کامن ویلتھ گیمز 2026 میں پاکستانی ایتھلیٹس کی مایوس کن کارکردگی نے کئی سوالات اور تنقید کو جنم دیا ہے۔
ایک طرف اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر سکے تو دوسری جانب 21 سال کی باکسر فاطمہ زہرا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان کے لیے واحد کانسی کا تمغہ جیتا۔
گلاسگو میں 21 پاکستانی کھلاڑیوں نے چھ کھیلوں میں حصہ لیا، مگر پوری مہم صرف ایک کانسی کے تمغے پر ختم ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان کے کھیلوں کے نظام، تیاری اور منصوبہ بندی پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی۔
مزید پڑھیں
-
کامن ویلتھ گیمز 2026: ارشد ندیم تمغے کی دوڑ سے باہر ہو گئےNode ID: 907043
2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان نے دو طلائی، تین چاندی اور دو کانسی سمیت مجموعی طور پر سات تمغے جیتے تھے، جبکہ اس بار 23 جولائی سے 2 اگست تک گلاسگو میں ہونے والے مقابلوں میں قومی ٹیم صرف ایک کانسی کا تمغہ حاصل کر سکی۔
پاکستان کی جانب سے 36 رکنی وفد گلاسگو پہنچا تھا، جس میں 21 کھلاڑی اور 15 آفیشلز شامل تھے۔ قومی ٹیم نے ایتھلیٹکس، باکسنگ، تیراکی، جمناسٹکس، جوڈو اور لان باؤلز میں شرکت کی۔
ایتھلیٹکس میں ارشد ندیم سمیت سات، باکسنگ میں پانچ، تیراکی میں چار، جبکہ جمناسٹکس، جوڈو اور لان باؤلز میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے ملک کی نمائندگی کی۔
فاطمہ زہرا نے پاکستان کی لاج رکھ لی
مجموعی طور پر مایوس کن مہم میں واحد روشن پہلو 21 سالہ باکسر فاطمہ زہرا رہیں، جنہوں نے خواتین کے 60 کلوگرام مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی۔ وہ کامن ویلتھ گیمز میں باکسنگ کا تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں۔
انہوں نے ابتدائی مرحلے میں لیسوتھو کی حریف کو شکست دی، پھر کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی جارڈن ولسن کو 5-0 سے ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
کامن ویلتھ گیمز کے قوانین کے تحت سیمی فائنل میں رسائی کے ساتھ ہی ان کا کانسی کا تمغہ یقینی ہو گیا، اگرچہ وہ فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔
ارشد ندیم امیدوں کا مرکز تھے
پاکستان کی سب سے بڑی امید اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور دفاعی کامن ویلتھ چیمپیئن ارشد ندیم تھے، لیکن وہ اپنی بہترین کارکردگی نہ دکھا سکے۔
برمنگھم میں 90.18 میٹر کی ریکارڈ تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتنے والے ارشد اس بار فائنل میں 77.41 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ نویں نمبر پر رہے اور ٹاپ آٹھ میں بھی جگہ نہ بنا سکے، یوں وہ اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔
ان کی کارکردگی کے بعد کھیلوں کے حلقوں میں یہ بحث دوبارہ شروع ہو گئی کہ عالمی معیار کے ایتھلیٹس کو مسلسل کامیابی کے لیے جدید کوچنگ، سپورٹس سائنس، بحالی، غذائی معاونت اور مضبوط سپورٹ سسٹم کس قدر اہم ہوتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق اولمپک گولڈ میڈل کے بعد اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت تھی۔
باکسر عامر خان کی فاطمہ زہرا کی ستائش
برطانوی پاکستانی سابق عالمی چیمپیئن باکسر عامر خان نے فاطمہ زہرا کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سے پہلی ملاقات اسلام آباد میں ان کی اکیڈمی میں ہوئی تھی، جہاں وہ چیمپیئن شپ کی تیاری کر رہی تھیں۔
عامر خان نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فاطمہ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں مرد و خواتین دونوں کے لیے مزید جدید سپورٹس اکیڈمیز اور تربیتی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان کھلاڑی عالمی سطح پر بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
پاکستان کی مجموعی کارکردگی، خصوصاً ارشد ندیم کی ناکامی، سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث رہی۔
صحافی فیضان لاکھانی نے لکھا کہ ’ارشد ندیم کی کارکردگی کو صرف ایک کھلاڑی کی ناکامی قرار دینا درست نہیں ہوگا، بلکہ یہ پاکستان کے کھیلوں کے نظام کی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عالمی معیار کے ایتھلیٹس کے لیے جدید کوچنگ، سپورٹس سائنس، غذائی منصوبہ بندی، مضبوط سپورٹ سٹاف اور مسلسل بین الاقوامی مقابلے ناگزیر ہیں۔‘
ایکس پر رباب نے بھی کہا کہ ارشد ندیم نے پاکستان کو تاریخی کامیابیاں دی ہیں، اس لیے اس ناکامی کی ذمہ داری صرف ایک کھلاڑی پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
ان کے مطابق ’کھیلوں کے نظام، کوچنگ اور انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری وقت کی ضرورت ہے۔‘
بعض صارفین نے ارشد ندیم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسلم کے نواز نے لکھا کہ ’اس ناکامی میں خود ارشد ندیم کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔‘
دوسری جانب فاطمہ زہرا کی تاریخی کامیابی کو سوشل میڈیا پر بھرپور سراہا گیا۔
رضوانہ انور نے خواتین کے لیے مزید کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا، جبکہ گیل ولیمز نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کھلاڑیوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔











