Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اوپن اے آئی کو 110 ارب ڈالر کی تاریخی فنڈنگ، مالیت 730 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

’اوپن اے آئی‘ نے جمعے کو 110 ارب ڈالر کی خطیر فنڈنگ حاصل کی (فوٹو: اے ایف پی)
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مشہور کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے جمعے کو 110 ارب ڈالر کی خطیر فنڈنگ حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد کمپنی کی مجموعی قیمت 730 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ سرمایہ کاری سلیکون ویلی کی تاریخ کے سب سے بڑے فنڈنگ راؤنڈز میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
سرمایہ کاری میں جاپانی گروپ ’سافٹ بینک‘ اور چپ ساز کمپنی ’اینویڈیا‘ کے 30، 30 ارب ڈالر اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’ایمازون‘ کی جانب سے 50 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری شامل ہے۔
 مہشور چیٹ بُوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی مالک ’اوپن اے آئی‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’ایمازون‘ اور ’اینویڈیا‘ کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری بھی قائم کرے گی۔ ’ایمازون‘ کی کلاؤڈ سروس اور ’اینویڈیا‘ کی جدید اے آئی چپس کمپنی کی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کریں گی کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور آپریشن پر بھاری اخراجات آ رہے ہیں۔
’ایمازون‘ ابتدائی طور پر 15 ارب ڈالر فراہم کرے گا جبکہ باقی 35 ارب ڈالر مخصوص شرائط پوری ہونے پر دیے جائیں گے، جن میں کمپنی کا پبلک ہونا یا مصنوعی عمومی ذہانت (اے جی آئی) کے ہدف کا حصول شامل بتایا جا رہا ہے۔
اگرچہ اس فنڈنگ سے ’اوپن اے آئی‘ کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے تاہم کمپنی کو بڑھتے ہوئے اخراجات اور آمدن کے توازن سے متعلق سوالات کا سامنا بھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ’اوپن اے آئی‘ 2030 تک اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت اور آپریشن پر 665 ارب ڈالر تک خرچ کر سکتی ہے جو پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
کمپنی کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار فعال صارفین کی تعداد 90 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پانچ کروڑ سے زائد صارفین ادائیگی کر کے سروس استعمال کر رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے لیے چپس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

مزید یہ کہ 90 لاکھ سے زیادہ کاروباری ادارے چیٹ جی پی ٹی کو دفتری امور کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقابلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ ’اوپن اے آئی‘ کے سابق ملازمین کی قائم کردہ کمپنی ’اینتھارپک‘ اپنے کلاڈ اے آئی ماڈلز کے ذریعے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس سال 30 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر چکی ہے۔ اسی طرح ’گوگل‘ کا جیمینائی ماڈل اور ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی بھی اس دوڑ میں نمایاں ہو رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ فنڈنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے تاہم مستقبل میں منافع اور اخراجات کا توازن کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

شیئر: