گلاسگو: کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کرنے والے باکسر قدرت اللہ پُراسرار طور پر غائب
گلاسگو: کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کرنے والے باکسر قدرت اللہ پُراسرار طور پر غائب
منگل 4 اگست 2026 18:50
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
تمام کھلاڑی ایئرپورٹ روانگی کے لیے ہوٹل کی لابی میں جمع ہوئے تو قدرت اللہ غیر حاضر تھے (فائل فوٹو: پی او اے)
پاکستان کی طرف سے کامن ویلتھ گیمز 2026 میں شرکت کے لیے سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو جانے والے نوجوان باکسر قدرت اللہ پُراسرار طور پر غائب ہو گئے ہیں۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے باکسر قدرت اللہ کی روپوشی کا انکشاف اس وقت ہوا جب کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینے والا پاکستانی دستہ وطن واپسی کے لیے تیاری کر رہا تھا۔
تاہم قدرت اللہ کو آخری بار اتوار اور پیر کی درمیانی شب رات قریباً دو بجے ان کے ہوٹل کے کمرے میں دیکھا گیا تھا۔
صبح نو بجے جب تمام کھلاڑیوں کو ایئرپورٹ روانگی کے لیے ہوٹل کی لابی میں جمع ہونے کی ہدایت کی گئی تو وہ غیر حاضر تھے۔
پاکستان کے قومی دستے کی انتظامیہ کے مطابق باکسر قدرت اللہ کا اصل پاسپورٹ اور فلائٹ ٹکٹ ٹیم مینیجر کی تحویل میں ہی محفوظ ہے، جبکہ ان کا تمام سفری سامان اور ذاتی اشیاء ہوٹل کے کمرے میں موجود ملیں۔
اگرچہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے اس معاملے پر اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاہم ’اردو نیوز‘ کے رابطہ کرنے پر صدر فیڈریشن لیفٹیننٹ کرنل (ر) ناصر اعجاز نے کہا کہ وہ معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد ہی اس پر کوئی باقاعدہ ردِعمل دیں گے۔‘
غیر ملکی دوروں پر پاکستانی کھلاڑیوں کے یوں لاپتا ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی متعدد عالمی مقابلوں کے دوران پاکستانی ایتھلیٹس وطن واپسی کے بجائے بیرونِ ملک غائب ہوتے رہے ہیں۔
پاکستانی کھلاڑی کب کب بیرون ملک غائب ہوئے؟
سنہ 2020 سے 2026 کے درمیانی عرصے میں مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے بیرونِ ملک جانے والے سات پاکستانی ایتھلیٹس پُراسرار طور پر غائب ہو چکے ہیں۔
جُون 2022 میں ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ہونے والی 19ویں ’فینا ورلڈ ایکواٹکس چیمپئن شپ‘ (جسے اس وقت عالمی تیراکی چیمپئن شپ بھی کہا جاتا تھا) کے دوران پاکستانی تیراک فیضان اکبر ٹیم کے ہوٹل پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد لاپتا ہو گئے تھے۔
باکسنگ فیڈریشن کے مطابق ’قدارت اللہ کے معاملے کے جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد اس پر ردِعمل دیا جائے گا‘ (فائل فوٹو: گیٹی)
اسی طرح اگست 2022 برطانیہ میں برمنگھم کامن ویلتھ گیمز کے اختتام پر 63.5 کلوگرام کیٹیگری کے باکسر سلیمان بلوچ ٹیم انتظامیہ کی پاسپورٹ تحویل میں ہونے کے باوجود وطن واپسی کی فلائٹ سے چند گھنٹے قبل ہوٹل سے فرار ہوگئے۔
برمنگھم کامن ویلتھ گیمز کے موقع پر 86 کلوگرام کیٹیگری کے قومی باکسر نذیر اللہ خان اگست 2022 میں سلیمان بلوچ کے ہمراہ ہی غائب ہوئے تھے، جو اپنا تمام سامان ہوٹل کے کمرے میں چھوڑ کر ٹیم بس کی روانگی سے چند لمحے پہلے روپوش ہو گئے۔
ایشیئن گولڈ میڈلسٹ باکسر زوہیب رشید کا واقعہ مارچ 2024 میں اٹلی کے شہر بسٹو ارسیزیو میں پیش آیا، جہاں وہ ورلڈ اولمپک باکسنگ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کے دوران اپنی ساتھی خاتون کھلاڑی کی رقم نکال کر ہوٹل سے فرار ہو گئے۔
بعد ازاں جرمنی میں منعقدہ ورلڈ یونیورسٹی گیمز کے موقع پر جولائی 2025 میں پاکستان کا ایک نوجوان ایتھلیٹ غائب ہوا، جو اپنا اصل پاسپورٹ ٹیم انتظامیہ کے پاس جمع ہونے کے باوجود پُراسرار طور پر ٹیم ولیج چھوڑ کر نکل گیا۔
اسی ایونٹ کے دوران جولائی 2025 میں ہی دوسرے پاکستانی سٹوڈنٹ ایتھلیٹ نے بھی اپنے ساتھی کی پیروی کی اور ٹیم انتظامیہ کو مطلع کیے بغیر غیر قانونی طور پر جرمنی میں ہی رُک گئے۔
جُون 2022 میں پاکستانی تیراک فیضان اکبر بڈاپسٹ میں جاری ’فینا ورلڈ ایکواٹکس چیمپئن شپ‘ کے دوران غائب ہو گئے تھے (فائل فوٹو: فینا)
مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کے لیے تمغے حاصل کرنے والے باکسر عثمان وزیر کے مطابق کھلاڑیوں کا بیرونِ ملک یوں روپوش ہونا کوئی انفرادی عمل نہیں، بلکہ کھیلوں کی فیڈریشنز کی بدانتظامی اور ممکنہ ملی بھگت کا شاخسانہ ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی فیڈریشنز پر اپنے من پسند افراد کو بیرونِ ملک لے جا کر غائب کروانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، لیکن آج تک کسی واقعے کی انکوائری رپورٹ عام نہیں کی گئی۔
ان کے مطابق ایسے واقعات بین الاقوامی میدانوں میں ملک کی کامیابیوں کو بھی پردہ ڈال دیتے ہیں۔
اس صورت حال کے منفی اثرات پر بات کرتے ہوئے عثمان وزیر نے بتایا کہ کھلاڑیوں کے یوں غائب ہونے سے پروفیشنل ایتھلیٹس کے لیے ویزوں کا حصول انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور سفارت خانے ماضی کی روپوشیوں کو بنیاد بنا کر ویزے منسوخ کر دیتے ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ کھلاڑیوں کو بیرونِ ملک کے قوانین سے متعلق کوئی پیشہ ورانہ اگاہی یا تربیت نہیں دی جاتی۔ عثمان وزیر سمجھتے ہیں کہ جب تک فیڈریشنز میں اندرونی دھڑے بندی ختم نہیں ہوتی اور من پسند افراد کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، ایتھلیٹس کی بیرونِ ملک روپوشی کے ایسے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔