وہ 10 لازوال گانے جنہوں نے آشا بھوسلے کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا
اتوار 12 اپریل 2026 18:28
اپنے کیریئر میں آشا بھوسلے نے 20 سے زائد زبانوں میں 11,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے اور گنیز ورلڈ ریکارڈز میں جگہ حاصل کی۔ (فوٹو: انسٹا گرام)
لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے کے 92 سال کی عمر میں چل بسنے کے ساتھ ہی انڈین موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
اپنے سات دہائیوں سے زیادہ پر محیط کیریئر میں انہوں نے مختلف زبانوں میں ہزاروں گانے ریکارڈ کیے۔
غزلوں، رومانوی گانوں لے کر فلسفیانہ دھنوں تک، ان کی آواز نے ہر انداز میں اپنی موجودگی منوائی۔
ان کے کئی گانے ایسے ہیں جنہوں نے نہ صرف ان کے شاندار کیریئر کی سمت متعین کی بلکہ ان کو شہرت کے بام عروع پر پہنچائے۔
دل چیز کیا ہے (امراؤ جان، 1981)
یہ غزل ان کی کلاسیکی انداز کی بہترین پرفارمنس میں شمار کی جاتی ہے۔ اس گانے پر انہیں بہترین پلے بیک سنگر کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اس میں انہوں نے نہایت نازک جذبات اور گہری کیفیت کو بڑی مہارت سے پیش کیا۔
دم مارو دم (ہرے راما ہرے کرشنا، 1971)
یہ اس دور کے نوجوانوں میں بہت مقبول ہوا۔ 1970 کی دہائی کے آغاز کے کلچر کی عکاسی کرنے والا یہ گانا اپنی منفرد آواز اور ردھم کی وجہ سے کئی نسلوں میں مقبول رہا۔
چُرا لیا ہے تم نے جو دل کو (یادوں کی بارات، 1973)
یہ رومانوی کلاسک ہندی سنیما کے سب سے یادگار گانوں میں سے ایک ہے۔ موسیقار آر ڈی برمن کے ساتھ ان کی جوڑی نے ایسی دھن تخلیق کی جو آج بھی نئی پرفارمنسز اور کور ورژنز میں زندہ ہے۔
میرا کچھ سامان (اجازت، 1987)
غیر روایتی شاعرانہ ساخت پر مبنی اس گانے نے انہیں ایک اور نیشنل فلم ایوارڈ دلایا۔ یہ گانا اپنی گہری جذباتی کیفیت اور فکری انداز کی وجہ سے آج بھی بہت سراہا جاتا ہے۔
پیا تو اب تو آجا (کاروان، 1971)
یہ ہندی سنیما کا لازوال گانا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی آواز کو نہایت توانائی کے ساتھ استعمال کیا، جبکہ موسیقی کی نفاست بھی برقرار رکھی۔ اس گانے کا جملہ ’مونیکا، او مائی ڈارلنگ‘ پاپ کلچر کا حصہ بن گیا۔
آئیے مہرباں (ہاوڑہ برج، 1958)
یہ ابتدائی کلاسک ان کی جذباتی گلوکاری کی پہچان بنا۔ اس کی دھن آج بھی کئی دہائیوں بعد سننے والوں کو جانی پہچانی لگتی ہے۔
پردے میں رہنے دو (شکار، 1968)
یہ گانا اپنے منفرد سُروں اور مشرقِ وسطیٰ کے انداز سے متاثر موسیقی کی وجہ سے نمایاں رہا۔ اس پر انہیں بہترین گلوکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر (ہم دونوں، 1961)
ان کا یہ ڈیوٹ محمد رفیع کے ساتھ ہندی سنیما کے سب سے پسندیدہ رومانوی گانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا مکالماتی انداز فلمی رومانوی گانوں کی پیشکش میں ایک نیا رجحان بنا۔
یہ میرا دل (ڈان، 1978)
یہ ایک مقبول ڈانس ٹریک تھا جس نے ان کی بدلتے ہوئے میوزیکل رجحانات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کو ظاہر کیا۔ بعد میں اس کے ری مکس اور بین الاقوامی سیمپلنگ نے اسے نئی نسل تک پہنچایا۔
آگے بھی جانے نہ تو (وقت، 1965)
یہ گانا وقت اور زندگی کی بے ثباتی جیسے موضوعات پر مبنی تھا۔ اس کا گہرا پیغام اسے آج بھی متعلقہ بنائے رکھتا ہے۔
اپنے کیریئر میں آشا بھوسلے نے 20 سے زائد زبانوں میں 11,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے اور گنیز ورلڈ ریکارڈز میں جگہ حاصل کی۔
