Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: قبائلی دُشمنیوں کے گڑھ ’گلستان‘ میں تین دہائیوں بعد تاریخی عید میلہ

میلے میں صوبے بھر کے پشتون اکثریتی اضلاع سے سینکڑوں پہلوانوں نے شرکت کی (فوٹو: بلوچستان سپورٹس فیس بُک پیج)
عبدالخالق اپنے چھوٹے بیٹے کا ہاتھ پکڑے گلستان کے تاریخی میلے کی طرف جا رہے تھے۔ قریباً 35 سال بعد یہ ان کے آبائی گاؤں میں پہلا میلہ تھا۔ 
بچپن میں وہ اپنے والد کے ساتھ اسی میلے میں آتے تھے لیکن قبائلی دشمنیوں کی وجہ سے یہ روایت ختم ہو گئی تھی۔آج وہ اپنے بیٹے کو وہ منظر دکھانے آئے ہیں جس کا انتظار انہوں نے برسوں سے کیا تھا۔
کوئٹہ سے قریباً 80 کلومیٹر دُور گلستان بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کی ایک تحصیل ہے جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ 
قریباً سوا لاکھ کی آبادی والا یہ علاقہ کبھی اپنے خوب صورت باغات اور عید کے میلوں کے لیے مشہور تھا لیکن گذشتہ چار دہائیوں سے قبائلی دشمنیوں، منشیات کی کاشت اور اسلحہ کلچر کے باعث بدنام اور بدامنی کی لپیٹ میں رہا۔
یہاں پشتونوں کے کاکڑ، ترین، اچکزئی کے علاوہ سید اور دیگر قبائل رہتے ہیں جن میں اکثریت قبائلی دشمنیاں رکھتے ہیں۔ ان دشمنیوں نے اب تک نہ صرف سینکڑوں افراد کی جانیں لی ہیں بلکہ بازار ویران ہو گئے، باغات اُجڑ گئے، ہسپتال اور سکول بند ہو گئے اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
علاقے کا امن متاثر ہوا تو گلستان میں دہائیوں سے جاری مشہور اور تاریخی عید میلہ بھی بند ہوگیا۔
تاہم رواں برس عید کے موقعے پر تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد گلستان میں یہ تاریخی میلہ دوبارہ منعقد ہوا۔ دو روزہ میلے میں بلوچستان بھر کے پشتون اکثریتی اضلاع سے ہزاروں شائقین اور سینکڑوں پہلوانوں نے شرکت کی۔
میلے کی تیاری اور انتظامات سابق پہلوان سید نظام آغا نے کیے جن کے کئی قریبی رشتہ دار قبائلی دشمنی کا شکار ہو چکے ہیں۔ 
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے خاندان کے بزرگ پہلے یہ میلہ منعقد کراتے تھے لیکن قتل و غارت کے بعد یہ روایت رُک گئی۔ گذشتہ سال ایک قبائلی تصفیہ ہوا تو میلے کے انعقاد کی راہ ہموار ہوئی۔
نظام آغا کے مطابق یہ میلہ 36، 35 سال بعد دوبارہ ہوا۔ پورے گلستان اور قریبی علاقوں کے لوگ نہایت پُرامید اور خوش تھے جس وجہ سے ہزاروں افراد دُوردراز دیہاتوں اور شہروں سے میلہ دیکھنے آئے۔
میلے میں 200 سے زائد پہلوان شریک ہوئے جو گلستان، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ، پشین، چمن اور قلعہ سیف اللہ کے مختلف علاقوں سے آئے تھے۔

 نہ صرف گلستان اور قریبی علاقوں بلکہ دُوردراز سے بھی ہزاروں افراد یہ میلہ دیکھنے آئے (فوٹو: بلوچستان سپورٹس فیس بُک پیج)

اس میلے میں روایتی کُشتی یا ریسلنگ ہوتی ہے جسے مقامی پشتو زبان میں ‘غیژ’ کہا جاتا ہے اور کھلاڑی کو پہلوان کہا جاتا ہے۔ یہ کھیل بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں اور اس سے متصل افغان علاقوں میں صدیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔
پنجاب میں کبڈی یا سندھی ملاکڑا کی طرح 'غیژ' میں دو افراد اپنی طاقت، مہارت اور توازن کے ذریعے ایک دوسرے کو زمین پر گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
 نظام آغا کے مطابق یہ روایتی کھیل تفریح کے ساتھ ساتھ ذہنی وجسمانی نشوونما فراہم کرتا ہے اس سے سماجی میل جول اور بھائی چارے کو بھی فروغ ملتا ہے۔
مقابلے جیتنے والے پہلوانوں کو موٹرسائیکل اور پشتون پگڑی دی گئی جو عزت، فخر اور باہمی احترام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
عبدالخالق نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ میلہ نسل در نسل چلتا رہے۔ یہ پشتون ثقافت، امن اور بھائی چارے کی علامت ہے اور دشمنیوں کے بجائے خوشیاں اور محبت کو فروغ دیتا ہے۔
نظام آغا نے بتایا کہ تماشائیوں کی اتنی بڑی تعداد تھی کہ انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میلوں کا انعقاد باقی پشتون علاقوں میں بھی ہوتا رہا مگر اس میلے جیسی رونق انہوں نے کہیں نہیں دیکھی۔ 
ان کا کہنا ہے کہ گلستان کے لوگ اس کھیل کو بہت پسند کرتے ہیں اور حصہ لینے والے کھلاڑیوں جنہیں پہلوان کہا جاتا ہے کی بڑی عزت و قدر کرتے ہیں۔

میلے کے منتظم سید نظام آغا کا کہنا ہے کہ ہر پہلوان اپنے علاقے اور قبیلے کی نمائندگی کرتا ہے (فوٹو: بلوچستان سپورٹس فیس بُک پیج)

نظام آغا کا کہنا تھا کہ ہر پہلوان اپنے علاقے اور قبیلے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کی جیت پر اس کے علاقے کے لوگ خوشی مناتے ہیں اور انہیں انعامات دیتے ہیں۔ انہیں پگڑی پہناتے ہیں۔
گلستان کے علاقے نورک سلیمان خیل کے رہائشی زین الدین کاکڑ نے بتایا کہ مرکزی میلے کے علاوہ بھی کئی چھوٹے بڑے میلوں کا انعقاد ہوا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ رات کے اوقات میں بھی مقابلے جاری رہے جس سے لوگوں کی دلچسپی اور جوش کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔
بسم اللہ پہلوان اپنے دوست کے ساتھ توبہ اچکزئی سے میلہ دیکھنے آئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں وہ گلستان کے میلوں میں شریک ہوتے تھے اور اب دیکھ کر خوشی ہے کہ قبائلی دشمنیوں کے باوجود لوگ امن اور محبت کا پیغام دے رہے ہیں۔
سید عبدالرؤف آغا بھی میلہ دیکھنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی قبائلی دشمنی میں ان کے رشتہ داروں سمیت بارہ افراد مارے گئے۔ گزشتہ سال مقامی عمائدین اور علما کی کوششوں سے دشمنی کا تصفیہ ہوا تو یہ میلہ دیکھنے نصیب ہوا۔
انہوں نے کہا کہ زمین، کاروبار، قبائلی یا ذاتی رنجش پر شروع ہونے والے تنازعات اور  بدامنی نے ہم سے ساری خوشیاں چھین لیں۔ ہمیں اپنا امن، میلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو پھر سے بحال کرنا ہوگا تاکہ خوش حالی اور اتحاد و اتفاق پیدا ہو۔

گلستان میں 27 قبائل کے مابین جاری تنازعات میں 600 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں​ (فوٹو: بلوچستان سپورٹس فیس بُک پیج)

ستر سال کے حاجی شیخ محمد نے کہا کہ وہ خاص طور پر اپنے گاؤں خواجہ عمران سے میلہ دیکھنے آئے ہیں اور چار دہائی پُرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ 
انہوں نے بتایا کہ ان کے کئی دوست اس میلے کی بحالی کا انتظار کرتے کرتے مر گئے۔ اگرچہ اس میلے میں ہمارے زمانے کے میلے جیسی بات نہیں مگر پھر بھی اس کی بحالی پر میں بہت خوش ہوں۔
نظام آغا نے بتایا کہ اس سال میلے میں چارگل ملیزئی کو خراج تحسین پیش کیا گیا جو دہائیوں قبل ان میلوں کا انعقاد کرتے تھے۔ وہ میلے کی دوبارہ بحالی کا ارمان لیے دنیا سے رُخصت ہوگئے لیکن آج ان کی رُوح خوش ہوئی ہوگی۔
نوے کی دہائی کے آغاز میں اچکزئی قبیلے کی ذیلی شاخوں حمیدزئی اور غبیزئی کے درمیان دشمنی کے بعد میلوں کا انعقاد بند ہوگیا تھا۔ 
اس قبائلی جنگ میں اچکزئی قبیلے کی ذیلی شاخ حمید زئی سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی میں موجودہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے قریبی رشتہ دار اور جے یو آئی کے موجودہ سینیٹر عبدالشکور غبیزئی کے والد سمیت کئی افراد مارے گئے۔
نظام آغا کے مطابق سینیٹر عبدالشکور غبیزئی کے بڑے بھائی احمد خان غبیزئی نے بھی میلے کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
بلوچستان امن جرگے کے صدر لالہ یوسف خلجی گلستان میں قبائلی دشمنیوں کے خاتمے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق گلستان میں سب سے زیادہ قبائلی تنازعات پائے جاتے ہیں۔ 

مقامی افراد نے مہمانوں کے لیے اپنی بیٹھکوں کے دروازے کھول دیے اور خوب مہمان نوازی کی​ (فوٹو: بلوچستان سپورٹس فیس بُک پیج)

لالہ یوسف خلجی کہتے ہیں کہ قریباً ہر قبیلے کا دوسرے سے کوئی نہ کوئی تنازع ہے۔ گلستان میں 27 قبائل کے مابین جاری تنازعات میں 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
قبائلی دشمنیوں کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ میلے سے ایک ہفتہ قبل بھی گلستان میں شمشوزئی اور سیگئی ترین قبائل کے تصادم میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
گلستان کی معیشت بنیادی طور پر زراعت اور باغبانی پر منحصر ہے۔ یہاں سیب، انگور، خوبانی، تربوز اور خربوزے پیدا ہوتے ہیں۔ 
قبائلی دشمنیوں کی وجہ سے باغات تک رسائی مشکل ہو گئی، بعض علاقوں میں دشمنی میں ایک دوسرے کے درخت تک کاٹے گئے، خشک سالی نے صورت حال مزید خراب کی۔ 
زیادہ تر لوگ سال بھر دیگر شہروں میں محنت مزدوری کرتے ہیں، خاص طور پر کراچی کے چائے ہوٹلوں میں بڑی تعداد گلستان اور قلعہ عبداللہ کے لوگوں کی ہوتی ہے۔
سال بھر دوسرے شہروں میں کام کرنے والے یہ مزدور عید کی چُھٹیاں گزارنے آبائی گاؤں آتے ہیں، ان کی چُھٹیاں طویل ہوتی ہیں تو گاؤں میں عید کے تہوار کی سرگرمیاں بھی شہروں کے مقابلے میں قریباً 10 روز تک جاری رہتی ہے۔
سلطان علی جو کراچی کی سبزی منڈی میں کام کرتے ہیں نے بتایا کہ طویل عرصے بعد میلے کے انعقاد نے عید کی خوشیاں دوبارہ بحال کیں اور گاؤں کی رونقیں لوٹ آئیں۔

نظام آغا کے مطابق لوگ اسے صرف ثقافتی میلے کی بحالی نہیں بلکہ امن کی واپسی کی علامت سمجھتے ہیں ​(فوٹو: بلوچستان سپورٹس فیس بُک پیج)

 ماضی میں گلستان میں میلوں اور مہمان نوازی کی زبردست روایت رہی۔ تاریخی میلے میں بلوچستان اور افغانستان کے مختلف علاقوں سے لوگ شریک ہوتے تھے اور مہمان مقامی گھروں میں ٹھہرتے تھے لیکن قبائلی دُشمنیوں اور اسلحہ کلچر کے پھیلاؤ کی وجہ سے یہ روایت بھی متاثر ہوئی۔
نظام آغا کے مطابق اس بار دوبارہ وہ روایت زندہ ہوئی۔ لوگوں نے دُوردراز علاقوں سے آئے کھلاڑیوں اور مہمانوں کے لیے اپنی بیٹھکوں کے دروازے کھول دیے اور خوب مہمان نوازی کی۔ انہوں نے بتایا کہ چار دہائی قبل میلوں میں افغان کھلاڑی بھی شریک ہوتے تھے لیکن اس بار سرحدی بندش اور پابندیوں کی وجہ سے وہ شریک نہیں ہو سکے۔
میلے کے منتظم نظام آغا نے مزید بتایا کہ ان قبائل کے افراد بھی میلے میں پُرامن طریقے سے شریک ہوئے جو عام دنوں میں ایک دوسرے کے جانور کو بھی زندہ نہیں دیکھنا چاہتے۔
اس علاقے میں ہر کسی کے کندھے پر کلاشنکوف لٹکتی نظر آتی ہے مگر میلے میں سب نے اسلحہ لانے پر پابندی کے فیصلے کا احترام کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس میلے سے لوگوں کو امن اور بھائی چارے کا پیغام ملا۔ برسوں بعد اجتماعی خوشی دیکھی گئی۔ مقابلے رات گئے تک جاری رہے اور پورا علاقہ دوبارہ زندگی سے بھرپور نظر آیا۔
نظام آغا کا کہنا تھا کہ لوگ اسے صرف ثقافتی میلے کی بحالی نہیں بلکہ امن کی واپسی کی علامت سمجھتے ہیں۔

شیئر: