Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فٹ بال: پی ایس جی نے چیمپنز لیگ میں کرشمہ کر دکھایا، عامر خاکوانی کا تجزیہ

پی ایس جی نے آرسنل کو پنالٹی ککس پر چار تین سے ہرا کر یوئیفا چیمپئنز لیگ مسلسل دوسری بار جیتی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ہفتے اور اتوار کی رات دو میچ ایک ساتھ تھے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کا ون ڈے میچ جو شاید گرمی کی وجہ سے بہت دیر سے شروع ہوا۔ پاکستان نےیہ میچ شاندار طریقے سے جیت لیا۔ میچ یک طرفہ ثابت ہوا، عرفات منہاس کو اپنے ڈیبیو پر پانچ وکٹ لینے کا موقعہ ملا اور نوجوان وکٹ کیپر غازی غوری کو ایک اچھی ففٹی مل گئی، بابر اعظم نے بھی عمدہ نصف سینچری بنائی اور یوں پاکستان نے مزے سے میچ جیت لیا۔
دوسرا میچ زیادہ بڑا اور ہائی پروفائل تھا۔ یورپی فٹ بال کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ یوئیفا چیمپینز لیگ کا فائنل۔ یہ میچ فٹ بال کے جادو کا ایک شاندار نمونہ ثابت ہوا۔ میں فٹ بال لیگز کو زیادہ فالو نہیں کرتا، البتہ فٹ بال ورلڈ کپ آئے تو میری دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے۔ دس دن کے بعد فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہونے والا ہے، اس لیے یوں سمجھ لیں کہ فٹ بال فیور میں مبتلا ہوچکا ہوں۔ روزانہ گھنٹوں فٹ بال پر ریسرچ کر رہا ہوں، کون سی ٹیموں کےبہترین کھلاڑی ہیں، کس کوچ کی کیا حکمت عملی ہے وغیرہ وغیرہ۔
گزشتہ رات جب میرے بارہ سالہ بیٹے عبداللہ نے جب کہا کہ یوسی ایل کا فائنل ہے،پی ایس جی اور آرسنل کے درمیان ، آئیے دیکھتے ہیں۔ میرا جواب ہاں میں تھا۔ سوچا کرکٹ تو جیت گئے، چلو اب فٹ بال میچ کا آخری حصہ ہی دیکھ لیتے ہیں۔ اوپر سے پنالٹی شوٹس پر میچ چلا گیا۔ کیا تھرلنگ فائنل تھا۔ ہمارا عبداللہ رونالڈو کا فین ہے اور ہر رونالڈو فین کی طرح ان کے خیال میں میسی دنیا کا سب سے تھکا ہوا کھلاڑی ہے جسے خواہ مخواہ میڈیا نے مشہور کر رکھا ہے۔ یوسی ایل میں چونکہ رونالڈو تھا نہ میسی کے کلبز تو عبداللہ خان پی ایس جی یعنی پیرس سینٹ جرمین کلب کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ رات وہ بہت پرجوش تھا۔
پی ایس جی نے آرسنل کو پنالٹی ککس پر چار تین سے ہرا کر یوئیفا چیمپئنز لیگ مسلسل دوسری بار جیتی۔ میچ ٹائم اور ایکسٹرا ٹائم میں ایک ایک سے برابری رہی۔ بعد میں پنالٹی شوٹس میں تھرل اور ٹوئسٹ آتے رہے۔ آخر میں آرسنل کے دفاعی کھلاڑی گبریئل نے آخری پنالٹی اوپر سے مار دی اور یوں بڈاپیسٹ، ہنگری کا پُشکاش سٹیڈیم پیرس والوں کے جشن سے بھر گیا۔ ٹورنامنٹ کوئی بھی ہو، اس کے بعد جیتنے والوں کا جشن دیکھنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ کھلاڑی تو جان مارتے ہیں، وہ تو خوش ہوتے ہیں، مگر ان کے مداحین ان سے بھی زیادہ انوالو ہوتے ہیں۔
مجھے وہ منظر اچھا لگا جب پنالٹی ککس سے پہلے ریفری کے پاس ٹاس کرنے اشرف حکیمی گئے۔ ٹاس جیتا اور پی ایس جی نے اپنے مداحوں کے سامنے پنالٹیاں لینے کا فیصلہ کیا اور پھر جو ہوا وہ تاریخ بن گیا۔ میں نے بیٹے کو دیکھا تو وہ سانس روکے بیٹھا تھا۔
جیسا کہ پہلے کہا فٹ بال لیگز میں سال بھر فالو نہیں کرتا، البتہ ایک زمانے میں مانچسٹر یونائٹیڈ اچھی لگتی تھی، رئیل میڈرد کا بھی اپنا ایک سحر ہے، مانچسٹر سٹی بھی کمال ہے۔ پی ایس جی سے دلچسپی کی دو وجوہات ہیں۔ ایک ان کے کوچ لوئس اینرکے کا وہ حیران کن انقلاب جو اس نے اس کلب میں برپا کیا، دوسرا اشرف حکیمی اور عثمان دمبیلے جیسے کھلاڑی جو نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ اپنے مذہبی تشخص کو پوری شان سے برقرار رکھتے ہیں۔
پی ایس جی کے کوچ لوئس اینرکے کی بات پہلے کر لیتے ہیں۔ جب مشہور سٹرائیکر اور فرانسیسی کھلاڑی ایمباپے پی ایس جی کلب چھوڑ کر گیا تو بہت سوں نے کہا کہ پی ایس جی ختم ہو گئی۔ اینرکے نے کہا کہ ٹیم اب پہلے سے بہتر ہے۔ ہنسنے والے ہنسے، مگر جب انٹر میلان جیسی ٹیم کو پانچ صفر سے روندا گیا، پھر اس سیزن میں لیورپول کو دو بار باہر کیا، چیلسی کو، آرسنل کو، تو انگریزی محاورے کے مطابق آخری قہقہہ اینرکے کو لگانا چاہیے۔ وہ بڑبولا کوچ نہیں ہے، مگر اس نے جو کہا، وہ ثابت کر دیا۔
کوچ اینریکے کا فلسفہ سادہ ہے، کوئی بھی کھلاڑی بڑا سٹار نہیں، سب ٹیم کے لیے دوڑتے ہیں، گیند نہ ہو تو بھی کام کرتے ہیں۔ ایمباپے یہ نہیں مانتا تھا، اس لیے گیا۔ جو رہے انہوں نے دنیا دیکھ لی۔
میں نےفٹ بال ورلڈ کپ کی وجہ سے اس ایشو پر کچھ ریسرچ کرنا شروع کی ہے تو میرے سامنے اینریکے ایک نئے جگمگاتے ماڈل کے طور پر آیا۔ اس کا کوچنگ سٹائل کمال ہے، وہ ڈسپلن کے معاملے میں سخت ترین کوچ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے جدید فٹ بال کو کئی اعتبار سے بدل کر رکھ دیا ہے۔ اینریکے کا کوچنگ ماڈل اور فیلڈ ٹیکٹس ایسی ہیں کہ ان پر الگ سے ایک پوری تحریر لکھوں گا۔ وہ حیران کن کوچ ہے جس کی کوچنگ میں بارسلونا نے بھی کمال کر دکھایا اور اب پی ایس جی نے مسلسل دوسری بار چیمپینز لیگ جیتی ہے جو کسی کرشمے سے کم نہیں۔ طویل عرصے بعد ایسا ہوا۔
اب وہ پہلو جو مجھے سب سے زیادہ بھایا۔ اشرف حکیمی ستائیس سالہ مراکشی کھلاڑی ہیں، نائب کپتان ہیں، اور یورپی فٹ بال کے بہترین رائٹ بیکس میں سے ایک ہیں۔ حکیمی نے خود کہا ہے کہ میں نے مراکش کی نمائندگی کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے میرے والدین آتے ہیں، انہوں نے مجھے مراکشی اور مسلمان گھر میں پالا، اس لیے مجھے وہاں زیادہ سکون ملتا ہے۔ حکیمی ہر رمضان روزے رکھتے ہیں، میچ ہو یا ٹریننگ، فرق نہیں پڑتا۔ گزشتہ برس انہیں افریقہ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، پہلی بار یہ اعزاز کسی ڈیفنڈر کو ملا۔
عثمان دمبیلے گنی نژاد فرانسیسی کھلاڑی ہیں، باقاعدہ روزے رکھتے ہیں۔ فائنل میں جب آرسنل ایک صفر سے آگے تھا تو پنالٹی پر گول کر کے برابری انہوں نے ہی کرائی۔ اس سیزن چیمپئنز لیگ میں چودہ گول اور اسسٹ ان کے نام ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ پہلو بھی ہے۔ فرانسیسی فٹ بال فیڈریشن نے باقاعدہ یہ پالیسی بنا رکھی ہے کہ میچ کے دوران روزہ افطار کرنے کے لیے کھیل نہیں روکا جائے گا، یہ ’غیر جانبداری‘ کے نام پر ہے۔ اس لیے حکیمی اور دمبیلے جیسے کھلاڑی ہاف ٹائم یا میچ کے بعد ہی افطار کر سکتے ہیں۔ جرمنی اور اٹلی میں اس حوالے سے زیادہ لچک ہے، مگر فرانس میں نہیں۔ اس کے باوجود پی ایس جی کلب نے اپنی سطح پر ان کھلاڑیوں کے لیے خصوصی تربیتی نظام، غذائی منصوبہ بندی اور صحت یابی کی سہولتیں فراہم کی ہیں، اور کوچ اینرکے نے کہا کہ رمضان نے پی ایس جی کی کارکردگی پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالا۔ پی ایس جی کے مداحوں نے تو ایک بار سٹیڈیم میں بینر لگایا جس پر لکھا تھا: ’کھجور، پانی کا گلاس، فرانسیسی فٹ بال فیڈریشن کا ڈراؤنا خواب۔‘
اس نکتے نے مجھے انسپائر کیا ۔ یورپ کے سب سے بڑے میدانوں میں لاکھوں شائقین کے سامنے، دنیا کے کیمروں کی چمک میں، یہ نوجوان اپنا مذہبی تشخص نہیں چھوڑتے۔ نہ کوئی شرم، نہ کوئی معذرت۔ یہ وہی یورپ ہے جہاں اکثر مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ اپنی شناخت چھپاؤ، گھل مل جاؤ، ’نارمل‘ بن جاؤ۔ حکیمی اور دمبیلے نے جواب میدان میں دیا، الفاظ میں نہیں۔ پی ایس جی کے سکواڈ میں دو تین اور مسلمان کھلاڑی بھی ہیں، البتہ عثمان اور حکیمی تو سپرسٹار سمجھیں۔ حکیمی نے ایک پنالٹی کک بھی لگائی، اس کے لیے دل سےدعائیں کیں، شکر ہے گول کرنے کامیاب رہا۔
پی ایس جی سے ہارنے والی ٹیم آرسنل نے بھی بہت سوں کو حیران کیا۔ آرسنل کا فائنل تک پہنچنا بھی اس رات کی ایک بڑی کہانی تھی۔ بیس برس بعد فائنل میں پہنچے۔ لیگ مرحلے میں آٹھوں میچ جیتے، پہلی ٹیم بنے جس نے چیمپئنز لیگ کی تاریخ میں یہ کارنامہ کیا، مگر آخری قدم پر پنالٹی میں رہ گئے۔ فٹ بال ہمیشہ انصاف نہیں کرتا، یہی اس کی بے رحمی ہے اور یہی اس کی کشش بھی۔
دس دن کے بعد فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہو رہا ہے۔ اشرف حکیمی مراکش کی ٹیم کا کپتان، عثمان ڈیمبیلے فرانس سے کھیلے گا اور امباپے شائد کپتان ہے فرانس کی ٹیم کا۔ ورلڈ کپ میں رونالڈو بھی ہوگا اور دیگر بڑے سٹارز بھی۔ فٹ بال کا سحر دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے کو ہے۔ تیار ہوجائیں۔

شیئر: