امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات جاری
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات جاری
ہفتہ 11 اپریل 2026 16:39
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔
یہ مذاکرات پاکستان کی سہولت کاری اور ثالثی میں ہو رہے ہیں۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ یہ مذاکرات براہ راست ہو رہے ہیں جن میں امریکہ، ایران اور پاکستان کے وفود شریک ہیں۔
مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وِٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر بھے شریک ہیں۔
بات چیت میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلٰی حکام بھی وفد کا حصہ ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق براہ راست مذاکرات کا آغاز اس بات کا ایک اہم امتحان ہے کہ آیا یہ جنگ بندی، جو پہلے ہی کمزور پڑتی دکھا رہی ہے، اتنی مضبوط ہے کہ ایران کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی پائیدار حل تک پہنچا سکے۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم نے جمعے کی رات کو قوم سے خطاب میں ان مذاکرات کو ’میک آر بریک‘ قرار دیا تھا اور قوم پر زور دیا تھا کہ ان کی کامیابی کی لیے دعا کریں تاکہ اس سے خطے اور دنیا میں امن قائم ہو۔
سنیچر کو مذاکرات کے آغاز سے پہلے امریکی اور ایرانی وفود نے وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
ایرانی وفد پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں جمعے کی رات کو اسلام آباد پہنچا تھا۔ وفد میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلٰی حکام بھی شامل ہیں۔
امریکی وفد نائب صدر جی ڈی وینس کی قیادت میں سنیچر کی صبح گیارہ بجے اسلام آباد پہنچا۔ امریکی وفد میں صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان ملاقات کے بعد وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملاقات میں شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ’یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن کی جانب سنگ میل ثابت ہو گی۔‘
خیال رہے کہ ایرانی وفد نے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثے بحال نہیں ہو جاتے، اُس وقت تک مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی یہ پیشگی شرائط منظور ہوئی ہیں یا نہیں۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے پیشِ نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
شہر میں سکیورٹی کے سخت اقدامات
امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے پیشِ نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں جمعرات اور جمعے کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند رہے۔
پولیس، ایف سی اور فوج کے پانچ ہزار سے زائد اہلکاروں کو شہر کے اہم مقامات پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ شہر کا ریڈزون مکمل طور پر سیل ہے جہاں غیر متعلقہ افراد اور نجی گاڑیوں کا داخلہ بند کر کے صرف سرکاری گاڑیوں کو نقل و حرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایک جامع ڈائیورژن پلان کے ذریعے ٹریفک کو متبادل فراہم کیا اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔