Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی حملے میں نبطیہ میں 13 لبنانی سکیورٹی اہلکار ہلاک، لبنان سے اسرائیل پر 30 راکٹ فائر

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک وہ لبنان میں حزب اللہ کے 4,300 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کر چکی ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)

لبنان کے صدر جوزف عون نے جمعہ کے روز کہا کہ جنوبی شہر نبطیہ میں ایک سرکاری عمارت پر اسرائیلی حملے میں ریاستی سکیورٹی کے 13 اہلکار ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں جوزف عون نے مسلسل اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا لبنان کو اپنی خودمختاری کے دفاع سے نہیں روک سکتا۔

دریں اثنا، ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے جمعہ کو لبنان سے اسرائیل کی طرف تقریباً 30 راکٹ داغے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق کچھ حملوں سے نقصان بھی ہوا۔

لبنان کی سرحد کے قریب شمالی اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے، جہاں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، حالانکہ ایران سے متعلق وسیع تر تنازع میں جنگ بندی موجود ہے۔

اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے ادارے نے صفد میں ایک حملے کی اطلاع دی، جہاں براہِ راست راکٹ لگنے سے کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

ایمرجنسی سروس  کے مطابق الجلیل کے علاقے میں مزید حملے بھی ہوئے، جن میں بعنا اور دیر الاسد شامل ہیں، جہاں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئیں جب اس گروہ نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں اسرائیل پر راکٹ داغے۔

اسرائیل، جو کہتا ہے کہ لبنان اس ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی میں شامل نہیں ہے، نے بدھ کے روز حملے کیے جن میں لبنان میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک وہ لبنان میں حزب اللہ کے 4,300 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کر چکی ہے اور 1,400 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کر چکی ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک ملک میں 1,800 سے زائد افراد، جن میں 163 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

شیئر: