Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جے ڈی وینس اسلام آباد پہنچ گئے، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آج

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اہم ترین مذاکرات آج ہو رہے ہیں۔
مذاکرات کے لیے ایران اور امریکہ کے وفود اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد کے ہمراہ سنیچر کی صبح آباد پہنچے جبکہ ایران کا 70 رکنی وفد جس کی قیادت پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جمعے کی شب ہی اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان مذاکرات کو  ’میک آر بریک‘ یا کامیابی اور مکمل خاتمے کے درمیان کا مرحلہ قرار دیا ہے۔
خبر رساں اے ایف پی کے مطابق مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔
ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے اسلام آباد آمد پر کہا کہ ’ہماری نیت نیک ہے لیکن ہم (امریکہ پر) اعتماد نہیں کرتے۔‘

ایران کا 70 رکنی وفد پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان پہنچا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل خبردار کیا کہ ’اگر ایران نے ہمارے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش کی تو وہ مذاکراتی ٹیم کو زیادہ ہمدرد نہیں پائیں گے۔‘
پاکستان کی ثالثی اور ٹرمپ کی ترجیحات
یہ سفارتی معرکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کا نتیجہ ہے جس نے عالمی معیشت اور توانائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں 8 اپریل کو جنگ بندی ممکن ہوئی جسے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کی شب اپنے ویڈیو خطاب میں پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے ’فخر کا لمحہ‘ قرار دیا ہے۔

ریڈ زون، ڈی چوک اور سیرینا ہوٹل کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

لبنان کا تنازع اور مذاکرات کے چیلنجز
مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لبنان کی صورتحال ہے۔ ایران نے جنگ بندی کے لیے لبنان میں اسرائیلی حملے روکنے اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کی شرط رکھی ہے تاہم اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ امریکہ-ایران جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔
اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اس نازک جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک کے نتائج پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔

جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک کی نمایاں کمی دیکھی گئی (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ تباہی کا منظر بدل رہا ہے لیکن ’آگے کا مرحلہ آسان نہیں ہو گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب دنیا کی نظریں اسلام آباد کے ریڈ زون پر لگی ہیں کہ آیا یہ مذاکرات خطے کو مستقل امن دے پائیں گے یا ایک بار پھر میدانِ جنگ گرم ہو گا۔‘

ایران کے پاس کوئی کارڈ موجود نہیں: صدر ٹرمپ

مذاکرات کا یہ اہم سلسلہ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایرانیوں کو اس بات کا احساس نہیں کہ ان کے پاس کوئی کارڈ موجود نہیں، سوائے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے قلیل مدتی بھتہ لینے کے، اور آج وہ مذاکرات کرنے کی وجہ سے ہی زندہ ہیں۔‘
اسلام آباد میں مذاکرات کے موقعے پر سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئیے ہیں۔ ریڈ زون، ڈی چوک اور سیرینا ہوٹل کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہیں اور سڑکوں پر فوج، ایف سی اور پولیس کے مسلح اہلکار تعینات ہیں۔

شیئر: