’عملہ 500 سے کم ہو کر 50‘، مصنوعی ذہانت فلمی صنعت کو کیسے بدلے گی؟
’عملہ 500 سے کم ہو کر 50‘، مصنوعی ذہانت فلمی صنعت کو کیسے بدلے گی؟
جمعرات 25 دسمبر 2025 16:13
ماہرین کے مطابق اے آئی کے استعمال سے فلم کریو بھی کم ہو جائے گا (فوٹو: ٹک نیوز ورلڈ)
فلم اور ٹی وی کی دنیا ایک بڑی تکنیکی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) خصوصاً ویڈیو ٹولز جیسے ’اوپن اے آئی‘ کا ’سورا‘ ہالی وڈ کے روایتی پروڈکشن ماڈل کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اے آئی ٹولز نہ صرف فلم سازی کے طریقہ کار بلکہ پوری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے ڈھانچے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
’ٹیک نیوز ورلڈ‘ کے مطابق اے آئی ویڈیو ٹولز کے ذریعے چند الفاظ پر مشتمل ہدایات (پرومپٹس) دے کر انتہائی حقیقت سے قریب مناظر تخلیق کیے جا سکتے ہیں جو ماضی میں بڑی پروڈکشن ٹیم، مہنگے کیمروں اور پیچیدہ سیٹ اپ کے بغیر ممکن نہ تھے۔
اس ٹیکنالوجی سے انڈپینڈنٹ فلم سازوں کو وہ تخلیقی طاقت مل سکتی ہے جو پہلے کروڑوں ڈالر بجٹ والی فلموں تک محدود تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنریٹو اے آئی نے ویڈیو کی ریکارڈنگ کو نہیں بلکہ اس کی تخلیق کو عام کر دیا ہے۔ اب کسی مقام پر شوٹنگ، اداکاروں، لائٹنگ اور سپیشل ایفکٹس کی جگہ ایک تفصیلی پرومپٹ ہی کافی ہو سکتا ہے۔
تاہم اس ترقی کے ساتھ سنگین خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اے آئی ٹولز کے ذریعے جعلی اور گمراہ کن ویڈیوز بنانا آسان ہو چکا ہے جسے ماہرین نے ’صنعتی سطح پر غلط معلومات کی تیاری‘ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیپ فیک اور شناخت کی چوری جیسے اخلاقی مسائل بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
اقتصادی طور پر بھی یہ ٹیکنالوجی بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے۔ جہاں ایک روایتی ہالی وڈ فلم میں 300 سے 500 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، وہیں اے آئی کے ذریعے یہ تعداد 50 سے بھی کم رہ سکتی ہے۔
ایک روایتی ہالی وڈ فلم میں 300 سے 500 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے (فائل فوٹو: ڈی ایف اے)
اس سے فلمی عملے، اداکاروں اور یونینز میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے تخلیقی صلاحیت ختم نہیں ہو گی بلکہ اس کی نوعیت بدل جائے گی۔ مستقبل میں ہدایت کار اور سینیماٹوگرافر کا کردار مزید اہم ہو جائے گا کیونکہ وہی انسانی خیال اور اے آئی کے درمیان پل ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق فی الحال سب سے بڑی رکاوٹ کمپیوٹنگ پاور اور لاگت ہے کیونکہ طویل دورانیے کی اعلیٰ معیار کی اے آئی ویڈیو بنانا انتہائی مہنگا کام ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تیز رفتار مقابلے کے باعث یہ مسئلہ عارضی سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جس طرح سنہ 1995 میں اینی میشن فلم ’ٹوائے سٹوری‘ نے کمپیوٹر اینی میشن کو قبولیت دلائی، اسی طرح اے آئی کو بھی اپنی ’ٹوائے سٹوری‘ کی ضرورت ہے۔ یعنی ایک ایسی مکمل فلم جو تنقید نگاروں اور ناظرین دونوں کو قائل کر دے۔ جب کوئی اے آئی سے تیار کردہ فلم بیسٹ فلم کا آسکر جیتے گی، تو فلمی دنیا میں یہ تبدیلی ناقابلِ تردید حقیقت بن جائے گی۔