امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔
یہ مذاکرات پاکستان کی سہولت کاری اور ثالثی میں ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم نے جمعے کی رات کو قوم سے خطاب میں ان مذاکرات کو ’میک آر بریک‘ قرار دیا تھا اور قوم پر زور دیا تھاکہ ان کی کامیابی کی لیے دعا کریں تاکہ اس سے خطے اور دنیا میں امن قائم ہو۔
سنیچر کو مذاکرات کے آغاز سے پہلے امریکی اور ایرانی وفود نے وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی۔
ایرانی وفد پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں جمعے کی رات کو اسلام آباد پہنچا تھا۔ وفد میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلی حکام شامل ہیں۔
امریکی وفد نائب صدر جی ڈی وینس کی قیادت میں سنیچر کی صبح گیارہ بجے اسلام آباد پہنچا ہے۔ امریکی وفد میں صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان ملاقات کے بعد وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملاقات میں شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن کی جانب سنگ میل ثابت ہو گی۔

خیال رہے کہ ایرانی وفد نے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثے بحال نہیں ہو جاتے، اُس وقت تک مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی یہ پیشگی شرائط منظور ہوئی ہیں یا نہیں۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک سینیئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں موجود ایرانی اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ نے ان اثاثوں کی بحالی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس نے اس پیش رفت کو اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے دوران واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب سنجیدہ پیش رفت قرار دیا تھا۔
