Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کی ایران پر حملے روکنے کی حمایت، ’لبنان جنگ بندی میں شامل نہیں‘

ایران سے یکجہتی میں حزب اللہ کی جانب سے راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیل نے لبنان میں حملے شروع کیے تھے (فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دو ہفتے کے لیے حملے معطل کرنے کے اقدام کی حمایت کرتا ہے مگر لبنان اس جنگ بندی میں شامل نہیں ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکی اقدام کی حمایت کی بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولے اور امریکہ و اسرائیل کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کے خلاف حملے بند کرے۔
اسرائیلی صدر کی جانب سے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے دو ہفتے کے لیے ایران کے خلاف حملے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ ان کوششوں کا حصہ ہے جو کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہو رہی ہیں۔
اسرائیل نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے کہ ایران امریکہ، اسرائیل اور اپنے عرب پڑوسیوں کے لیے جوہری، میزائل یا ’دہشت گردی‘ کے خطرات پیدا نہ کرے۔
بیان کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل کو بتایا ہے کہ وہ آنے والے مذاکرات میں ان کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کی جانب سے بدھ کو بتایا گیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات 10 اپریل کو بروز بدھ اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے دو اہلکاروں نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ اسرائیل نے دو ہفتے کی جنگ بندی اور ایران پر بمباری کے سلسلے کو روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، جنہوں نے معاہدے کے لیے ثالثی میں کردار ادا کیا، نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ اس معاہدے میں اسرائیل کی لبنان میں مہم کو روکنا بھی شامل ہے۔
لبنان میں اسرائیلی حملوں کی وجہ سے کم سے کم 15 سو افراد ہلاک اور 12 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔
لبنان جنگ میں اس وقت شامل ہوا تھا جب حزب اللہ نے تہران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ہونے والی اس کارروائی کے بعد اسرائیل نے لبنان میں زمینی و فضائی کارروائیاں شروع کیں۔

شیئر: