگردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب تیزی سے اقدامات کیے ہیں اور کسی بھی متعلقہ ڈیڈ لائن کی میعاد ختم ہونے سے پہلے سات میں سے چھ نکات کو مکمل کر لیا ہے۔
اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں اور افراد کے خلاف سخت پابندیاں عائد کیں تاہم پاکستان کو منی لانڈرنگ سے متعلق پیچیدہ تحقیقات اور پراسیکیوشن کے حوالے سے صرف ایک اور نقطے پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا اور اسے بلیک لسٹ میں جانے سے بچنے کے لیے پلان آف ایکشن دیا گیا تھا۔

شیئر: