Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عجب خان آفریدی، برطانوی سرکار کا باغی یا آزادی کا ہیرو؟

سابق گورنر سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فضلِ حق مولی ایلس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے (فائل فوٹو)
پاکستان آرمی میں کمیشن کے خواہش مند نوجوانوں کی اہلیت جانچنے کے لیے انہیں خیبر پختونخوا کے علاقے کوہاٹ میں قائم سینٹر بلایا جاتا ہے۔
اس سینٹر میں ایک عمارت انٹر سروسز سلیکشن بورڈ ہاؤس کہلاتی ہے۔موجودہ عمارت میں آئی ایس ایس بی کے سربراہ کا دفتر واقع ہے۔ اس کی تعمیر یہاں واقع ایک پرانی عمارت کو منہدم  کر کے کی گئی تھی۔
آج سے ٹھیک 100 برس قبل 14 اپریل 1923 کو اس پرانی عمارت میں ہونے والے ایک حادثے نے واقعات کے ایسے سلسلے کو جنم دیا جس میں سسپنس اور ٹکراؤ سے بھرپور فلم کے تمام کردار اور پلاٹ موجود ہے۔
کوہاٹ چھاؤنی میں ایستادہ ایک گھڑ سوار عجب خان آفریدی کا مجسمہ اور اس سے کچھ دور مسیحی قبرستان میں مسز ایلس کی گمنام قبر ایک صدی بعد بھی کسی ہنگامہ خیز ناول جیسی حقیقی داستان کی نشانیاں ہیں۔
اس کہانی کا مرکزی کردار عجب خان آفریدی درہ آدم خیل کے علاقے بوستی خیل میں آباد احمد خیل آفریدی قبیلے کا ایک نوجوان تھا جس پر کوہاٹ فورٹ کی تعمیر کے دوران پولیس کی بندوقیں غائب کرنے کا الزام تھا۔
عجب خان آفریدی اپنے بھائی شہزادہ اور ساتھیوں گل اکبر، سلطان میر اور حیدر شاہ کے ہمراہ ایک گروہ کی شکل میں درہ آدم خیل اور وادی تیراہ میں انگریزوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔
ان کی سرکوبی کے لیے ایف سی کے دستے نے عجب خان کے گھر چھاپہ مارا۔اہلکاروں کو بتایا گیا کہ اس گروہ کے اراکین عورتوں کے لباس میں فرار ہو سکتے ہیں۔
اسی باعث ایف سی کے فوجیوں نے عجب خان آفریدی کے گھر کی خواتین کی تلاشی لینے کی کوشش کی اور ان کے ساتھ بدتمیزی اور بدسلوکی سے پیش آئے۔
اس واقعے سے عجب خان آگ بگولا ہوگیا اور اس نے بدلہ لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھیوں پر پہلے بھی ایک انگریز اہلکار اور اس کی اہلیہ کے قتل کا شبہ ظاہر کیا جاتا تھا مگر عدم ثبوت کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

عجب خان کے بیٹے نیک محمد غزیزوئی کی تیراہ کے اس گھر میں تصویر جہاں مولی کو اغوا کے بعد رکھا گیا (فائل فوٹو)

انگریز میجر کی بیٹی کا ڈرامائی اغوا
عجب خان اپنے بھائی اور ساتھیوں کے ساتھ کوہاٹ چھاؤنی میں واقع انگریز افسر میجر ایلس کے بنگلے میں گھس گیا۔ فوجی افسر خود کسی کام سے شہر سے باہر تھا۔
اس کی اہلیہ نے شور مچا کر محافظوں کو خبردار کرنے کی کوشش کی تو شہزادہ خان نے افراتفری میں اسے خنجر گھونپ دیا۔
انگریز فوجی افسر کی 17 سالہ بیٹی مولی ایلس والدہ کے قتل کے وقت وہیں موجود تھی۔ عجب خان نے اسے ساتھ لیا اور چھاؤنی سے نکل کھڑا ہوا۔
علاقے کے چپے چپے سے واقف ہونے کی وجہ سے وہ اپنے گروہ اور لڑکی کے ساتھ پہاڑی دروں سے ہوتا ہوا اورکزئی ایجنسی چلا گیا جہاں اس نے ماموزئی قبیلے میں پناہ لے لی۔
یہاں کا سردار ملا محمود اخونزادہ روحانی رہنما ہونے کی وجہ سے علاقے پر گہرا اثر رکھتا تھا۔ اپنی انگریز دشمنی کی وجہ سے اسے علاقے میں گہری تکریم حاصل تھی۔
برطانوی راج کے لیے یہ واقعہ سبکی کا باعث بن گیا تھا۔ پشاور کے چیف کمشنر سر جان میفی کو مولی کی بازیابی کا مشن سونپا گیا۔
پاکستان کے سابق سینیئر بیوروکریٹ شکیل درانی مختلف صوبوں کے چیف سیکریٹری کے علاوہ واپڈا اور ریلوے کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

مولی ایلس کی تصویر جب وہ 17 برس کی تھیں (فائل فوٹو: آئی ایس ایس بی ہاؤس)

وہ 1980 میں ایک تعلیمی کورس کے لیے لندن میں مقیم تھے جب انہوں نے مولی ایلس سے ملاقات کی۔ اپنی آپ بیتی ’فرنٹیئر سٹیشنز‘ میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔
شکیل درانی کے مطابق ’انگریزوں نے مغوی لڑکی برآمد کرنے کے لیے دو ڈویژن فوج تک طلب کر لی تھی مگر قبائلی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے خیبر ایجنسی کے ملک اور مشران کا جرگہ بنایا گیا۔
انگریز سرکار نے کسی نہ کسی انداز میں حکومت سے وابستہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کرم ایجنسی قلی خان اور چیف کمشنر کے ذاتی معاون رسالدار مغل باز خان کو جرگے سے رابطے اور قبائلی سرداران کی مدد سے لڑکی کی واپسی کی ذمہ داری سونپی۔ ان کے ساتھ ایک تیسرا نام شیخ محبوب علی کا بھی تھا۔
ان تینوں نے مختلف افراد پر مشتمل دستہ تشکیل دیا اور شنواری فورٹ سے اورکزئی قبیلے کے علاقے کی طرف روانہ ہوئے۔
اس دستے میں کسی برطانوی اہلکار کی شمولیت کے سوال پر چیف کمشنر نے جس کا انتخاب کیا وہ باقی تمام افراد کے لیے حیرت کا باعث تھا۔وہ اس لیے کہ دور دراز قبائلی علاقے میں جان لیوا مہم کے لیے ایک خاتون کو بھیجنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

مولی ایلس اپنی رہائی کی صبح ملا محمود، قلی خان، لیلیئن سٹار اور مغل باز کے ہمراہ (فائل فوٹو: لیلیئن سٹار 1924 بُک)

پُرخطر مہم کے واقعات بیان کرنے والی انگریز نرس
لیلیئن سٹار پشاور کے کرسچیئن مشنری ہسپتال کی نرس تھیں۔ ان کا ڈاکٹر شوہر قبائلیوں کے ہاتھوں قتل ہو چکا تھا۔اس کے انتخاب کی ایک وجہ حوصلہ مندی اور ہوشیاری تھی۔
اس کے علاوہ پشتو زبان اور قبائلی علاقے کے لوگوں کے ساتھ واقفیت کی وجہ سے اسے یہ مہم سونپی گئی۔
اس مہم کی جزئیات اور تفصیلات 1924 میں شائع ہونے والی لیلیئن سٹار کی کتاب Tales of Tirah and Lesser Tibet  کے ذریعے منظرعام پر آئی۔
انہیں خبر ملی کہ اغوا شدہ لڑکی خانکی بازار کے علاقے میں موجود ہے۔ 18 اپریل کو قبائلی زعما اور ان کے مددگاروں کا یہ قافلہ خانکی وادی کے لیے روانہ ہوا۔
راستے میں انہیں ملا عبدالحق کی مدد بھی حاصل ہوگئی جن کا والد انگریزی حکومت کا وفادار اور عجب خان کی واردات کا سخت مخالف تھا۔
قبائلی علاقوں سے گزرتے ہوئے مقامی افراد ایک انگریز خاتون کو پشتوں بولتے دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے۔ انہوں نے ایک مقامی خان صوبیدار میجر عظیم اللہ کے ہاں قیام کیا۔
یہیں پر انہیں ملا محمود  کا خط ملا جس میں ایک انگریز خاتون کو ساتھ لانے پر برہمی ظاہر کی گئی تھی اور ان پر گولیاں چلانے کی دھمکی دی تھی۔

عجب خان آفریدی کے بیٹے نیک محمد اپنے بھائی اور بیٹے کے ساتھ پشاور کے علاقے حیات آباد میں مقیم ہیں (فائل فوٹو)

انہیں غلط فہمی تھی کہ شاید قافلے کے ساتھ آنے والی خاتون کے روپ میں انگریز سپاہی کر رہا ہے۔ قافلے نے ملا کے ساتھیوں کو سمجھا بجھا کر سفر جاری رکھا، تاہم مس سٹار کو  محمود اخوندزادہ کے گھر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سونس کی کتاب ’نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پیپلز اینڈ ایونٹس‘ میں قبائلی جرگے کے ساتھ مذاکرات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
قلی خان کے ساتھ ابتدائی مذاکرات میں لڑکی کی اپنے علاقے میں موجودگی سے ہی مُکر گیا، مگر اصرار پر اگلے روز عجب خان اور شہزادے کو جرگہ میں بلانے پر آمادہ ہو گیا۔
اگلے دن عجب خان نے جرگے میں مولی کے اغوا کو اپنی بےعزتی کا بدلا قرار دیا۔ ساتھ ہی اس نے لڑکی کو قندھار لے جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ قلی خان نے اسے باور کرایا کہ لڑکی اس لباس اور جسمانی حالت کے ساتھ طویل سفر نہیں کر سکے گی۔
عجب خان آفریدی نے مولی کی رہائی کے لیے انگریز کے قتل کے الزام میں گرفتار اپنے ساتھیوں کی رہائی اور 50 ہزار روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا۔
عجب خان آفریدی کے بیٹے نیک محمد اپنے بھائی اور بیٹے کے ساتھ پشاور کے علاقے حیات آباد میں مقیم ہیں۔ وہ پاکستان افغان سرحد کے دونوں طرف آتے جاتے ہیں۔

شکیل درانی نے لندن میں مولی ایلس سے ملاقات کی اور اپنی آپ بیتی ’فرنٹیئر سٹیشنز‘ میں اس کی تفصیل بیان کی (فائل فوٹو: فرنٹیئر سٹیشنز)

اردو نیوز سے ملاقات میں انہوں نے اپنے والد کی سرگرمیوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد قرار دیا۔ان کے بقوٖل یہ آزادی کی جدوجہد تھی۔نیک محمد کا کہنا تھا کہ میرے والد نے اغوا ہونے والی لڑکی کی عزت و تکریم کا پورا خیال رکھا۔
قلی خان اور  مغل باز کی کوششوں سے مولی ایلس کو لیلیئن سٹار کے حوالے کیا گیا۔ اسی دوران عجب خان اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں آگیا۔
وہ خبر لشکر کی طرف سے اپنے گھر جلائے جانے پر سخت برہم تھا۔جب اسے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا بتایا گیا تو اس نے مولی کو جانے کی اجازت دے دی۔
 22  اپریل 1923 کو میجر ایلس کی اغوا ہونے والی بیٹی شنواری فورٹ میں اپنے والد سے پھر مل رہی تھی۔
چیف کمشنر سر جان میفی البتہ عجب خان اور اس کے ساتھیوں کو ہر حال میں سزا دلوانے پر تُلا بیٹھا تھا۔
عجب خان کی جلاوطنی
اسی برس مئی کے مہینے میں آفریدی اور اورکزئی قبائل کے ایک غیر معمولی جرگے نے عجب خان کو ان کے خاندان سمیت علاقے سے بے دخل کرنے کا حکم دیا، اور اس کے گھروں کو مسمار کرنے کے احکامات دیے گئے۔
عجب خان اپنے خاندان کے ساتھ اخونزادہ کے علاقے میں قیام پذیر ہو گیا۔

آفریدی اور اورکزئی قبائل کے جرگے نے عجب خان کو ان کے خاندان سمیت علاقے سے بے دخل کرنے کا حکم دیا (فائل فوٹو)

کابل میں برطانوی سفیر فرانسس ہنری نے افغان حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ عجب خان آفریدی کو ہندوستان سے دور رکھیں۔ افغانستان کو مجبور کرنے کے لیے ہندوستان سے بحری راستے سے آنے والے سامان کی ترسیل بند کرنے کی دھمکی دی گئی۔
اس دور میں افغانستان کا وزیر جنگ نادر شاہ عجب خان کا پرانا شناسا تھا۔ اس نے اپنے دوست کو مزار شریف میں مستقل بسنے کے لیے کئی ہزار ایکڑ اراضی فراہم کی۔ 
عجب خان اپنے دوستوں اور خاندان سمیت وہاں چلا گیا۔ افغانستان کے حکمران شاہی خاندان سے اس کے قریبی تعلقات تھے۔ اسے پاکستان واپسی کی مہلت نہ ملی اور 1962 میں افغانستان میں ہی اس کا انتقال ہوا۔
البتہ شہزادہ خان نے 1970 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہونے کی درخواست کی مگر اجازت نہیں ملی۔ البتہ وہ چوری چھپے اپنا آبائی علاقہ دیکھنے چلا جاتا۔
عجب خان افریدی کے بیٹوں کا پاکستان آنا جانا لگا رہا۔ ان میں سے ایک نے 90 کی دہائی میں درہ آدم خیل سے قومی اسمبلی کے الیکشن میں بھی حصہ لیا۔
نیک محمد کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کو جبر کے ساتھ افغانستان بھیجا گیا۔ اب یہاں پر انہیں افغانی قرار دیا جاتا ہے اور سرحد کے دوسری طرف پاکستانی سمجھا جاتا ہے۔
ان کے خیال میں عجب خان آفریدی کی یادگار تو بنائی گئی مگر انہیں وہ حیثیت نہیں مل سکی جس کے وہ حقدار تھے۔

مولی ایلس میزبان ثمینہ محمود جان کے ہمراہ (فائل فوٹو: روزنامہ جنگ)

مولی ایلس کو صوبے کے گورنر کس سے ملوانا چاہتے تھے؟
رہائی کے بعد مولی انگلستان چلی گئی اور وہیں شادی کر کے بس گئی۔ شکیل درانی نے اس کے ساتھ اپنی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ انہوں نے سرحد کے آخری انگریز گورنر سر اولف کیرو کے ذریعے مولی سے ملاقات کی۔
وہ اپنی والدہ کے قتل اور اپنے ساتھ گزرے واقعے پر مغموم اور رنجیدہ تھی۔ اس نے انہیں اپنے باغیچے میں کاشت کیے سیب کھانے کو پیش کیے۔
ان کی واپسی پر مولی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنی والدہ کی قبر پر نصب کتبے کے لیے مخصوص عبارت انہیں دینا چاہتی ہیں۔ شکیل درانی نے ان کی اس خواہش کی تکمیل کی۔
مولی ایلس 1983 میں اپنی والدہ کی قبر دیکھنے پاکستان آئی۔ اس دورے کی دعوت انہیں پشاور میں مقیم ڈاکٹر ثمن محمود جان نے دی تھی جو قلی خان کی نواسی ہیں۔
اسی طرح پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان ان کے پوتے ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے کہ مولی کی واپسی کے ایک دوسرے کردار مغل باز خان کے بیٹے لیفٹیننٹ جنرل جہانزیب خان بھی پاکستانی فوج کا حصہ رہے۔
اس دورے کے موقع پر انہوں نے والدہ کی قبر پر پودا لگایا۔ شکیل درانی نے اس دورے کے بارے میں ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔

لیلیئن سٹار کی تصویر (فائل فوٹو: لیلیئن سٹار 1924 بُک)

انہوں نے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے خیبر رائفلز کی میس میں انہیں دوپہر کے کھانے کی دعوت دی۔ اسی دوران انہیں اس وقت کے صوبائی گورنر فضل حق کا ٹیلی فون موصول ہوا۔ وہ چاہتے تھے کہ مولی رات کے کھانے پر گورنر ہاؤس کی مہمان بنے۔
صوبے کے گورنر نے مولی اور عجب خان آفریدی کے خاندان میں دشمنی ختم کرنے کے لیے اپنی ایک مجوزہ سکیم کا ذکر شکیل درانی سے کیا۔
وہ چاہتے تھے کہ گورنر ہاؤس میں عجب خان آفریدی کی بیٹے جو کہ افغان مہاجر کی حیثیت سے پشاور میں مقیم ہیں، کو بھی مدعو کیا جائے، اور انہیں مولی سے ہاتھ ملانے کی دعوت دی جائے۔
شکیل درانی نے بتایا کہ انہوں نے گورنر صاحب کو مولی ایلس کی رضامندی جاننے کا کہا۔ اس کا ردعمل جاننے کے لیے انہوں نے مفروضے کے طور پر مولی سے پوچھا کہ اگر عجب خان یا شہزادہ کا بیٹا ان کے سامنے آجائے تو کیا وہ ان سے ہاتھ ملانا پسند کریں گی۔
اس پر مولی کا جواب تھا کہ ہاتھ ملانا تو دور کی بات ہے وہ ان سے ملنے پر بھی تیار نہیں ہوگی۔ یوں گورنر صاحب کو اپنی اس سکیم سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
تاریخی کہانی میں افسانوی رنگ
آج خیبر پختونخوا میں عجب خان کو ایک حریت پسند کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ دو دہائیاں قبل صوبے کے تعلیمی نصاب میں ان کا تذکرہ سکولوں میں پڑھایا جاتا تھا۔

لیلیئن سٹار کی آفریدی قبائل کی خواتین کے لباس میں تصویر (فائل فوٹو)

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کہانی میں رومانوی رنگ بھی شامل ہوتا چلا گیا۔ اس واقعے پر لکھنے والوں نے اپنے طور پر تصور کر لیا کہ مولی عجب خان کے حسن سلوک اور بہادری کی وجہ سے اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی۔ اس تصور کو عجب خان پر بننے والی فلموں نے اور پختہ کر دیا۔
پاکستان کے نامور فلمساز خلیل قیصر نے 60 کی دہائی میں اس واقعے پر عجب خان آفریدی کے نام سے اردو میں فلم بنائیں۔ا سی طرح نامور ادیب رحیم گل نے عجب خان آفریدی پر پشتو میں بننے والی فلم کی کہانی لکھی۔ 
مولی نے شکیل درانی سے اپنی ملاقات میں ان فلموں میں ان کی زندگی کو رومانوی انداز میں دکھانے پر دکھ کا اظہار کیا تھا۔
امریکی مصنف جان گیریٹ سنہ 2001 میں اس واقعے پر تفصیلی تحقیق کے لیے پاکستان آئے۔ انہوں نے ان تمام جگہوں کا دورہ کیا جس سے اس کہانی کے کرداروں اور واقعات کا تعلق تھا۔ انہوں نے عجب خان آفریدی کے حوالے سے خیبر پختونخوا آرکائیوز میں محفوظ پرانے ریکارڈ سے بھی استفادہ کیا۔
انہوں نے اس تاریخی واقعے کو ’ساؤتھ آف خیبر پاس‘ کے نام سے تاریخی ناول کا روپ دیا ہے۔ مصنف کے بقول برطانوی سرکار نے عجب خان کو دہشت گرد قرار دیا، مگر افغانستان اور پاکستان میں انہیں ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔

شیئر: