Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان نے مسافر طیاروں کو ایران کے جنگ زدہ علاقے میں داخل ہونے سے کیسے بچایا؟

گذشتہ دو روز کے دوران پاکستان کے مغربی اور جنوبی فضائی رُوٹس پر موسم کی شدید خرابی نے 30 سے زائد بین الاقوامی کمرشل مسافر طیاروں کو ایرانی وار زون ایئر سپیس میں داخل ہونے کے سنگین خطرے میں ڈال دیا۔ 
پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی (پی اے اے) اور کراچی فلائٹ انفارمیشن ریجن کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوری کارروائی نے ان تمام طیاروں کو بروقت محفوظ راستوں کی طرف موڑ کر بڑے سانحے سے بچا لیا۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق یہ فلائٹس زیادہ تر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (دبئی، ابوظبی)، قطر اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے پاکستان آنے والی اور پاکستان سے وہاں جانے والی تھیں۔ 
موسم کی خرابی کی وجہ سے طیارے اپنے مقررہ رُوٹ سے ہٹ کر سیکٹر ویسٹ (قلات) سے پنجگور-گوادر کی طرف بھٹکتے ہوئے ایران کی سرحد کے انتہائی قریب پہنچ گئے جہاں وار زون کی وجہ سے ایرانی ایئر سپیس پہلے ہی بند تھی۔ 
پائلٹس نے کنٹرول ٹاور کو بار بار آگاہ کیا کہ مشرقی سمت میں شدید موسم کی وجہ سے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ طیاروں کا کنٹرول آؤٹ ہونے لگا اور وہ ایرانی حدود کی طرف جُھک رہے تھے۔ 
کراچی ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے تہران کنٹرول سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کوئی جواب نہ ملا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی حاضر دماغی سے تمام طیاروں کو رہنمائی فراہم کی۔
کراچی ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے ان طیاروں کو پنجگور کی طرف سے واپس لائے اور محفوظ رُوٹس پر بحال کیا۔ پی اے اے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایئر ٹریفک کنٹرول کی دنیا بھر میں مثال بن چکی ہے۔ 
ایئر ٹریفک انتظامیہ جہازوں کی رہنمائی کیسے کرتی ہے؟ 
جب ایک جہاز پرواز بھرتا ہے تو وہ کیسے ایئر ٹریفک انتظامیہ سے رہنمائی لیتا ہے۔ اس سے متعلق ایوی ایشن کے ماہر ساجد حبیب بتاتے ہیں کہ ’جہاز کے اُڑنے سے لے کر پاکستان کی فضائی حدود سے نکلنے تک کا پورا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔‘
’ہوائی اڈے کے کنٹرول ٹاور سے ٹیک آف کی منظوری ملنے کے بعد جہاز کو روانگی کنٹرول کے حوالے کیا جاتا ہے جو اسے ابتدائی بلندی اور سمت دیتا ہے۔ پھر یہ جہاز قریب آنے والےکنٹرول سے گزرتا ہے اور فلائٹ انفارمیشن ریجن کے مختلف سیکٹرز میں داخل ہوتا ہے۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’پاکستان میں کراچی فلائٹ انفارمیشن ریجن اور لاہور فلائٹ انفارمیشن ریجن اہم ہیں جن کے تحت مغربی سیکٹر، مشرقی سیکٹر، پنجگور، گوادر اور قلات جیسے سیکٹرز کام کرتے ہیں۔‘
ساجد حبیب کے مطابق ’کنٹرولرز ریڈار، وی ایچ ایف/یو ایچ ایف ریڈیو، کنٹرولر پائلٹ ڈیٹا لنک مواصلات اور ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک کے فلائٹ انفارمیشن ریجن (جیسے تہران، دبئی، مسقط) سے ہم آہنگی کرتے ہوئے جہاز کو بلندی، رفتار، سمت اور اُونچائی تبدیل کرنے کی ہدایات دیتے ہیں۔‘
’جہاز جب پاکستان کی سرحدی حدود (نکلنے کا مقام) کے قریب پہنچتا ہے تو اسے اگلے فلائٹ انفارمیشن ریجن (مثلاً ایران یا خلیج) کے کنٹرولرز کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ پوری عمل میں ہر 10 سے 15 منٹ بعد پوزیشن رپورٹ، موسم سے آگاہی اور ٹریفک انتباہات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔‘
 ان  کا کہنا ہے کہ ’خراب موسم یا جنگی علاقے کی صورت میں کنٹرولرز فوری طور پر متبادل راستے، ہولڈنگ پیٹرن یا چڑھائی/اُترائی کی ہدایات جاری کرتے ہیں تاکہ جہاز محفوظ رہے۔‘
جنگ کے آغاز سے اب تک کتنی فلائٹس متاثر؟
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور وار زون کی صورت حال کے باعث پاکستان سے متعلق پروازوں پر مسلسل اثرات پڑ رہے ہیں۔ 
رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک پاکستان کے بڑے ایئرپورٹس (کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، ملتان، سیالکوٹ وغیرہ) سے مشرق وسطیٰ کی سمت جانے اور آنے والی سینکڑوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔ صرف ایک ہفتے میں 1300 سے زائد فلائٹس متاثر ہوئیں۔ گلوبل سطح پر بھی 27 ہزار  سے زائد پروازیں متاثر ہو چکی ہیں۔ 
پی اے اے نے تمام ایئرلائنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کم سے کم ایندھن کے ساتھ پرواز کریں، متبادل رُوٹس تیار رکھیں اور مسافروں کو بروقت اپ ڈیٹ دیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی اور علاقائی کشیدگی کا یہ امتزاج پاکستان کی ایوی ایشن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

شیئر: