امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے آج پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں اہم ترین مذاکرات متوقع ہیں۔
اسلام آباد اس وقت ایک قلعے کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں ریڈ زون، ڈی چوک اور سیرینا ہوٹل کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہیں اور سڑکوں پر فوج، ایف سی اور پولیس کے مسلح اہلکار تعینات ہیں۔ یہ غیر معمولی اقدامات ان مذاکرات کے لیے کیے گئے ہیں جنہیں وزیراعظم شہباز شریف نے ’میک اور بریک‘ یا کامیابی اور مکمل خاتمے کے درمیان کا مرحلہ قرار دیا ہے۔
وفود کی آمد
ایران کا 70 رکنی وفد، جس کی قیادت پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جمعے کی شام ہی اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکاف کے ہمراہ ہفتے کی صبح پاکستان پہنچ رہے ہیں۔
مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے اسلام آباد آمد پر کہا کہ ’ہماری نیت نیک ہے لیکن ہم (امریکہ پر) اعتماد نہیں کرتے۔‘ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل خبردار کیا کہ ’اگر ایران نے ہمارے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش کی تو وہ مذاکراتی ٹیم کو زیادہ ہمدرد نہیں پائیں گے۔‘
پاکستان کی ثالثی اور ٹرمپ کی ترجیحات
یہ سفارتی معرکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کا نتیجہ ہے جس نے عالمی معیشت اور توانائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں 8 اپریل کو جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے ’فخر کا لمحہ‘ قرار دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان مذاکرات کے لیے ایجنڈا واضح ہے:
ایٹمی پروگرام: ٹرمپ کے مطابق مذاکرات کا 99 فیصد مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
آبنائے ہرمز: امریکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی چاہتا ہے اور ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے تعاون کے بغیر بھی اسے کھلوا سکتے ہیں۔
لبنان کا تنازع اور مذاکرات کے چیلنجز
مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لبنان کی صورتحال ہے۔ ایران نے جنگ بندی کے لیے لبنان میں اسرائیلی حملے روکنے اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کی شرط رکھی ہے، تاہم اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ امریکہ-ایران جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔ جمعے کے روز بھی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے جن میں سینکڑوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس نازک جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک کے نتائج پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ تباہی کا منظر بدل رہا ہے، لیکن ’آگے کا مرحلہ آسان نہیں ہوگا‘۔ اب دنیا کی نظریں اسلام آباد کے ریڈ زون پر لگی ہیں کہ آیا یہ مذاکرات خطے کو مستقل امن دے پائیں گے یا ایک بار پھر میدانِ جنگ گرم ہوگا۔








