ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے کے باوجود ایرانی سفیر بدستور لبنان میں موجود
لبنان کی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ ہفتے ایرانی سفیر کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دے دیا تھا۔ (فوٹو: عرب نیوز)
لبنان کی جانب سے ایران کے نامزد سفیر کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی مہلت اتوار کو ختم ہو گئی، تاہم محمد رضا شیبانی کے روانہ ہونے کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
لبنان کی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ ہفتے شیبانی کی منظوری واپس لے لی تھی اور یہ کہتے ہوئے کہ ان کے بیانات لبنان کی اندرونی سیاست میں مداخلت کے مترادف ہیں انہیں ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دیا تھا۔
ایک سرکاری ذریعے نے عرب نیوز کو بتایا کہ سفارتی استثنیٰ کے باعث شیبانی قانونی طور پر ایرانی سفارت خانے کے اندر رہ سکتے ہیں۔
ذریعے نے کہا، ’اگر شیبانی سفارت خانے کے احاطے میں رہتے ہیں تو انہیں اس کی اجازت ہے، کیونکہ سفارت خانہ ایرانی علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے اندر موجود افراد کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔‘
’تاہم اگر وہ باہر نکلتے ہیں تو وہ لبنانی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے اور انہیں ملک بدر کرنا لازم ہوگا۔ ایسی مثالیں پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں، جن میں جولین اسانج کا کیس بھی شامل ہے۔‘
اس فیصلے پر ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اس کی اتحادی امل موومنٹ نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے وزراء نے احتجاجاً جمعرات کے کابینہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
جمعہ کو حزب اللہ کے حامیوں، اتحادی گروہوں اور جماعت سے وابستہ مذہبی شخصیات کی بڑی تعداد ایرانی سفارت خانے کے باہر جمع ہوئی اور کہا کہ ایہ اقدام لبنان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔
کچھ مظاہرین نے کہا کہ یہ فیصلہ حزب اللہ کے حامیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے، انہوں نے کہا: ’ہم اس ملک کے لوگ ہیں اور ہم ہی اسرائیل کے مقابلے میں اپنے نوجوانوں کی قربانیاں دیتے ہیں۔‘
حزب اللہ کے حامی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر یہ دعوے بھی گردش میں لائے کہ شیبانی اب بھی لبنان میں موجود ہیں اور انہوں نے فیصلے پر عمل نہیں کیا، جبکہ ایرانی سفارت خانے کی جانب سے مسلسل خاموشی برقرار ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ شیبانی نے ’ایسے بیانات دیے جو لبنان کی اندرونی سیاست میں مداخلت ہے، حکومتی فیصلوں پر تبصرہ کیا اور وزارت کی اجازت کے بغیر غیر سرکاری لبنانی اداروں سے ملاقاتیں کیں۔‘
اس میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام ’ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کے خاتمے کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ سفارتی اصولوں کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے، اور یہ بھی واضح کیا کہ ویانا کنونشن کا آرٹیکل 41 میزبان ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے روکتا ہے۔
وزارت کے مطابق لبنان دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، بشرطیکہ یہ باہمی احترام اور عدم مداخلت کی بنیاد پر ہوں۔
یہ سفارتی تنازع خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
28 فروری سے اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے شروع کر رکھے ہیں، جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور سینیئر سکیورٹی عہدیداروں کی ہلاکت ہوئی۔
حزب اللہ نے 2 مارچ کو جنوبی محاذ کھول کر اس تنازع میں شمولیت اختیار کی، حالانکہ لبنانی عوام کی بڑی تعداد اس جنگ میں شامل ہونے کی مخالفت کرتی ہے۔
