Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلیک آؤٹس، آنسو اور ماضی کا پیغام، آرٹیمس ٹو کے تاریخی سفر کے دوران پانچ اہم لمحات

آرٹیمس ٹو میں انسانوں نے زمین سے دور جانے کا ریکارڈ بنایا (فوٹو: شٹر سٹاک)
تاریخی قمری مشن ’آرٹیمس ٹو‘ کے چھٹے روز میں داخل ہوتے ہی دنیا بھر میں خلائی تحقیق کے شعبے میں نئی دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ناسا نے چاند پر واپسی کے منصوبے کو دوبارہ متحرک کیا ہے اور آرٹیمس ٹو کے خلا باز زمین سے پہلے کسی بھی انسان کے مقابلے میں زیادہ دور تک پہنچ گئے ہیں۔
چھ گھنٹے طویل فلائی بائی کے دوران، اورائن سپیس کرافٹ میں موجود عملے نے چاند کے اُس حصے کے مناظر محفوظ کیے جو اس سے پہلے کبھی انسانوں نے نہیں دیکھے تھے۔
اسی دوران اُن خلا بازوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا ہے جنہوں نے اس تاریخی سفر کی بنیاد رکھی۔ آپ کو ان پانچ اہم لمحات کے بارے میں بتاتے ہیں جو ’آرٹیمس ٹو‘ کے دوران رونما ہوئے۔

56 برس پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا

’آرٹیمس ٹو‘ کے چاروں خلا بازوں نے سنہ1970 کے ’اپولو 13‘ مشن کا اس وقت ریکارڈ توڑ دیا، جب وہ زمین سے چار لاکھ چھ ہزار 778 کلومیٹر دور پہنچے۔ یہ فاصلہ پچھلے ریکارڈ سے تقریباً چھ ہزار 606 کلومیٹر زیادہ ہے۔
اگرچہ یہ ایک بڑا کارنامہ تھا لیکن کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن کی نظریں مستقبل پر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری اور آنے والی نسلوں کو چاہیے کہ یہ ریکارڈ زیادہ عرصہ برقرار نہ رہے۔‘
’آرٹیمس ٹو‘ کا راستہ ’اپولو 13‘ جیسا ہی ہے، جس میں ’فری ریٹرن‘ ٹریک استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھا کر کم ایندھن میں واپسی ممکن ہوتی ہے۔

چاند کا مشاہدہ اور تصاویر

خلا بازوں کے پاس چھ گھنٹے سے زیادہ وقت تھا کہ وہ چاند کی سطح کا قریب سے مشاہدہ کریں۔ انہوں نے ہیوسٹن میں موجود سائنسدانوں کو مسلسل اپنے مشاہدات سے آگاہ کیا۔
ریڈ وائزمن نے کہا کہ ’یہ منظر بہت شاندار ہے۔‘ وکٹر گلوور کے مطابق ’کچھ پہاڑ اتنے روشن تھے جیسے ان پر برف جمی ہو۔‘ کرسٹینا کوچ نے گڑھوں کو ایسے بیان کیا جیسے ’ایک لیمپ شیڈ میں باریک سوراخ ہوں اور ان میں سے روشنی گزر رہی ہو۔‘
خلا بازوں نے جدید نائکون کیمروں کے ساتھ ساتھ آئی فون سے بھی تصاویر لیں۔ توقع ہے کہ وہ ہزاروں تصاویر لے کر واپس آئیں گے، جن میں ’اپولو 12‘ اور 14 کے لینڈنگ مقامات بھی شامل ہوں گے۔

رابطہ بحال ہوا تو کوچ نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ زمین کو اور ایک دوسرے کو ترجیح دیں گے‘ (فوٹو: شٹر سٹاک)

’ہم دوسری طرف ملیں گے‘ بلیک آؤٹ کا لمحہ

رپورٹ کے مطابق جب کیپسول چاند کے پچھلے حصے میں داخل ہوا تو تقریباً 40 منٹ کے لیے زمین سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
رابطہ ختم ہونے سے پہلے گلوور نے کہا کہ ’ہم دوسری طرف ملیں گے۔‘
اسی دوران خلائی جہاز چاند کے سب سے قریب پہنچا اور زمین سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر گیا۔ ماہرِ فلکیات ڈیرک بوزاسی نے اس لمحے کو ’دلچسپ مگر تھوڑا خوفناک‘ قرار دیا۔
جب رابطہ بحال ہوا تو کوچ نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ زمین کو اور ایک دوسرے کو ترجیح دیں گے۔‘

ماضی کا پیغام

اس اہم دن کی شروعات ’اپولو 13‘ کے کمانڈر جم لوول کے پیغام سے ہوئی، جو انہوں نے اپنی وفات سے دو ماہ قبل ریکارڈ کروایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے پرانے علاقے میں خوش آمدید۔ یہ ایک تاریخی دن ہے، مصروف رہو گے مگر منظر سے لطف لینا نہ بھولو۔‘
عملہ اپنے ساتھ ’اپولو ایٹ‘ کا وہ یادگاری نشان بھی لے کر گیا جو پہلے لوول کے ساتھ چاند تک گیا تھا۔

جب کیپسول چاند کے پچھلے حصے میں داخل ہوا تو تقریباً 40 منٹ کے لیے زمین سے رابطہ منقطع ہو گیا (فوٹو: شٹر سٹاک)

جذباتی لمحہ

ریکارڈ بنانے کے فوراً بعد خلا بازوں نے چاند پر موجود دو گڑھوں کے نام رکھنے کی اجازت مانگی۔ ایک کا نام ’انٹیگریٹی‘ رکھا گیا، جو ان کے کیپسول کا نام ہے، جبکہ دوسرے کا نام ’کیرول‘ رکھنے کی تجویز دی گئی، جو ریڈ وائزمن کی مرحوم اہلیہ کے نام پر تھا۔
یہ سن کر وائزمن آبدیدہ ہو گئے اور تمام خلا باز ایک دوسرے سے گلے ملے۔
ہیوسٹن میں موجود ناسا کے ترجمان کے مطابق ’یہ نام عالمی فلکیاتی یونین کو بھیجے جائیں گے، جو آسمانی اجسام کے نام رکھنے کی ذمہ دار تنظیم ہے۔‘

شیئر: