اس مقصد کے لیے پی ایس ایل ایک نیلامی (آکشن) منعقد کرے گی، جس میں منظور شدہ اور دلچسپی رکھنے والے فریق نئی ٹیموں کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے بولی لگائیں گے۔
ای ایس پی این نے اس نیلامی اور مستقبل میں پی ایس ایل پر اس کے اثرات سے متعلق چند اہم سوالات کے جوابات دیے ہیں۔
پی ایس ایل میں اصل میں کیا ہو رہا ہے؟
سادہ الفاظ میں، پی ایس ایل چھ ٹیموں سے بڑھا کر آٹھ ٹیموں کی لیگ بنائی جا رہی ہے۔ چونکہ ہر ٹیم نجی ملکیت میں ہوتی ہے، اس لیے لیگ کو دو نئے سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت دو نئی ٹیموں کے لیے نیلامی رکھی جا رہی ہے، جس میں سب سے زیادہ بولی دینے والے ان ٹیموں کے مالک ہوں گے۔ یہ نیلامی 8 جنوری کو اسلام آباد میں ہو گی۔
اس وقت توسیع کیوں کی جا رہی ہے؟
سنہ 2021 میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) جو پی ایس ایل کی نگرانی کرتا ہے، نے چھ موجودہ فرنچائز مالکان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت 2025 سیزن کے بعد تک لیگ میں توسیع نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ اس لیے کیا گیا تھا تاکہ موجودہ مالکان کی سرمایہ کاری محفوظ رہے، کیونکہ وہ یہ خدشہ رکھتے تھے کہ مزید ٹیموں کی شمولیت سے آمدنی میں ان کا حصہ کم ہو جائے گا۔
یہ مسئلہ پی ایس ایل کے آغاز سے ہی موجود رہا ہے۔ لیگ نے 2016 میں پانچ ٹیموں کے ساتھ آغاز کیا تھا، اور جب پی سی بی چھٹی ٹیم شامل کرنا چاہتا تھا تو ابتدائی پانچ مالکان اس کے خلاف تھے۔ بالآخر 2018 میں ملتان سلطانز کو چھٹی ٹیم کے طور پر شامل کیا گیا۔
ملتان سلطانز کا کیا معاملہ ہے؟
یہ معاملہ قدرے پیچیدہ ہے۔ ملتان سلطانز کے مالک علی ترین اور پی ایس ایل کی انتظامی کمیٹی کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے، جس کے بعد ترین نے اپنی ملکیت کی مدت ختم ہونے (2025 کے اختتام) پر فرنچائز چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں ٹیم بغیر مالک کے رہ گئی۔
یوں پی ایس ایل کو دو کے بجائے تین نئے مالکان درکار تھے، کیونکہ باقی تمام فرنچائز مالکان نے اپنی ٹیموں کی ملکیت برقرار رکھنے کی تصدیق کر دی تھی۔
تاہم، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ایس ایل شروع ہونے سے پہلے اتنا وقت نہیں کہ قانونی تقاضے مکمل کر کے ملتان سلطانز کو نیلامی کے لیے پیش کیا جا سکے۔ اس لیے پی سی بی 2026 کے سیزن کے لیے ایک آزاد انتظامی ٹیم مقرر کرے گا۔ 2026 سیزن کے بعد ملتان سلطانز کو فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔
علی ترین پی ایس ایل میں شامل کی جانے والی دو نئی ٹیموں کی نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں۔
کیا علی ترین مکمل طور پر باہر ہو گئے ہیں؟
علی ترین دو نئی ٹیموں میں سے ایک کے لیے نیلامی میں بولی دیں گے۔ محسن نقوی نے علی ترین کے بارے میں مصالحت آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملتان سلطانز کے لیے کافی کام کیا ہے، اور ان کا نئی ٹیم کے لیے بولی دینے پر خیر مقدم کیا جائے گا۔
کون کون نیلامی میں حصہ لے رہا ہے؟
ابھی تک بولی لگانے والوں کے نام مرحلہ وار پی ایس ایل کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت تک جن کی منظوری ہو چکی ہے ان میں علی ترین، موبائل فون بنانے والی کمپنی VGO، رئیل سٹیٹ کنسورشیم OZ گروپ، اور پاکستان کی بڑی موبائل نیٹ ورک کمپنی جاز شامل ہیں۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سولر انڈسٹری کی بڑی کمپنی Inverex بھی بولی دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں قائم سافٹ ویئر کمپنی i2c، جس کی سربراہی تاجر عامر وین کرتے ہیں، کے بھی نیلامی میں شامل ہونے کا امکان ہے۔
نیلامی کا طریقہ کار کیا ہو گا؟
یہ ایک عام نیلامی کی طرح ہی ہو گی۔ کامیاب بولی دہندگان کو دس سال کے لیے اپنی ٹیم کے حقوق حاصل ہوں گے، اور انہیں اس طویل مدت میں اپنی سرمایہ کاری کی پائیداری کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ 2018 میں ملتان سلطانز کے لیے کامیاب بولی دینے والے شون گروپ نے صرف ایک سیزن بعد ہی دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
چونکہ صرف دو نئی ٹیمیں فروخت کے لیے پیش کی گئی ہیں، اس لیے نیلامی کا عمل زیادہ طویل ہونے کا امکان نہیں۔
نئی ٹیموں کے نام کیا ہوں گے؟
یہ مکمل طور پر نئے مالکان پر منحصر ہو گا لیکن معقول حدود کے اندر۔ نئی ٹیموں کے لیے چھ شہروں میں سے نام منتخب کیے جا سکتے ہیں، اور نام رکھنے کے حقوق مالکان کے پاس ہوں گے۔ یہ شہر راولپنڈی (اسلام آباد کا جڑواں شہر)، فیصل آباد، حیدرآباد، سیالکوٹ، گلگت اور مظفرآباد ہیں۔
پی ایس ایل ڈرافٹ کب ہو گا؟
ابھی اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ پی ایس ایل دو نئی ٹیموں کو ڈرافٹ میں شامل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرے گی، اور آیا موجودہ فرنچائزز کو کھلاڑی برقرار رکھنے کی حد کم کی جائے گی یا نہیں تاکہ نئی ٹیموں کو زیادہ کھلاڑی دستیاب ہوں۔
پی ایس ایل کب شروع ہو رہی ہے؟
پی ایس ایل 26 مارچ کو شروع ہو گی اور 3 مئی کو اختتام پذیر ہو گی۔ یہ دورانیہ چھ ٹیموں والے پچھلے سیزنز کے مقابلے میں زیادہ طویل نہیں، اس لیے امکان ہے کہ میچز زیادہ قریب قریب شیڈول کیے جائیں گے۔
مسلسل دوسرے سال پی ایس ایل کا ٹکراؤ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے ہو رہا ہے، اور دونوں لیگز ایک ہی دن شروع ہوں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ تقریباً نہیں ہو گی، اگرچہ اعلیٰ درجے کے کئی کھلاڑی آئی پی ایل کا رخ کر چکے ہوں گے۔
اس کے باوجود، 2025 کا پی ایس ایل سیزن مجموعی طور پر پچھلے سیزنز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلا گیا، جس کی وجہ سے پی سی بی اس ونڈو کو برقرار رکھنے پر آمادہ ہے۔