ڈرائیورز کی تربیت میں کمی یا انتظامی مسائل، کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی وجہ کیا ہے؟
ڈرائیورز کی تربیت میں کمی یا انتظامی مسائل، کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی وجہ کیا ہے؟
پیر 23 مارچ 2026 7:47
ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ ہیوی ٹریفک بتائی جاتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے شہر کراچی میں سڑکیں ایک مرتبہ سوگوار ہیں۔ چند دنوں کے مختصر دورانیے کے دوران ہونے والے مہلک ٹریفک حادثات نے نہ صرف درجنوں گھروں کے چراغ گل کر دیے بلکہ اس شہر میں ٹریفک نظام پر عملدرآمد، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور شہری منصوبہ بندی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رواں ماہ 11 مارچ سے 16 مارچ کے درمیان صرف پانچ دنوں میں مختلف ٹریفک حادثات میں 19 افراد جان کی بازی ہار گئے اور یوں رواں سال ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 225 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر عدد ایک کہانی بیان کرتا ہے۔
ان حادثات میں کسی کا بیٹا، کسی کی ماں، کسی کا واحد کفیل جان سے گیا۔ ان حادثات میں خواتین، بچے اور بچیاں بھی جان سے گئیں، جس سے ایک بار پھر یہ واضح ہوا ہے کہ شہر کی سڑکیں کسی کے لیے بھی محفوظ نہیں رہیں۔
بڑھتے ہوئے حادثات
11 مارچ کو چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال کے ابتدائی 70 دنوں میں ٹریفک حادثات میں 206 افراد ہلاک اور دو ہزار 80 زخمی ہو چکے تھے لیکن صرف اگلے پانچ دنوں میں مزید 19 ہلاکتوں نے اس بحران کو اور سنگین بنا دیا۔
اب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 75 دنوں میں 225 افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد دو ہزار 254 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں 162 مرد، 31 خواتین، 23 بچے اور نو بچیاں شامل ہیں۔ زخمیوں میں بھی بڑی تعداد مردوں کی ہے، تاہم متاثرین میں خواتین اور بچوں کی نمایاں موجودگی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ مسئلہ صرف ڈرائیورز تک محدود نہیں بلکہ پورا شہری ڈھانچا ہی اس کی لپیٹ میں ہے۔
ہیوی ٹریفک، سڑکوں پر بے قابو
کراچی میں ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ ہیوی ٹریفک کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ رواں سال اب تک ہیوی ٹریفک سے حادثات میں 76 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 36 ہلاکتیں ٹریلرز کے باعث ہوئیں، جبکہ واٹر ٹینکرز 21 افراد کی جان لے چکے ہیں۔ بسوں، مزدا اور ڈمپرز کا بھی اس فہرست میں نمایاں حصہ ہے۔
شہر کی مصروف شاہراہوں پر دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ شہری اکثر شکایت کرتے ہیں کہ بڑے ٹرک اور ٹینکرز نہ صرف مقررہ اوقات کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ تیز رفتاری اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ بھی معمول بن چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حادثات کے بعد امدادی کارروائیوں میں بھی مسائل سامنے آتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
قانون کہاں ہے؟
ٹریفک قوانین کے نفاذ کے حوالے سے کراچی ٹریفک پولیس کے دعوے اپنی جگہ، مگر شہریوں کا تجربہ مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود نہ تو ہیوی ٹریفک کی رفتار پر مؤثر کنٹرول دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی ان کی نقل و حرکت پر کوئی واضح پابندی نظر آتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف قوانین کا نہیں بلکہ ان کے نفاذ کا ہے۔ قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام میں کہیں نہ کہیں کوئی سنگین خامی ضرور موجود ہے۔
شہریوں کی آواز
کراچی کے مختلف علاقوں میں رہنے والے شہری اس صورتِ حال سے شدید پریشان ہیں۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’ہم روزانہ جب سڑک پر نکلتے ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ واپس گھر پہنچیں گے یا نہیں۔‘
ایک اور شہری نے بتایا کہ ’انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹینکر کے نیچے آتے دیکھا، مگر کوئی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا کیونکہ لوگ خود بھی خوف زدہ تھے۔‘
یہ خوف اب شہر کے اجتماعی شعور کا حصہ بنتا جا رہا ہے، جہاں سڑکوں پر نکلنا ایک خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو بہتر بنایا جائے تو کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انفراسٹرکچر اور منصوبہ بندی کے مسائل
شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق کراچی کا انفراسٹرکچر اس بڑھتی ہوئی ٹریفک کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہا۔ سڑکوں کی حالت، ٹریفک سگنلز کی کمی، اور لین ڈسپلن کا فقدان حادثات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
شہر میں کئی اہم شاہراہیں ایسی ہیں جہاں ہیوی اور لائٹ ٹریفک ایک ساتھ چلتی ہے، جس سے حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، سڑکوں پر تجاوزات، غیر قانونی پارکنگ اور ناقص روشنی بھی حادثات میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
ڈرائیورز کی تربیت اور لائسنسنگ
ایک اور اہم پہلو ڈرائیورز کی تربیت کا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہت سی ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز مناسب تربیت کے بغیر سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ لائسنسنگ کے نظام میں موجود خامیاں بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہیں۔
اگر ڈرائیورز کو مناسب تربیت دی جائے اور لائسنسوں کے اجرا کے عمل کو سخت کیا جائے تو حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
شہر میں کئی اہم شاہراہیں ایسی ہیں جہاں ہیوی اور لائٹ ٹریفک ایک ساتھ چلتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایمرجنسی رسپانس ایک اور چیلنج
حادثات کے بعد امدادی کارروائیوں میں بھی مسائل سامنے آتے ہیں۔ چھیپا فاؤنڈیشن اور دیگر فلاحی ادارے فوری مدد فراہم کرتے ہیں، لیکن ٹریفک جام اور ہجوم کے باعث زخمیوں کو بروقت ہسپتال پہنچانا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو بہتر بنایا جائے تو کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
حکومتی ردِعمل اور اقدامات
حکومتِ سندھ کی جانب سے وقتاً فوقتاً اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے، جیسے کہ ہیوی ٹریفک کے اوقات کار میں تبدیلی، جرمانوں میں اضافہ اور ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ان اقدامات کے نتائج سرِدست برآمد نہیں ہو سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات وقتی نوعیت کے ہیں یا واقعی ایک جامع حکمتِ عملی کا حصہ؟
کراچی میں ٹریفک حادثات کا مسئلہ صرف ایک شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی مختلف شدت کے ساتھ موجود ہے۔ تاہم کراچی میں اس کی شدت زیادہ ہے، جس کی وجہ آبادی کا دباؤ، انفراسٹرکچر کی کمی اور انتظامی مسائل ہیں۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس مسئلے کا حل صرف ایک شعبے میں بہتری سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں قانون کا سخت نفاذ، بہتر شہری منصوبہ بندی، ڈرائیورز کی تربیت اور عوامی آگاہی شامل ہو۔