Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اچھی اہلیہ انسان کو بادشاہ بنا دیتی ہے‘، سٹار فٹ بالر عثمان ڈیمبیلے کی خاموش طاقت ریما ایدبوش کون ہیں؟

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ریما نے عثمان ڈیمبیلے کی زندگی بدلنے میں اہم کردار ادا کیا (فوٹو: یوئیفا)
پیرس سینٹ جرمین کی تاریخی چیمپئنز لیگ فتح کے بعد جہاں پورا فٹبال ورلڈ پی ایس جی کے جشن میں ڈوبا ہوا ہے، وہیں سب سے زیادہ تذکرہ فرانسیسی سٹار عثمان ڈیمبیلے اور اُن کی اہلیہ ریما ایدبوش کا ہو رہا ہے۔
فائنل کے بعد میدان میں ڈیمبیلے کی اہلیہ اور ننھی بیٹی کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، جن میں وہ چیمپئنز لیگ ٹرافی کے ساتھ خوشیاں مناتے دکھائی دیے۔
ایک تصویر میں ڈیمبیلے اپنی بیٹی کو گود میں لیے ٹرافی کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ اُن کی اہلیہ ریما خاموشی سے ساتھ موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد ڈیمبیلے کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔ ایک وائرل پوسٹ میں لکھا گیا کہ جب سے ڈیمبیلے نے شادی کی ہے، زندگی ان کے لیے مزید بہتر ہوتی جا رہی ہے۔
جبکہ ایک اور صارف نے افریقی کہاوت شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک عام آدمی بھی بادشاہ بن جاتا ہے جب وہ اچھی خاتون سے شادی کرے۔‘

انسٹاگرام اور ایکس پر مداح مسلسل یہ تبصرے کرتے دکھائی دیے کہ ریما ایدبوش نے ڈیمبیلے کی زندگی میں استحکام، سکون اور ذمہ داری پیدا کی، جس کے بعد اُن کا کیریئر نئی بلندیوں تک پہنچا۔
کئی پوسٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اچھی شریکِ حیات انسان کی زندگی بدل دیتی ہے اور ڈیمبیلے اس کی زندہ مثال ہیں۔
چیمپئنز لیگ جیتنے کے سفر میں ڈیمبیلے نے پی ایس جی کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ پورے سیزن میں اُن کی رفتار، ڈربلنگ، پریسنگ اور فیصلہ کن مواقع پر کارکردگی نے ٹیم کو نئی جان دی۔
فائنل سمیت ناک آؤٹ مرحلے میں وہ پی ایس جی کے سب سے مؤثر کھلاڑیوں میں شمار ہوئے، اور اسی شاندار کارکردگی کے باعث وہ 2025 کا بیلون ڈی اور جیتنے میں بھی کامیاب رہے۔
تاہم اس کامیابی کے پیچھے صرف گراؤنڈ کی محنت نہیں، بلکہ ایک خاموش مگر مضبوط خاندانی سپورٹ سسٹم بھی موجود تھا اور یہی وجہ ہے کہ اب دنیا ریما ایدبوش کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔

ریما ایدبوش کون ہیں؟
ریما مراکشی نژاد سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں، تاہم وہ اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رکھتی آئی ہیں۔
دسمبر 2021 میں ڈیمبیلے اور ریما کی شادی ہوئی، مگر حیران کن طور پر یہ شادی بھی مکمل رازداری میں انجام پائی۔ نہ میڈیا کو خبر ہوئی اور نہ ہی دونوں نے سوشل میڈیا پر اپنی نجی زندگی کو نمایاں کیا۔
ewfw
عثمان اور ریما نے بغیر کسی میڈیا ہائی لائٹ کے سادگی سے شادی کی (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

ریما پہلے ٹک ٹاک پر بے حد مقبول تھیں اور اُن کے لاکھوں فالوورز تھے، لیکن ڈیمبیلے سے تعلق قائم ہونے کے بعد انہوں نے اچانک خود کو سوشل میڈیا کی چکاچوند سے دُور کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنا ٹک ٹاک اکاؤنٹ محدود کردیا، انسٹاگرام سے پرانی تصاویر ہٹا دیں اور اب کبھی کبھار سفر یا فیشن سے متعلق محدود مواد ہی شیئر کرتی ہیں۔
مداحوں کا ماننا ہے کہ ریما نے جان بوجھ کر اپنی فیملی کو میڈیا کی نظروں سے بچا کر رکھا، خاص طور پر اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رازداری صرف والدین بننے کے بعد نہیں آئی بلکہ شادی سے پہلے ہی دونوں نے اپنی زندگی کو نجی رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
ریما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسلامی اقدار پر عمل کرنے والی، کم گو اور پرسکون شخصیت کی مالک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں 'خاموش طاقت' کہا جا رہا ہے، جس نے ڈیمبیلے کی زندگی کو اندر سے بدل دیا۔
ڈیمبیلے کی زندگی میں تبدیلی کیسے آئی؟
بارسلونا میں اپنے دور کے دوران ڈیمبیلے کو دنیا کے سب سے باصلاحیت مگر غیر مستقل کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
سنہ 2017  میں نیمار کے متبادل کے طور پر تقریباً 126 ملین ڈالر میں ایف سی بارسلونا میں آنے والے ڈیمبیلے سے بے پناہ توقعات وابستہ تھیں، مگر اگلے چھ برس اُن کیلئے انتہائی مشکل ثابت ہوئے۔
وہ مسلسل انجریز کا شکار رہے اور مختلف رپورٹس کے مطابق تقریباً 784 دن میدان سے باہر رہے۔ اس دوران انہیں 14 مرتبہ مسلز انجری کا سامنا کرنا پڑا۔
میدان سے باہر بھی اُن پر تنقید ہوتی رہی۔ دیر سے ٹریننگ پر پہنچنا، رات بھر ویڈیو گیمز کھیلنا، غیر متوازن خوراک اور غیر سنجیدہ طرزِ زندگی اکثر خبروں کا حصہ بنتا رہا۔
سنہ 2019 میں اُن پر اور انطوان گریزمان پر ایک ویڈیو میں ایشیائی ٹیکنیشن کا مذاق اڑانے کا الزام بھی لگا، جس کے بعد اُنہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ستمبر 2025 میں عثمان نے بیلون ڈی اور جیتا۔ (فوٹو: روئٹرز)

تاہم 2021 میں ریما سے شادی کے بعد حالات بدلنا شروع ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق ریما نے ڈیمبیلے کو اپنی زندگی میں نظم و ضبط لانے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے اپنی خوراک بہتر بنائی، ذاتی فٹنس کوچ رکھا، جسمانی فٹنس پر توجہ دی اور بطور شوہر و والد زیادہ ذمہ دار بن گئے۔
پھر 2022 میں اُن کی پہلی بیٹی پیدا ہوئی، جسے مداح محبت سے 'دی کاتالان گرل' کہتے ہیں کیونکہ وہ بارسلونا میں پیدا ہوئی تھی۔
بیلون ڈی اور جیتنے کے بعد ریما نے سوشل میڈیا پر صرف ایک سادہ تصویر شیئر کی، جس میں ڈیمبیلے ٹرافی تھامے ہوئے تھے، اور اُس کے ساتھ صرف ایک لفظ لکھا 'فخر'۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل نے ریما کو ایسی شخصیت قرار دیا جو سوشل میڈیا سٹار سے خاموش مگر روحانی سپورٹ فراہم کرنے والی شریکِ حیات میں تبدیل ہو گئیں، جنہوں نے خاندان کی پرائیویسی کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنے شوہر کی زندگی سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
عثمان ڈیمبیلے کا سفر
15 مئی 1997 کو فرانس کے شہر ورنن میں پیدا ہونے والے عثمان ڈیمبیلے نے فٹبال کا آغاز اپنے آبائی علاقے کے کلبز اے ایل ایم ایروکس اور ایف سی ایوروکس سے کیا۔ کم عمری میں انہوں نے فٹسال بھی کھیلی، جہاں اُن کی غیرمعمولی تکنیک نمایاں ہوئی۔
13 برس کی عمر میں اُنہیں سٹید رینائس نے منتخب کیا، جہاں سے اُن کے پروفیشنل کیریئر کا آغاز ہوا۔
سنہ 2015 سے 2016 کے سیزن میں انہوں نے 29 میچز میں 12 گول اور 5 اسسٹ دے کر فرانس کی لیگ جیت میں 'ینگ پلیئر آف دی سیزن' کا ایوارڈ جیتا۔
اس کے بعد وہ بورسیا ڈورٹمنڈ منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے صرف ایک سیزن میں 11 گول اور 21 اسسٹ کیے اور جرمن کپ جیتنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سنہ2017  میں وہ بارسلونا پہنچے، جہاں انجریز کے باوجود انہوں نے تین لا لیگا ٹائٹلز، دو کوپا ڈیل رے اور دو ہسپانوی سپر کپ جیتے۔
فرانسیسی قومی ٹیم کے ساتھ وہ دو ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں۔ 2018 میں فرانس کے عالمی چیمپئن بننے والی ٹیم کا حصہ رہے جبکہ 2022 ورلڈ کپ میں فرانس رنر اپ رہا۔
2023  میں وہ سات سال بعد دوبارہ فرانس واپس آئے اور پیرس سینٹ جرمین میں شامل ہوگئے۔

30 مئی 2026 کو بوداپیسٹ کے پوشکاش ایرینا میں کھیلے گئے یوئیفا چیمپئنز لیگ فائنل میں پیرس سینٹ جرمین نے آرسنل کو شکست دے کر تاریخ میں پہلی بار یورپ کا سب سے بڑا کلب ٹائٹل اپنے نام کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اب چیمپئنز لیگ اور بیلون ڈی اور جیتنے کے بعد عثمان ڈیمبیلے صرف اپنی رفتار اور مہارت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلی کے باعث بھی دنیا بھر میں گفتگو کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک فٹبالر کی کامیابی نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی کو سنبھالا، اپنی ترجیحات بدلیں اور پھر دنیا کی چوٹی تک پہنچ گیا۔

شیئر: