Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈونیشیا میں لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش جاری، 11 افراد سوار تھے

دوپہر تقریباً ایک بجے کے بعد طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ اچانک ختم ہوگیا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈونیشیا میں سنیچر کو ایک چھوٹا مسافر طیارہ اچانک ریڈار سے غائب ہوگیا۔ حکام کے مطابق پرواز کے کچھ ہی وقت بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہوگیا، جس کے بعد فوری طور پر تلاش اور ریسکیو کی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ ٹربو پروپ طیارہ یوگیاکارتا سے روانہ ہوا تھا اور اس کا رخ جزیرہ سولاویسی کے شہر مکاسر کی جانب تھا۔ طیارے میں کل گیارہ افراد سوار تھے، جن میں تین مسافر اور آٹھ عملے کے ارکان شامل تھے۔
دوپہر تقریباً ایک بجے کے بعد طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ اچانک ختم ہوگیا۔ آخری معلوم مقام مکاسر کے قریب ماروس ریجنسی کا پہاڑی علاقہ بتایا گیا، جہاں فوراً امدادی ٹیمیں بھیج دی گئیں۔
مقامی سرچ اینڈ ریسکیو ادارے کے سربراہ محمد عارف انور کے مطابق زمینی اور فضائی دونوں سطحوں پر تلاش جاری ہے۔ فضائیہ، پولیس اور مقامی رضاکار اس مشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں۔
ادھر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے سربراہ اندی سلطان نے بتایا کہ طیارے کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹر اور جدید ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں کی بہتر نگرانی کی جا سکے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں واقع انڈونیشیا ہزاروں جزیروں پر مشتمل ایک وسیع ملک ہے جہاں ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک رسائی کے لیے ہوائی سفر نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے ملک کا ہوابازی کا حفاظتی ریکارڈ ماضی میں کئی سوالات کھڑا کر چکا ہے۔
گذشتہ سال ستمبر میں جنوبی کالیمانتان صوبے سے اڑان بھرنے والا ایک ہیلی کاپٹر پرواز کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں سوار آٹھوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے محض دو ہفتے بعد صوبہ پاپوا کے دور دراز علاقے ایلاگا میں ایک اور ہیلی کاپٹر حادثے نے چار قیمتی جانیں لے لیں۔

 

شیئر: