پچھلے دنوں یوٹیوب پر ایک پوڈکاسٹ سنتے سنتے اچانک رک گیا۔ ہمارے پڑوسی ملک کے ایک معروف اینکر اور پوڈکاسٹ ہوسٹ کی گفتگو تھی، عام طور سے وہ خود پوڈکاسٹ انٹرویو لیا کرتے مگر اس بار ان سے سوال جواب ہو رہے تھے۔
مجھے ان کا انداز پسند ہے، ایک اچھا سوال کیا اور پھر مزے سے خاموشی سے ہتھیلی پر ٹھوڑی ٹکائے مہمان کی بات سنتے رہے، نہایت توجہ اور انہماک سے۔ اس بات میں کوئی سوال بنتا، تو کیا، ورنہ آگے بڑھتے گئے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں کے کئی اینکرز صرف اپنی آواز سننا پسند کرتے ہیں اور دوسرے کو بات مکمل نہیں کرنے دیتے۔ ایسے لوگوں کے لیے انگریزی کا محاورہ ہے ’لو دا ساؤنڈ آف ہِز اون وائس۔‘
یہ پوڈ کاسٹ ان کی ذاتی زندگی پر تھا۔ وہ صاحب بتا رہے تھے کہ انہوں نے محبت کی شادی کی، چودہ پندرہ سال ہو گئے، سب بہترین جا رہا ہے۔ میزبان نے خوشگوار، کامیاب شادی کا راز پوچھا تو انہوں نے ایک بہت سادہ مگر بہت گہری بات کہی۔ کہنے لگے کہ ہم نے شروع سے طے کیا تھا کہ آپس کی باتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کرتے رہیں گے، دوستوں کی طرح، سبلنگز کی طرح، کبھی کھٹی میٹھی، کبھی تند و تیز، مگر باتیں بند نہیں ہوں گی۔ ناراضگی ہو، اختلاف ہو، مگر روٹھ کر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
مزید پڑھیں
-
کیا ہم اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 901577
-
سیاست اور اقتدار کی ان کہی کہانیاں: عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 902358
مجھے یہ بات خوبصورت اور فکرانگیز لگی۔ ریورس کر کے یہ ٹکڑا دوبارہ سنا۔ اس میں دانائی جھلک رہی تھی۔ یہ بات دراصل جتنی سادہ لگتی ہے اتنی ہی اہم بھی ہے۔ اس ایک جملے میں ’باتیں چلتی رہنی چاہییں‘ رشتوں کا پورا فلسفہ سما گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ رشتے چھوٹی چھوٹی باتوں سے زندہ رہتے ہیں۔ وہ باتیں جو بظاہر غیر اہم ہوتی ہیں، آج کیا ہوا، کس نے کیا کہا، بازار میں کیا دیکھا، ٹریفک میں کتنی دیر لگی وغیرہ، مگر انہی باتوں سے دو لوگوں کے درمیان ایک تار بندھا رہتا ہے جو خاموشی سے ٹوٹ جاتا ہے۔
میں نے اپنے والد مرحوم سردار محمد ہاشم خان خاکوانی کو بھی یاد کیا۔ احمد پور شرقیہ میں ان کے دوستوں کا حلقہ گو بہت وسیع نہیں تھا، مگر جو چند ایک تھے، وہ آپس میں مل کر خوب باتیں کرتے۔ ہمارے گھر کے باہر ایک کھلا بڑا پلاٹ تھا، وہاں محفل جمتی۔ شام کو پانی کا چھڑکاؤ کرکے کرسیاں بچھا دی جاتیں، ہمسائے آ جاتے، مغرب کے بعد گپ شپ چلتی رہتی۔ موسم کے حساب سے چائے یا شربت وغیرہ گھر سے آ جاتا۔

میری عمر کے لوگوں کو یاد ہوگا کہ 1984-85 میں ہتھوڑا گروپ کی بہت وارداتیں ہوئی تھیں جن سے خوف وہراس پھیل گیا تھا۔ مختلف علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت محلوں میں پہرے کا سلسلہ شروع کیا۔ ہمارے ہاں بھی یہ چلتا رہا۔ ہماری کالونی میں مرکز گھر کے باہر والا وہ خالی پلاٹ تھا۔ وہاں دیر تک لوگ جمع رہتے، گپیں چلتی رہتیں۔ کبھی سیاست، کبھی زمینداری کے جھگڑے، کبھی محلے کی خبریں، ہتھوڑا گروپ کی افواہیں۔
والد سینیئر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ تھے، گھر میں ہمیشہ سے اخبار آتا تھا۔ ان کے پاس معلومات زیادہ ہوتیں تو لوگ استفسار کرتے رہتے۔ میرے ابو سب کی سنتے، اپنی رائے بھی دیتے تھے۔
میں بارہ تیرہ سال کا لڑکا تھا، ایک بار ان سے پوچھا کہ آپ روزانہ انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، کیا باتیں ختم نہیں ہوتیں؟ انہوں نے ہنس کر کہا، ’باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، لوگ ختم ہو جاتے ہیں۔‘
اس بات کو چالیس سال ہونے کو ہیں۔ اس وقت یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی، آج سمجھ آتی ہے۔ اللہ والد مرحوم کی بخشش فرمائے، آمین۔ باتیں ختم نہیں ہوتیں۔
آج کے ریلیشن شپ ایکسپرٹس کہتے ہیں کہ خاموشی رشتوں کی سب سے خطرناک بیماری ہے۔ لڑائی نہیں، اختلاف نہیں، بلکہ خاموشی۔ جب دو لوگ آپس میں بات کرنا بند کر دیتے ہیں تو درمیان میں ایک دیوار اٹھنا شروع ہوتی ہے جو دن بہ دن اونچی ہوتی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں بہت سے گھروں میں یہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک چھت تلے رہتے ہیں مگر باتیں نہیں کرتے۔ اب تو یہ بھی ہو گیا ہے کہ کھانے کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھے ہیں، مگر اپنے اپنے ہاتھ میں فون ہے۔ بچوں کے معاملات پر ضروری گفتگو ہو جاتی ہے، مگر وہ گفتگو جو صرف اس لیے ہو کہ دل میں کچھ ہے جو بانٹنا ہے، وہ شاید ختم ہو چکی ہے۔
جس پوڈ کاسٹ کی بات کر رہا تھا، اس میں یہ نکتہ بیان کیا گیا کہ ہم نے ابتدا ہی میں طے کیا کہ کبھی ناراض ہو کر خاموش نہیں رہنا۔ روٹین کی بات چیت، گپ شپ چلتی رہے، تھوڑی بہت نوک جھونک، ہلکا پھلکا کوئی طعنہ بھی چل جائے مگر چپ کی دیوار درمیان میں نہیں آنے دینی۔ یہ ایک عہد ہے جو شادی سے بھی بڑا ہے۔
اب یہاں ایک تکلیف دہ سوال اٹھتا ہے۔ باتیں بند کیوں ہوتی ہیں؟ لڑائی یا اختلاف کی بات سمجھ میں آتی ہے، مگر بہت سے رشتے تو بغیر کسی واقعے کے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ انا ہے، دوسری بڑی وجہ رد ہونے کا خوف بھی ۔ یہ ڈر کہ میں نے دل کی بات کہی اور سامنے والے نے توجہ نہ دی، یا ہنس کر اڑا دیا، تو کیا ہوگا؟ یہ رد ہونے کا خوف آہستہ آہستہ زبان کو بند کر دیتا ہے۔ پھر جب ہفتہ بھر بات نہ ہو تو ایک عجیب سی رکاوٹ آ جاتی ہے، جیسے پرانی کھڑکی جسے زنگ لگا ہو، اسے کھولنے کے لیے زور لگانا پڑے۔ یوں ایک رشتہ جسے کوئی نہیں توڑنا چاہتا، خود بخود ٹوٹ جاتا ہے۔
ویسے دوستی میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ میں خود بھی اس میں شامل ہوں کہ بعض پرانے سکول کے زمانے کے دوستوں سے رابطہ صرف اس لئے ٹوٹ گیا کہ فون کرنا، اٹھانا کم ہوگیا، پھر بند ہی ہو گیا۔
کوئی لڑائی ہوئی، نہ کوئی اختلاف۔ بس ایک دن فون نہیں اٹھایا، پھر دوسرے دن بھی نہیں اٹھایا، پھر ہفتہ گزر گیا، مہینہ گزر گیا، پھر ایک عجیب سی جھجھک آ گئی کہ اب اتنے عرصے بعد کیا کہوں گا؟ ہمارے ہاں ایسے بہت سے رشتے ہیں جو خاموشی نے کھا لیے۔ کسی نے کسی کا برا نہیں چاہا مگر باتیں رک گئیں تو سب رک گیا۔

یہاں ایک عجیب تضاد بھی سوچنے والا ہے۔ آج ہمارے ہاتھوں میں جو آلہ ہے، اسی نے ہمیں بیک وقت دنیا سے جوڑ دیا اور اپنوں سے کاٹ دیا۔ فیس بک پر سینکڑوں لوگوں کی خبر رکھتے ہیں، واٹس ایپ پر بیسیوں گروپوں میں ہیں، مگر گھر میں بیٹھے والدین سے بات کا وقت نہیں۔ سوشل میڈیا نے ایک نیا کلچر دیا ہے جس میں خوشی ہو یا دکھ، اس کا اظہار سٹیٹس سے ہوگا۔ دوست احباب بھی اپنا ردعمل سوشل میڈیا پر دیں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گھر میں بیٹھا آدمی اکیلا ہے۔ باتیں ہو رہی ہیں مگر غلط لوگوں سے۔ قربت کا دھوکہ ہے، قربت نہیں۔
کئی برس پہلے ایک صاحب سے کسی محفل میں ملاقات ہوئی، انہوں نے ایک بات کہی تھی کہ دوستی کا ایندھن بات ہے۔ جب تک بات چیت ہے، آگ جل رہی ہے۔ بات بند، آگ بجھی۔ اس فقرے پر زیادہ غور نہیں کیا تھا، اب سوچتا ہوں کہ خوب کہا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول اگر بڑے پیمانے پر ممالک پر اپلائی کریں تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی مثال سامنے ہے۔
2019 کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے تقریباً ختم ہو گئے۔ نتیجہ؟ کشیدگی بڑھتی گئی۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جنگ کے بادل چھا گئے، پھر پچھلے سال جنگ ہو بھی گئی۔ اگر باتیں چل رہی ہوتیں، ٹریک ون میں نہ سہی تو ٹریک ٹو میں، سامنے نہیں تو پس پردہ، تو شاید معاملہ اس حد تک نہ پہنچتا۔
ایسا نہیں کہ صرف بات کرنے سے سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں، انٹرنیشنل ریلیشنز پیچیدہ ہوتے ہیں، وہاں بعض معاملات میں گرہ کھلنے میں برسوں بلکہ عشروں لگ جاتے ہیں۔ تاہم اگر بات چیت چلتی رہے تو معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں پہنچتے۔ اسی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقتیں بھی مکمل خاموشی سے گریز کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ رابطہ ٹوٹے تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔














