جازان فیسٹیول 2026: واٹر فرنٹ کا علاقہ آرٹ گیلری میں تبدیل
جازان فیسٹیول 2026 کے وزیٹرز علاقے کے بڑھتے ہوئے فنونِ لطیفہ کے منظرنامے کو قریب سے دیکھنے کا موقع حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ ’دِس اِز جازان‘ واٹر فرنٹ ایریا کو ایک آرٹ گیلری اور ورثے کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ فیسٹیول جو گزشتہ برس 25 دسمبر کو شروع ہوا، 15 فروری تک جاری رہے گا اور اس کا موضوع ’جازان: قدرت کے خزانوں کی سرزمین‘ ہے۔ یہ فیسٹیول علاقے کی بھرپور ثقافتی اور قدرتی شناخت کو اجاگر کرتا ہے اور اسے ایک سیاحتی مقام کے طور پر مزید پرکشش بنانے میں مدد دیتا ہے۔
’دِس اِز جازان‘ علاقے کے ساحل، میدان اور پہاڑوں کے مناظر پیش کرتا ہے اور یہ دکھاتا ہے کہ جغرافیہ نے کس طرح نسل در نسل مقامی زندگی اور ورثے کو شکل دی ہے۔
علاقے کے تمام 16 گورنریٹس کے لیے مخصوص پویلین اور تھیم والے کورنرز ہیں، جہاں وزیٹرز روایتی دستکاری اور فنون، لائیو پرفارمینسز اور مقامی مصنوعات جیسے شہد اور گھی کی نمائش دیکھ سکتے ہیں۔
انٹرایکٹیو سیکشنز، جن میں دستکاری کی ورکشاپس، حنا آرٹ، مٹی کے برتن بنانے کی سرگرمیاں اور ثقافتی مظاہرے شامل ہیں، وزیٹرز کو جازان کی روایات اور روزمرہ زندگی سے براہِ راست جوڑنے کا عملی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ روایتی لباس میں بچے اور کافی بھوننے کے مظاہرے بھی ماحول کو مزید خوشگوار اور جاذب نظر بناتے ہیں۔
علاقے کے فنکاروں کی پینٹنگز اور مکسڈ میڈیا نمائشیں بھی ہیں، جن کے کام فطرت، ثقافتی ورثے اور روزمرہ زندگی کے مناظر سے متاثر ہیں۔ یہ انیشیٹیو مقامی صلاحیتوں کی حمایت کرتا ہے اور فنکاروں اور لوگوں کے درمیان براہِ راست تعلق کو فروغ دیتا ہے۔

وزیٹرز کا کہنا ہے کہ یہ نمائشیں علاقے کے بارے میں سیکھنے کا ایک سادہ اور رنگین طریقہ فراہم کرتی ہیں جبکہ ثقافتی مبصرین کا کہنا ہے کہ فنکاروں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا تعاون کو فروغ دیتا ہے اور کمیونٹی کے تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔
شرکا میں سعد العسيري بھی شامل ہیں جن کی پینٹنگ ’جازان: ایک قوم اور ایک شہزادہ‘ فیسٹیول کے نعرے سے متاثر ہے۔ اس میں شہزادہ محمد بن عبدالعزیز اور شہزادہ ناصر بن محمد بن عبداللہ بن جلوی کو دکھایا گیا ہے جو بالترتیب جازان کے گورنر اور نائب گورنر ہیں اور اس میں علاقے کو پینٹنگ کے مرکز میں نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔

عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے العسيري نے کہا کہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا فن پارہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کے قریب محسوس ہو۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے قدرتی مواد جیسے کافی بینز، تل اور خُضیر استعمال کیے۔ یہ جازان کی مصنوعات کا حصہ ہیں اور میں چاہتی تھی کہ وزیٹرز انہیں آسانی سے پہچان سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فن پارہ فطرت، شناخت اور قیادت پر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ العسيري جو کہ ناول نگار اور اکیڈیمک میڈیا پروفیشنل بھی ہیں، نے دونوں شہزادوں کے الگ الگ پورٹریٹس بھی پیش کیے۔
فیسٹیول فنکاروں کو اپنی تخلیقات کو سامنے لانے اور روایتی گیلری سپیس کے باہر مقامی لوگوں اور سیاحوں سے رابطہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ تیزی سے تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور نئے ہنر کی دریافت کے لیے ایک اہم ثقافتی پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔