قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فولڈیبل فونز اور ٹیبلٹس دونوں پر ہوا ہے۔
مثال کے طور پر گلیکسی زی فلپ 7 کی قیمت میں 80 ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ گلیکسی ٹیب ایس 11 الٹرا کے 1 ٹی بی ماڈل کی قیمت میں 280 ڈالر تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ٹیک ویب سائٹ سی نیٹ نے سام سنگ کی ویب سائٹ پر موجودہ قیمتوں کا موازنہ سابقہ قیمتوں سے کر کے ان اضافوں کی تصدیق کی ہے۔
اس سے قبل گلیکسی زی فولڈ 7 کے 1 ٹی بی اور 512 جی بی ماڈلز کی قیمتوں میں بھی 80 ڈالر کا اضافہ کیا جا چکا ہے، جس کے بعد ان کی قیمتیں بالترتیب 2500 اور 2200 ڈالر ہو گئی ہیں۔
سام سنگ کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
اگرچہ کمپنی اس وقت کچھ مصنوعات پر رعایتی آفرز دے رہی ہے، تاہم اصل ریٹیل قیمتیں ظاہر کرتی ہیں کہ صارفین کے لیے مجموعی اخراجات آئندہ بھی زیادہ رہیں گے۔
بعض ریٹیلرز پر ابھی بھی کچھ مصنوعات پرانی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔
سام سنگ کے فلیگ شپ فونز جیسے گلیکسی ایس 26 اور گلیکسی ایس 26 الٹرا کی قیمتوں میں فی الحال اضافہ نہیں ہوا، تاہم مستقبل میں ان پر بھی اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 میں سمارٹ فونز کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے میموری چِپس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے قلت پیدا ہو رہی ہے۔
اس کے علاوہ سپلائی چین کے مسائل اور ٹیرف کے دباؤ نے بھی پرزہ جات کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 میں سمارٹ فونز کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث فروخت میں کمی آ سکتی ہے۔
سام سنگ کے بڑے حریف ایپل نے بھی حالیہ عرصے میں اپنی کچھ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں مہنگائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔