سعودی عرب میں 10 ہیکٹر بنجر زمین بحال، اقوام متحدہ کی تعریف
سعودی عرب میں 10 ہیکٹر بنجر زمین بحال، اقوام متحدہ کی تعریف
پیر 30 مارچ 2026 8:28
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مجموعی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے (فوٹو: گلوبل ایگریکلچر ڈاٹ کام)
اقوام متحدہ نے 10 لاکھ ہیکٹر بنجر زمین کی آبادی پر سعودی عرب کی تعریف کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ عالمی ماحولیاتی اہداف کا حصہ تھا جس کے تحت سعودی عرب نے قومی ماحولیاتی سنگ میل عبور کرتے ہوئے 10 لاکھ ہیکٹر بنجر زمین کو آباد کیا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مجموعی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے اور اس سے حقیقی معنوں پر ٹھوس تبدیلی کو یقینی بنانے کا واضح عزم ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے دنیا کے مشکل ترین ماحول میں زمین کی آبادی ممکن بنائی گئی ہے۔
یو این کنوینشن ٹو کومبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن کی ایگزیکیٹو سیکریٹری یاسمین فواد نے مڈل ایسٹ گرین انیشیٹیو اور دی گلوبل لینڈ انیشیٹیو میں مملکت کی جانب سے بڑے عالمی ماحولیاتی اقدامات پر عمل کرنے کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب نے عالمی ہدف حاصل کرنے میں مدد کی اور اس بات پر اہمیت دی کہ بنجر زمین کو آباد کرنا نہ صرف ماحولیاتی ترجیح ہے بلکہ یہ ایک ترقی اور ہیومنٹیرین کامیابی بھی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسی کوششوں سے فوڈ سکیورٹی بڑھتی ہے، مقامی معیشت کو سہارا ملتا ہے، نوکریاں پیدا ہوتی ہیں اور متاثرہ کموینٹیز میں زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے عالمی چیلنجز جیسے کہ ماحولیاتی تبدیلی، خطرے کے شکار علاقوں میں استحکام اور علاقہ بدری کا تعلق بھی بنجر زمین سے ہے۔‘
فواد کہتی ہیں کہ 10 لاکھ ہیکٹر زمین کی آبادی صرف ایک نمبر ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایسے وقت میں بڑا پیغام ہے جب دنیا میں تیزی سے زمین بنجر ہو رہی ہے اور قحط کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
یہ تمام کوششیں سعودی گرین انیشیٹیو کا حصہ ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت کی جانب سے گلوبل ماڈل پیش کیا گیا ہے جس کے ذریعے ایکوسسٹم کی آبادی قدرتی طور پر موجود حل، ایجادات اور عملی اقدامات کو پالیسی سے ہم آہنگ کر کے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
یہ تمام کوششیں سعودی گرین انیشیٹیو کا حصہ ہیں جن کا مقصد سائنسی بنیادوں پر زمین کو بحال کرنا، ایکوسسٹم فنکشنز کو بحال کرنا، بائیوڈائیورسٹی کو بڑھانا اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیداری حاصل کرنا ہے۔
فواد نے مملکت کی جانب سے عالمی ماحولیاتی ایجنڈے کو ایڈوانس کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی لمبے سفر میں ایک اہم قدم ہے جس کے لیے پائیدار عزم، تیز ایکشن اور طویل شراکت داری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’زمین کی آبادکاری عوام پر کی جانے والی انویسمنٹ، استحکام اور سب کے لیے ایک پائیدار اور بہترین مستقبل ہے۔‘