سلمان خان کی زندگی پر فلم بنانے کا تنازع، اداکار نے عدالت سے فلم روکنے کی درخواست کر دی
سلمان خان کی زندگی پر فلم بنانے کا تنازع، اداکار نے عدالت سے فلم روکنے کی درخواست کر دی
جمعہ 19 جون 2026 19:56
سلمان خان نے کہا کہ ’انہیں میری زندگی پر فلم بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔‘ (فوٹو: انسٹاگرام)
بالی وُڈ سپر سٹار سلمان خان نے اپنی زندگی اور شخصیت کو مبینہ طور پر بنیاد بنا کر بنائی جانے والی فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل آف لیگیسی‘ کے خلاف قانونی کارروائی تیز کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے فلم کی نمائش، تشہیر اور ریلیز روکنے کی درخواست کر دی ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق جمعے کو دہلی ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی، جہاں سلمان خان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ’فلم ساز اداکار کی زندگی اور عوامی شناخت کو ان کی اجازت کے بغیر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘
سلمان خان کے وکیل، ایڈووکیٹ سندیپ سیٹھی نے عدالت کو بتایا کہ ’فلم کا ٹیزر پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے اور فلم سازوں کو اداکار کی زندگی پر فلم بنانے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔‘
سلمان خان نے وکیل ذریعے عدالت میں کہا کہ ’وہ میری زندگی پر فلم بنا رہے ہیں اور قانونی نوٹس کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہیں میری زندگی پر فلم بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ہم عبوری حکمِ امتناع چاہتے ہیں کیونکہ فلم کا ٹیزر پہلے ہی ریلیز ہو چکا ہے۔‘
دوسری جانب فلم سازوں کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا اور مؤقف اپنایا کہ انہیں درخواست کی مکمل کاپی چند روز قبل ہی موصول ہوئی ہے۔ تاہم سلمان خان کے وکیل نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام فریقین کو پہلے ہی نوٹس بھجوایا جا چکا ہے۔‘
سماعت کے دوران فلم سازوں کے وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ’جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں‘، جس کے حوالے سے انہوں نے پولیس میں ایف آئی آر بھی درج کروا رکھی ہے۔
تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟
سلمان خان کا مؤقف ہے کہ فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل آف لیگیسی‘ اور اس کا تشہیری مواد سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر معلوم ہوتا ہے، جس میں ان کا نام ماضی میں سامنے آیا تھا۔
اگرچہ فلم میں سلمان خان کا نام براہِ راست استعمال نہیں کیا گیا، لیکن اداکار کا کہنا ہے کہ پوسٹرز، پروموشنل مواد اور عوامی بیانات سے انہیں آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مئی 2026 میں جاری کیے گئے ایک پوسٹر میں ایسا کردار دکھایا گیا جو سلمان خان سے مشابہت رکھتا ہے اور اس کے ہاتھ میں اداکار کے مشہور نیلے بریسلٹ جیسا بریسلٹ بھی موجود ہے۔
سلمان خان کے مطابق فلم میں ایک کردار کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے، حالانکہ اسلحہ ایکٹ سے متعلق مقدمے میں انہیں پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے، جس سے عوام میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
لارنس بشنوئی کے حوالے بھی شامل
درخواست کے مطابق فلم کے پروڈیوسر امیت جانی کی جانب سے دیے گئے انٹرویوز، سوشل میڈیا پوسٹس اور عوامی بیانات میں کالا ہرن کیس اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کا حوالہ بھی دیا گیا، جسے سلمان خان نے اپنی شناخت اور شہرت کو استعمال کرکے تشہیر حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
کیس کی اگلی سماعت کب ہوگی؟
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سلمان خان کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ تمام عدالتی دستاویزات کی مکمل نقول مخالف فریق کو فراہم کریں۔ کیس کی مزید سماعت یکم جولائی کو متعلقہ بینچ کے سامنے ہوگی۔
یہ مقدمہ اب بالی ووڈ اور قانونی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے، کیونکہ اس میں شخصی شناخت، شہرت کے حقوق اور حقیقی واقعات پر مبنی فلموں کی قانونی حدود جیسے اہم سوالات زیرِ بحث ہیں۔