Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فائیو جی کے آنے کے بعد پاکستان میں فور جی سروسز سست کیوں ہو گئی ہیں؟

وفاقی حکومت کا منصوبہ ہے کہ چھ ماہ کے اندر بڑے شہروں میں فائیو جی سروسز کو مزید پھیلایا جائے (فائل فوٹو: شٹر سٹاک)
اسلام آباد کے رہائشی محمد عمر گزشتہ 10 برسوں سے نجی ٹیلی کام کمپنی زونگ کے صارف ہیں۔ فور جی (4G) کے آغاز کے بعد ان کا ابتدائی تجربہ انتہائی مثبت رہا اور وہ کافی عرصے سے اس نیٹ ورک کو باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں۔
تاہم گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران ان کے نیٹ ورک میں مسلسل سست روی دیکھی گئی ہے اور وہ خاص طور پر کہتے ہیں کہ فائیو جی (5G) کی لانچ کے بعد ان کی فور جی سروسز بھی کافی سست ہو گئی ہیں۔
وہ اس بات پر حیران ہیں کہ فائیو جی آنے کے بعد فور جی کی سروسز کو تیز ہونا چاہیے تھا لیکن یہ ان دنوں اسلام آباد میں سست کیوں ہیں۔
پاکستان میں یہ سوال صرف محمد عمر کا نہیں بلکہ آج کل اکثر موبائل صارفین بھی یہی پوچھ رہے ہیں کہ ان کی فور جی سروسز سست کیوں ہو گئی ہیں؟
ہم اس رپورٹ میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا فائیو جی کی لانچنگ کا فور جی سروسز پر کوئی منفی اثر پڑا ہے اور پاکستان میں ان دنوں انٹرنیٹ سروسز سست ہونے کی شکایات کیوں سامنے آ رہی ہیں؟
ٹیلی کام کمپنیاں جب فائیو جی لانچ کرتی ہیں تو انہیں اپنا پورا نیٹ ورک اپ گریڈ کرنا پڑتا ہے جس میں فائبر، ٹاورز اور بیک اینڈ سسٹمز شامل ہوتے ہیں۔ یہی اپ گریڈ بالواسطہ طور پر فور جی کو بھی بہتر بناتا ہے کیونکہ فور جی اور فائیو جی ایک ہی انفراسٹرکچر شیئر کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ اگر کمپنیوں کو اضافی سپیکٹرم بھی ملتا ہے تو وہ فور جی کے لیے بھی بینڈودتھ بڑھا سکتی ہیں جس سے سپیڈ اور کنیکٹیویٹی بہتر ہوتی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ فائیو جی کی لانچنگ کے بعد فور جی سروسز بھی بہتر ہونی چاہئیں نہ کہ ان میں سست روی آئے۔

پی ٹی اے ٹیلی کام کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے ٹیکنیکل ٹیسٹنگ، سروے اور صارفین کی شکایات استعمال کرتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

واضح رہے کہ پاکستان میں فائیو جی سروسز کا باضابطہ آغاز مارچ 2026 میں سپیکٹرم نیلامی اور لائسنس جاری ہونے کے بعد ہو چکا ہے تاہم فی الحال یہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور صرف مخصوص سائٹس تک ہی محدود ہے۔
اس دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے قریباً 597 میگا ہرٹز سپیکٹرم نیلام کیا اور 19 مارچ کو آپریٹرز کو فوری طور پر فائیو جی سروسز شروع کرنے کی اجازت دی گئی۔
پی ٹی اے ٹیلی کام کمپنیوں کی سروسز کی نگرانی کیسے کرتی ہے؟
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ٹیلی کام کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے ٹیکنیکل ٹیسٹنگ، سروے اور صارفین کی شکایات استعمال کرتی ہے۔
ان سرویز میں نیٹ ورک کی رفتار، سگنل اور کال ڈراپ چیک کیے جاتے ہیں جبکہ بینچ مارکنگ رپورٹس میں کمپنیوں کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ صارفین کی شکایات مانیٹر کی جاتی ہیں اور کے پی آئی رپورٹس کے ذریعے نیٹ ورک کی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے اور معیار پورا نہ ہونے پر آپریٹرز کو جرمانہ یا ہدایات دی جاتی ہیں۔
ہم نے فور جی سروسز کی سست روی پر پاکستان کے معروف آئی ٹی ماہرین سے بھی گفتگو کی تاکہ اس معاملے کو مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اصل مسئلہ فائیو جی یا فور جی نہیں بلکہ کمزور انفراسٹرکچر، محدود سپیکٹرم اور بڑھتا ہوا صارف دباؤ ہے، تاہم وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ فائیو جی آنے کے بعد مجموعی طور پر سپیڈ بہتر ہونے کی صلاحیت موجود ہے لیکن صارفین کا ذاتی تجربہ مختلف ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد میں مقیم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر روحان ذکی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے نیٹ ورکس اب بھی بڑی حد تک کاپر سسٹم پر ہیں جبکہ تیز رفتار اور بہتر کوالٹی کے لیے فائبر آپٹکس کا ہونا ضروری ہے۔

پاکستان میں نیٹ ورکس اب بھی بڑی حد تک کاپر سسٹم پر ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے نیٹ ورکس پرانے اور آؤٹ ڈیٹڈ ہیں، ان کی مینٹیننس بھی بروقت نہیں ہوتی اور ٹیلی کام کمپنیاں زیادہ تر انٹرنیٹ بیچ کر آمدن حاصل کر رہی ہیں جبکہ کال سروسز سے آمدن کم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے انہیں بجٹ کے مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم بنیادی مسئلہ پاکستان میں انفراسٹرکچر ہی ہے اور ہمیں یورپ کی طرح فائبر نیٹ ورک کی طرف جانا ہوگا۔
اسی طرح اسلام آباد میں مقیم آئی ٹی ماہر اور ٹیک جوس کے کو فاؤنڈر حماد ہارون سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ فائیو جی آنے سے فور جی سروسز میں کتنی بہتری آئی ہے یا نہیں کیونکہ یہ سروس ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ’البتہ جہاں فائیو جی کو ٹیسٹ کیا گیا ہے وہاں سروسز میں بہتری دیکھی گئی ہے۔‘
اُنہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت کا منصوبہ ہے کہ چھ ماہ کے اندر بڑے شہروں میں فائیو جی سروسز کو مزید پھیلایا جائے جس کے بعد ہی ایک واضح تصویر سامنے آئے گی کہ فور جی اور فائیو جی سروسز میں کتنی بہتری آئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جب فائیو جی صارفین کی تعداد بڑھے گی تو اصل سپیڈ اور کارکردگی کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا جبکہ ابتدائی مرحلے میں کم صارفین کی وجہ سے فائیو جی نسبتاً تیز محسوس ہوتی ہے۔

شیئر: